استغفارکی برکتیں

 اسلام الدین عبد الحکیم ریا ضی( کویت )

islamuddinmakki@gmail.com

(فَقلتُ استَغفِرُوا رَبَّکُم اِنَّہُ کَانَ غَفَّاراً، یُرسِلِ السَّمَاء عَلَیکُم مِّدرَاراً ، وَیُمدِدکُم بِاَموَالٍ وَبَنِینَ وَیَجعَل لَّکُم جَنَّاتٍ وَیَجعَل لَّکُم اَنہَاراً ﴿ (سورة نوح 10۔12)

ترجمہ:”اور میں نے کہا: اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ (اور معافی مانگو )بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، تمہیں مال اور اولادسے نوا زے گا، تمہاریے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہر یں جاری کر دے گا۔“

تشر یح:یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ اللہ سے بغا وت کی روش صرف آخرت ہی میں نہیں، دنیامیں بھی انسان کی زندگی کو تنگ کر دیتی ہے،اور اس کے برعکس اگر کوئی قوم نافر مانی کے بجائے ایمان وتقوی اور احکام الہی کی اطاعت کا طریقہ اختیار کرے تو یہ آخرت ہی میں نا فع نہیں ہے بلکہ دنیا میں بھی اس پرنعمتوں کی بارش ہو نے لگتی ہے۔

سورہ طٰہ میں ارشاد ربانی ہے:” اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیامیں تنگ زند گی ہو گی اورقیا مت کے روز ہم اسے اندھا اٹھا ئیں گے“(سورہ طٰہ، آیت:124)

سورہ مائدہ میں اہل کتا ب کو خطاب ہے :”اور اگر ان اہل کتاب نے توراةاور انجیل اور ان دوسر ی کتا بوں کو قائم کیا ہو تا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں توان کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا“ ۔(سورہ مائدہ آیت 66) سورہ اعراف میں فرمایا: ” اور اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقوی کی روش اختیار کر تے تو ہم ان پرآسمان سے اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے“۔(سورہ اعراف آیت96)

سورہ ہود میں ہے کہ حضرت ہود ںنے اپنی قوم کو خطاب کر کے فر ما یا: ”اور اے میری قوم کے لوگو! اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسا ئے گا اور تمہاری موجو دہ قوت پر مزید قوت کااضا فہ کرے گا“۔ (سورہ ہود آیت 53)

خود نبی صل اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بھی اسی سورہ ہود میں اہل مکہ کو مخاطب کر کے یہ بات فرمائی گئی :”اور یہ کہ اپنے ر ب سے معافی چاہو ، پھر اس کی طرف پلٹ آﺅ تو وہ ایک مقررہ وقت تک تم کو اچھا سامانِ زندگی عطا کردے گا“ ( سورہ ہود آیت 3)۔

حدیث میں آتا ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے قریش کے لوگوں سے فرمایاکہ ”ایک کلمہ ہے جس کے تم قائل ہو جاﺅ تو عرب وعجم کے ما لک بنا دئیے جاﺅ گے“۔ (طبرانی وا بن سعد)

قرآن مجید کی اسی ہدا یت پر عمل کرتے ہوئے ایک مرتبہ قحط کے موقعہ پر حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے اور صرف استغفار پر اکتفا فرمایا ۔لوگوںنے عرض کیا: امیر المومنین! آپ نے بارش کے لیے تودعا کی ہی نہیں۔فرمایا:میں نے آسمان کے ان دروازوں کوکھٹکھٹا دیا ہے جہاںسے با رش نازل ہوتی ہے، اور پھر سورہ نوح کی یہ آیات بینات لوگوں کو پڑھ کر سنائیں۔ (ابن جریر۔ابن کثیر)

اسی طرح ایک مرتبہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کی مجلس میں ایک شخص نے خشک سالی کی شکایت کی ۔ انہوں نے کہا :اللہ سے استغفار کرو۔ دوسرے شخص نے تنگ دستی کی شکا یت کی، تیسرے نے کہا: میرے ہاں اولاد نہیں ہوتی، چوتھے نے کہا:میری زمین کی پیدا وار کم ہورہی ہے، ہر ایک کو وہ یہی جواب دیتے چلے گئے کہ استغفار کرو۔ لوگوں نے کہا: یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ سب کو مختلف شکا یتوں کا ایک ہی علاج بتا رہے ہیں ؟جواب میں انہوں نے سورہ نوح کی مذکورہ آیات تلاوت کیں۔ (کشاف)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*