آپ کے مسائل اوران کا حل

 غیرمسلم کی دعوت قبول کرنے کا حکم

سوال :دعوت کا تقاضا ہے کہ غیرمسلموں کے ساتھ شخصی تعلق مضبوط کیا جائے تاکہ اجنبیت دور ہواور دعوت کے لیے راہ ہموار ہوسکے۔ تو اگر کسی غیرمسلم نے مجھے کسی خوردونوش پر مدعو کیا جو حلال ہو تو کیا میرے لیے دعوت قبول کرناجائز ہے ؟
جواب : اگر مسلمان کی جانب سے غیرمسلم کے ساتھ اخوت وبھائی چارہ اورمحبت کے تعلقات ہوںتویہ حرام ہیں،ایسے تعلقات رکھنا جائز نہیں ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
”اللہ تعالی پر اورقیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ تعالی اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیںگے، گرچہ وہ ان کے باپ،یاان کے بیٹے ،یاان کے بھائی یا ان کے کنبہ وخاندان کے عزیزہی کیوں نہ ہوں“۔ (المجادلة 22) ۔اوراگر ان کے تعلقات کا معاملہ صرف حلال اشیاءکی خرید وفروخت اورحلال کھانے کی دعوت ،اورمباح اشیاءکے تحفے اورہدیے قبول کرنے تک محدود ہوں اور ان کا مسلمان پر کسی قسم کا اثر بھی نہ پڑے توپھر اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ مباح ہیں ۔ 

 غیرمسلم کا ترجمہ قرآن چھو نا

سوال :میرے پاس قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ دستیاب ہے کیا اسے کوئی غیر مسلم چھو سکتا ہے ؟
جواب : غیرمسلم کے لیے ترجمہ قرآن کو چھونے میں کوئی حرج نہیں، چاہے ترجمہ انگریزی زبان میں ہو یا کسی اور زبان میں، اگر اسے غیرمسلم چھوتا ہے یا ایسا آدمی چھوتا ہے جو باوضو نہیں ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ترجمہ‘ قرآن کاحکم نہیں رکھتا بلکہ تفسیر کے حکم میں ہے، اورتفسیر کی کتابوںکو غیرمسلم اور جو طہارت سے نہ ہوں سب چھو سکتے ہیں یہی حکم حدیث، فقہ اورعربی زبان کی کتابوں کا ہے ۔

لیکچر سننے کے لیے غیرمسلم کا مسجد میں داخلہ

سوال :کیا دعوت پر مشتمل لیکچر سننے کے لیے غیرمسلم کے لیے جائز ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہو؟
جواب :جی ہاں! جائز ہے جبکہ مامون ہوں کہ غیرمسلم مسجد کو گندہ نہ کریں گے۔ کیونکہ یہ داخلہ مصلحت کے حصول کے لیے ہے جس سے مسجد کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اسی طرح غیرمسلم کے لیے مسجد میں کسی طرح کی اصلاح وترمیم کے لیے داخل ہونا اورٹھہرنا جائز ہے ۔ کیونکہ اس میں مسجد کی مصلحت ہے، اسی طرح لیکچر سننے کے لیے بھی جانا جائز ہے جو ممکن ہے کہ اس کی ہدایت کا سبب بن جائے ۔ خود اللہ کے رسول انے ثمامہ بن اثال کو مسجد ہی میں باندھا تھا ۔ 

فرض اورسنت نمازوں کی ادائیگی میں فرق

سوال : کیافرائض اورسنتوں کی ادئیگی میں کوئی فرق ہے ؟ مثلاًجب ہم ظہر کی چاررکعت فرض ادا کرتے ہیں تودو رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ ملاتے ہیں جبکہ باقی دورکعت میں صرف سورة فاتحہ پڑھتے ہیں ،اب اگرہمیں ظہر میں فرض سے قبل چاررکعت سنت کی ادائیگی کرنی ہو تو کیا پہلی دورکعت میں سورة فاتحہ کے بعد سورة ملائیں گے اور آخری دو رکعت میں صرف سورة فاتحہ پڑھیں گے ۔براہ کرم بالتفصیل جواب دیں ۔ (آفتاب عالم ندوی ۔کٹکو، صبحان )
جواب : افضل یہ ہے کہ رات اوردن کی سنتیںاورنوافل دو دو رکعت کرکے ادا کئے جائیں کیوںکہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم  کا فرمان ہے : صلاة اللیل والنھار مثنی مثنی ”رات اور دن کی نمازیں دو دو رکعت کرکے ادا کی جائیں“ (احمد، ابوداود، ترمذی،نسائی ، ابن ماجہ) اور ایسی حالت میں دونوں رکعتوںمیںسورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ بھی پڑھنی چاہیے ۔
البتہ ظہر کی چار رکعات کو ایک سلام میں بھی ادا کرنے کی گنجائش ہے۔ اس حدیث کی بنیاد پرکہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم زوال کے بعد چاررکعت پڑھتے تھے اورآخری رکعت میں ہی سلام پھیرتے تھے ۔ “۔ (ترمذی۔ وقال الالبانی : اسنادہ صحیح )
 لہذا اگرکوئی ایک ہی ساتھ چار رکعات ادا کررہا ہوتو اس میں بعض علماءتشہد کرنے کے قائل ہیں اوراس صورت میں دوسری آخری رکعتوںمیں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ نہیں پڑھی جائے گی جبکہ دوسرے علماءتشہد کے بغیر ایک ہی سلام میں چاررکعت ادا کرنے کے قائل ہیں اوراس صورت میں چاروںرکعتوںمیں سورہ فاتحہ کے بعد سورتیں پڑھی جائیں گی ۔بہرکیف اس مسئلہ میں وسعت اورگنجائش ہے ۔

دواحادیث کے بیچ تطبیق کی صورت

سوال :سنجیدگی یا مذاق میںنکاح ،طلاق اور رجعت معتبر سمجھی جاتی ہے ۔جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ بغیرولی اور دو گواہوں کے نکاح نہیں۔ان دونوںمیںتطبیق کی کیا صورت ہوسکتی ہے دلائل کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔؟         (شعیب رومی، وفرہ )
جواب :جمہور اہل علم کی رائے ہے کہ مذاق یا سنجیدگی کی طلاق ،نکاح اوررجعت معتبر سمجھی جائے گی جیسا کہ حدیث ہے: ”تین چیزیں سنجیدگی میں بھی حقیقت ہیں اورمذاق میں بھی حقیقت ہیں‘ نکاح ،طلاق اوررجوع کرنا“۔ (ابوداو¿د، ترمذی، ابن ماجہ وحسنہ الالبانی فی الارواء1826 )
اورمنطقی ناحیہ سے بھی طلاق واقع ہوجانی چاہیے ورنہ لوگ دل لگی کرنے کا بہانا بناکر شریعت کے ساتھ کھلواڑکرنے لگیںگے کہ میراارادہ طلاق کا تو نہیں تھا۔ رہی دوسری حدیث کہ” بغیرولی اوردو گواہ کے نکاح صحیح نہیںہوتا“تویہ بھی صحیح ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں:لا نکاح الابولی وشاھدی عدل (صحےح الجامع 7557) ”ولی اوردومنصف گواہ کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ۔ “
 اوردونوںاحادیث میں اصلاً کوئی تعارض نہیں،کیونکہ ولی اوردو گواہوں کی موجودگی ہر حالت میں ضروری ہے ،جب سنجیدگی میں نکاح ہورہا ہوتو وہاںصحت نکاح کے لیے ولی اور دو گواہ کی ضرورت پڑتی ہے تو مذاق میں یہ لفظ بولتے وقت بدرجہ اولی ولی اور دوگواہ کی موجودگی ضروری ہوگی،خلاصہ یہ کہ اگر کوئی شخص ولی اوردومنصف گواہ کے سامنے سنجیدگی یا مذاق میں نکاح کے الفاظ بول دیتا ہے تو اس کا نکاح معتبرمانا جائے گا۔

دوران خطبہ امام کی دعاپر ہاتھ اٹھاکرآمین کہنا

سوال:جمعہ کے دن جب امام دوران خطبہ دعا کررہا ہوتا ہے تو لوگ ہاتھ اٹھاکر آمین کہتے ہیں ، کیا ہاتھ اٹھانے کی مشروعیت حدیث سے ثابت ہے ؟ ( شیخ عبدالرشید،وفرہ )
جواب :یہ مسئلہ جب شیخ ابن عثیمین ؒ سے پوچھا گیا کہ جمعہ کے دن دوران خطبہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کا حکم کیا ہے ؟ توشیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا: جمعہ کے دن دوران خطبہ ہاتھ اٹھانا مشروع نہیں، جب بشر بن مروان نے خطبہ جمعہ میں دعاءکے لیے ہاتھ اٹھایا تو صحابہ نے ان پرنکیر کیا تھا.
لیکن اس سے بارش کے لیے دعاءکو مستثنی مانا جاتا ہے، کیونکہ نبی کریم انے بارش کے لیے دعاءکرتے ہوئے خطبہ جمعہ میں ہاتھ اٹھایا تھا، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہاتھ اٹھائے. اس کے علاوہ خطبہ¿ جمعہ میں دعاءکے وقت ہاتھ نہیں اٹھانے چاہئیں۔. (فتاوی ارکان اسلام392 )
شیخ عبدالرووف بن عبدالحنان الا¿شرفی نے اس موضوع پرحکم رفع الایدی فی دعاءخطبة الجمعةکے نام سے ایک کتاب تحریر کی ہے جس میں انہوں نے دوران خطبہ امام کی دعا پر ہاتھ اٹھاکر آمین کہنے کو بدعت قراردیا ہے ۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*