خوشگوار زندگی کے راہنما اصول (2)

ڈاکٹرحافظ محمداسحاق زاہد (کویت )

تیسرا اصول : تقوی
تقوی دنیا کے دکھوں ، تکلیفوں اور پریشانیوں سے نجات پانے کیلئے اور خصوصا ان لوگوں کیلئے ایک نسخہ کیمیا ہے جو بے روزگاری ، غربت اور قرضوں کی وجہ سے انتہائی پریشان حال اور سرگرداں رہتے ہوں ۔ تقوی سے مراد ہے اللہ تعالی سے ایسا خوف کھانا جو بندے کو اللہ تعالی کی نافرمانی اور حرام کام سے روک دے ۔ اور جب کسی انسان کے دل میں اللہ تعالی کا ایسا ڈر اورخوف پیدا ہو جاتا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ پرہیزگار بن جاتا ہے اور تمام حرام کاموں سے اجتناب کرنے لگ جاتا ہے تو اس سے اللہ تعالی کا یہ وعدہ ہے کہ ﴾ وَمَن یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجعَل لَّہُ مَخرَجًا وَّیَرزُقہُ مِن حَیثُ لاَ یَحتَسِبُ ﴿ [ الطلاق : 2۔ 3] ” اور جو شخص اللہ تعالی سے ڈرتا ہے اللہ اس کیلئے مشکلات سے نکلنے کی کوئی نہ کوئی راہ پیدا کردیتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاںسے اسے وہم وگمان بھی نہیں ہوتا ۔ “
اور فرمایا :﴾ وَمَن یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجعَل لَّہُ مِن امرِہ یُسرًا ﴿ [ الطلاق : 4] ” اور جو شخص اللہ تعالی سے ڈرتا ہے اللہ اس کیلئے اس کے کام میں آسانی پیدا کردیتا ہے ۔ “
نیز فرمایا : ﴾ وَلَو أن أهل القرى آمنوا واتقوا لفتحنا عليهم بركات من السماء والأرض (عراف : 96] ” اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لاتے اور اللہ کی نافرمانی سے بچتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے ۔ “
ان تمام آیات میں خوشحالی اور کامیاب زندگی کے حصول کیلئے ایک عظیم اصول متعین کردیا گیا ہے اور وہ ہے اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے اس کی نافرمانی سے اجتناب کرنا کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ تعالی بندہ ¿ مومن کیلئے ہر قسم کی پریشانی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے ، اس کے ہر ہر کام کو آسان کر دیتا ہے اور اوپر نیچے سے اس کیلئے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے ۔
اب آئیے ذرا اس اصول کی روشنی میں ہم اپنی حالت کا جائزہ لے لیں …. ایک طرف تو ہم خوشحال اور کامیاب زندگی کی تمنا رکھتے ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالی کی نافرمانیاں بھی کرتے رہتے ہیں ۔ مثلا نمازوں میں سستی اور غفلت ، جھوٹ ، غیبت ، چغل خوری ، سودی لین دین ، والدین اور قرابت داروں سے بد سلوکی ، فلم بینی اور گانے سننا وغیرہ بھلا بتلائیے کیا ایسی حالت میں خوشحالی وسعادتمندی نصیب ہو سکتی ہے ؟ اور کیا اس طرح پریشانیوں کا ازالہ ہو سکتا ہے ؟
ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ نافرمانیوں کی موجودگی میں خوشحالی کا نصیب ہونا تو دور کی بات ہے موجودہ نعمتوں کے چھن جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے ۔ اِس کی واضح دلیل حضرت آدمں اور ان کی بیوی حضرت حواءعلیہا السلام کا قصہ ہے ۔ اللہ تعالی نے ان دونوں کو جنت کی ہر نعمت وآسائش سے لطف اندوز ہونے کی اجازت دی، محض ایک چیز سے منع کردیا کہ تھیں اس درخت کے قریب نہیں جاناہے ۔ لیکن شیطان کے ورغلانے پر جب انہوں نے اس درخت کو چکھا تو اللہ تعالی نے جنت کی ساری نعمتوں سے محروم کرکے انہیں زمین پر اتار دیا اوران کی ایک غلطی جنت کی ساری نعمتوں سے محرومی کا سبب بن گئی ۔ توآج جبکہ ہم گناہ پر گناہ کئے جا رہے ہیں اور پھر بھی خوشحالی کے متمنی ہوتے ہیں ! یہ یقینی طور پر ہماری خام خیالی اورغلط فہمی ہے ۔ اگر ہم واقعتا ایک خوشحال زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اللہ تعالی کی نافرمانیوں سے قطعی اجتناب کرنا ہو گا ۔
اسی طرح ابلیس کا قصہ ہے ۔ اللہ تعالی نے اسے حضرت آدم ںکے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا لیکن اس نے تکبر کرتے ہوئے سجدہ ریز ہونے سے انکار کردیا ۔ پھر نتیجہ کیا نکلا ؟ اللہ تعالی نے اسے ہمیشہ کیلئے ملعون قرار دے دیا ۔ یہ صرف ایک سجدہ چھوڑنے کی سزا تھی اور آج بہت سارے مسلمان کئی سجدے چھوڑ دیتے ہیں ، پانچ وقت کی فرض نمازوں میں من مانی کرتے ہیں ۔ تو کیا اس طرح ان کی زندگی کامرانیوں سے ہمکنار ہو سکے گی؟ ایں خیال است ومحال است
بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ آج بہت سارے لوگ کئی برائیوں کو برائیاں ہی تصور نہیں کرتے اور بلا خوف وتردد ان کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سنجیدگی سے اپنا جائزہ لیں اور اپنی اصلاح کرنے کی کوشش کریں ۔ جب ہم خود اپنی اصلاح کریں گے اور اپنا دامن اللہ تعالی کی نافرمانیوں سے بچائیں گے تو یقینا اللہ تعالی بھی ہماری حالت پہ رحم فرمائے گا اور ہمیں خوشحال زندگی نصیب کرے گا ۔
حضرت انس رضى الله عنه  تابعین کو مخاطب کرکے کہا کرتے تھے :
إنكم لتعملون أعمالا هي أدق في أعينكم من الشعر كنا نعدها في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم من الموبقات [ البخاری ۔ الرقاق باب ما یتقی من محقرات الذنوب :6493]
” آج تم ایسے ایسے عمل کرتے ہو جو تمھاری نگاہوں میں بال سے زیادہ باریک (بہت چھوٹے ) ہیں جبکہ ہم انہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے زمانے میں ہلاک کرنے والے گناہوں میں شمار کرتے تھے ۔ “
یہ تابعین کے دور کی بات ہے جو کہ صحابہ کرام  رضوان الله عليهم اجمعين  کے دور کے بعد بہترین دور تھا ۔ اور آج ہمارے دور میں خدا جانے کیا کچھ ہوتا ہے ، بس اللہ کی پناہ ! (جاری)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*