دورجدید کے چیلنج اور ہماری ذمّے داریاں

احمدعلی اختر

 ہروہ نظام جو وقت کے نظام کو بدل کر کوئی نظام قائم کرتا چاہتاہے، اسے بے شمارچیلنجوںکا سامنا کرناپڑتا ہے۔ نئے نظام کی پکار پر جمے جمائے نظام کے ہم نوائوں اور علم برداروں کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ اس نئی آواز کو دبانے کے لیے کمربستہ ہوجاتے ہیں۔

اسلام کیاہے؟

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ یہ ہرشعبۂ زندگی میں ایک انقلاب چاہتاہے اور زندگی کی جزئیات تک کو بندگی رب کے تقاضوں کے مطابق بدل ڈالنا چاہتاہے۔ یہ پکار اور دعوت ایسی ہمہ گیر ہے کہ اس سے وقت کے نظام سے وابستہ بے شمار لوگوں کے مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ مگر سب سے زیادہ ضرب ان لوگوں کے مفادات پر پڑتی ہے، جو اس نظام کے سرپرست اور کارساز ہوتے ہیں اور اس نظام میں اپنی خدائی اور اقتدار کاسکہ چلاتے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو اسلام کو ہمیشہ چیلنجوںکا سامنا رہاہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت حق کے مقابلے میں نمرود کھڑاہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں فرعون سدراہ بنا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے قبیلہ قریش کے سرداران، رؤساے مکہ اور خانہ کعبہ کے منصب داروںاور متولیوں کی جماعت اٹھ کھڑی ہوئی۔ جب آں حضرت ﷺ ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ پہنچے تو منافقین اور یہود ایک چیلنج بن کر سامنے آئے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو روم و ایران کی عظیم الشان سلطنتوںاور اپنے وقت کی دو بڑی طاقتوں (Super Powers)کے چیلنجوں کاسامنا کرناپڑا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور خلافت میں ارتداد اور مانعین زکوٰۃ کافتنہ اٹھا، یہ بھی ایک چیلنج ہی تھا، جس کا مقابلہ حضرت ابوبکرؓ نے آہنی عزم کے ساتھ کیا۔

ایک اہم چیلنج

پوری تاریخ اسلام میں بے شمار فتنے اور چیلنج سامنے آتے رہے، جن کا مقابلہ مسلمان اپنے اپنے دور میں اپنی اپنی طاقت اور صلاحیت کے مطابق کرتے رہے۔ ان میں بعض چیلنج ابھی تک چیلنج بنے ہوئے ہیں اور ایک عرصے سے ہماری سعی و جہد اور تعمیری صلاحیتوں کو للکار رہے ہیں۔ مگر صورت حال ابتر سے ابتر ہوتی جارہی ہے۔ ان میں سے ایک بڑا چیلنج ہمارا افتراق و انتشار ہے۔ ہماری اجتماعیت کاٹوٹ جانا اور بکھر جانا ہے۔ بڑی قربانیوں اور جدوجہد کے بعد جس مثالی اجتماعیت کی داغ بیل رسول اکرمﷺ نے ڈالی تھی اور جسے خلفاے راشدین رضی اللہ عنہم نے پروان چڑھایاتھا وہ خاندانی خلافت میں تبدیل ہوکر یک گونہ کم زور بنی۔ پھر بھی ساری دنیا کے مسلمان اس خاندانی خلافت پرراضی ومطمئن رہ کر مجتمع تھے۔ لیکن یہ اجتماعیت بھی نظام کفر کے علم برداروںکو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ چناں چہ ریشہ دوانیاں اور سازشیں شروع ہوئیں اور خلافت عثمانیہ پارہ پارہ ہوگئی۔ اس خلافت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے اپنے ملک میں بھی خلافت تحریک بڑے زور وشوراور جوش و خروش سے شروع ہوئی، مگر اے بساآرزو کہ خاک شدہ۔ خلافت کیا قائم ہوتی، انتشار کی لَے اور بڑھتی ہی گئی،ٹوٹنے اور بکھرنے کاسلسلہ درازہوتاگیا، مسلکوں کی تفریق اور شدت پسندی، برادرانہ عصبیت اور جماعتوں کی باہمی کشاکش نے ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ کر رکھ دیا اور جب اجتماعیت نہ رہی تو تربیت کانظام بھی بکھرگیا اور مسلمان ہر طرح کی تربیت و رہ نمائی سے بے نیاز ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہواکہ انھیں دشمن طاقتیں بڑی آسانی سے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے لگیں اور ایک دوسرے سے لڑانے لگیں۔ میرے نزدیک کل بھی وقت کابڑا چیلنج یہی تھا اور آج بھی سب سے بڑا چیلنج یہی ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ ہم اسی صورت میں کرسکتے ہیں کہ اپنے اختلافات کو دور کرکے یا جزوی و فروعی اختلافات کو باقی رکھتے ہوئے ایک نقطۂ اتحاد پر جمع ہوں۔اگر اس کم زوری پر ہم قابو نہ پاسکے تو ہم پھروقت کے کسی چیلنج اور کسی طاقت کاہم مقابلہ نہ کرسکیں گے۔

موجودہ صورتِ حال میں ہماری ذمّے داری

موجودہ صورت میں حالات کاگہراتجزیہ کرکے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے عالمی انتشار اور طوائف الملوکی کے چیلنج کامقابلہ کرنے کے لیے ہم کیا حکمت عملی اختیارکریں۔ جہاں تک تذکیر و نصیحت اور سمجھانے بجھانے کا سوال ہے، ہم اس پہلو سے تو ساری دنیا کے مسلمانوں کی عامۃ المسلمین کی، علما اور دانشوروں کی، امرائ اور بادشاہوں کی، انفرادی اور اجتماعی ہر سطح پر جو موقع میسر ہوتذکیر کریں اور برابر کرتے رہیں لیکن مشاہدہ بتاتا ہے اور تاریخ کی شہادت تصدیق کرتی ہے کہ بالعموم زوال آمادہ قوموں میں اس طرح کی تذکیر و نصیحت نتیجہ خیز نہیںہوتی ہے۔ خطبۂ جمعہ کے ذریعے اور دیگر مواقع پر امت کے علمائ اور صلحائ تذکیر اور یاد دہانی کافریضہ انجام دیتے رہتے ہیں اور لوگ اپنی روش پر قائم رہتے ہیں۔ اس لیے عمومی تذکیر کے ساتھ دنیا بھر کی تحریکات اسلامی کو اپنے اپنے دائرے میں مضبوط اسلامی اجتماعیت کو پروان چڑھانے کے لیے بھرپور کوشش کرنی چاہیے اور ایسی عملی نظیر قائم کرنی چاہیے، جسے دیکھ کر خواب غفلت میں مدہوش ملت اسلامی کے افراد کی آنکھیں کھل جائیں اور وہ اس اجتماعیت کو قوت پہنچانے کے لیے آگے آئیں اور اپنا دست تعاون دراز کریں۔ اِن شائ اللہ تحریکات اسلامی کے دائروں میں پروان چڑھتی ہوئی یہ اجتماعیت ایک دن مسلمانان عالم کی شیرازہ بندی بھی کرسکے گی اور اپنے اپنے علاقوں میں وقت کے چیلنجوںکامقابلہ بھی۔

ایک اور چیلنج عرصہ دراز سے مسلمانوں کے لیے دردسر ہے، وہ ان کا معاشرتی بگاڑ ہے۔ شادی بیاہ کے طورطریقوں میں غیرشرعی اور مسرفانہ رسموں اور رواجوںکی پیروی، فضول خرچیوں اور نمائشی کاموں میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا، رشتوں کے لیے برادریوں کی حدبندیاں قائم کرنا اور مطالبات کی فہرست پیش کرنا، بے پردگی اور بے حجابی کی طرف بڑھتے قدم کے ساتھ محرم کے قرآنی تصورات و تعلیمات سے یکسرانحراف کرتے ہوئے مردوں کا ہر عورت رشتے دار سے اور عورتوں کا ہر مرد رشتے دار سے بے تکلفانہ اختلاط اورمیل جول اور نہ جانے کتنی خرابیاں ہیں جومسلم معاشرے میں اس طرح رچ بس گئی ہیں کہ ان سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ خاص طور سے برصغیر ہندو پاک کے مسلم معاشرے کی جوحالت ہم دیکھ رہے ہیں، وہ حددرجہ افسوس ناک ہے۔ اصلاح رسوم کی کتنی ہی تحریکیں اٹھیں مگر کام یابی سے ہم کنار نہ ہوسکیں۔ مسلم معاشرے کایہ بگاڑ آج بھی ایک زندہ و تواناچیلنج ہے، جو ہماری تعمیری صلاحیتوںاور کوششوں کو للکار رہاہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی غورو فکر، تبادلۂ خیال اور مشاورتی افہام وتفہیم کے بعد تعمیری اور تحریکی ذہن رکھنے والے لوگوں کو ایک حکمت عملی طے کرکے اقدام کرنا چاہیے اور اس وقت تک پیش قدمی جاری رکھنی چاہیے جب تک کہ کام یابی قدم نہ چوم لے۔ اس سلسلے میں نوجوان نسل ﴿لڑکا اور لڑکی دونوں﴾ کی ذہن سازی اور فکری تطہیر کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس کے لیے جابہ جا نوجوان لڑکوں کے علاحدہ علاحدہ چھوٹے چھوٹے تربیتی اجتماعات اورٹریننگ کیمپ بڑے پیمانے پر اور تسلسل کے ساتھ منعقد کرکے ان کی ذہن سازی کرنا مناسب ہوگا۔ ان تربیتی اجتماعات میں محض نصیحت نہ کی جائے، بل کہ اظہار خیال کا موقع دے کر پروگرام میں عملاً انھیں Involveکیاجائے تاکہ ان کی دلچسپی نہ صرف یہ کہ برقرار رہے ، بل کہ بڑھتی جائے۔

آج کے نئے چیلنج

اب میں وقت کے ان نئے چیلنجوںکاذکر کرناچاہتاہوں جو اسلام اور تحریک اسلامی ہی کو نہیں مسلمانوں میں بچے کھچے دینی آثار اور ان کے تہذیبی تشخص کو بھی یکسر مٹادینے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے بڑا چیلنج امریکی استعمار کانیوورلڈ آرڈر (New World Order)ہے جو بڑی تیزی سے ساری دنیا میں نافذ ہورہاہے۔ جب تک سوویت روس کی قیادت میں اشتراکی بلاک ایک زندہ و توانا طاقت کی حیثیت سے دنیا میں موجود تھا، امریکی استعمار کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تھا۔ دونوں کے درمیان نظریاتی جنگ اور سائنسی و حربی میدان میں مقابلہ آرائی اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش Cold Warکے نام سے مشہور تھی۔ یہ دراصل نظام باطل کے دو علم برداروں اور وقت کی دو فرعونی طاقتوں کی باہمی آویزش تھی جو بالآخر سوویت روس کی شکست و ریخت پر منتج ہوئی۔ ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے سوویت روس کے زوال کے بعد اب امریکی استعمار کی راہ میں ، بہ الفاظ دیگر اس سرمایہ دارانہ استعماریت کی راہ میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں رہی جس کی سرپرستی امریکہ کرتا ہے۔ چناں چہ دنیا کے سارے اصول و نظریات اور ساری تہذیبیں آہستہ آہستہ امریکی استعمار کے مقابلے میں مغلوب ہوتی جارہی ہیں۔ دنیا کے تمام لوگ خواہی نہ خواہی حالات کے دبائو کے تحت امریکہ کے ذہنی، فکری، تہذیبی، اقتصادی اور سیاسی غلامی قبول کرتے جارہے ہیں۔ سوائے ایک طاقت کے جس کا نام اسلام ہے۔ یہ وہ طاقت ہے، جس سے امریکہ پر ایک خوف طاری ہے۔ یہ خوف ساری دنیا میں پھیلی ہوئی مسلمانوں کی کثیر جمعیت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اسلام کے طاقتور اور بے لچک اصولوں کی وجہ سے ہے۔ اس کی کاملیت اور ہمہ گیری کی وجہ سے ہے۔ امریکی استعمار کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اسلام رسموں اوررواجوں کامذہب نہیں ہے۔ بل کہ یہ ایک دین، ایک نظام زندگی اور ایک طرزحیات ہے جو ہر لحاظ سے کامل واکمل ہے۔ اس کی اپنی ایک تہذیب اور نظام معاشرت ہے، اپنا روحانی اور اخلاقی نظام ہے، اپنا ایک نظام سیاست اور نظام اقتصادیات ہے، اپنا عدالتی اور قانونی نظام ہے، غرض سب کچھ اپنا ہے اور کچھ بھی باہر سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وجہ سے وہ کہیں پر بھی اور کسی مرحلے میں نظام باطل سے لین دین Copromise، مفاہمت اور مداہنت کاکوئی مزاج نہیں رکھتا ہے۔ وہ لکم دینکم ولی دین کاقائل ہے۔ وہ جذب وانجذاب کی کیفیت سے عاری ہے۔ اس لیے اس کے باوجود کہ سیاسی لحاظ سے مسلمان طوائف الملوکی کا شکار ہیں اور ان کے امرائ اور بادشاہوں کو امریکی استعمار اپنا ذہنی غلام بناکر اپنے مفادات کے لیے بخوبی استعمال کررہاہے، ان ملکوں کے مسلمانوں کاایک اچھاخاصا طبقہ اپنی تہذیب سے چمٹے رہنے پر مصر ہے اور اپنے دینی تشخص کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ حتی کہ ان کی عورتیں حجاب چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہی چیز امریکی سرمایہ دارانہ استعمار کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور اسی سے اس کی رات کی نیند اور دن کا چین حرام ہے۔ اگرچہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے مقابلے میں مسلمانوں کایہ دین دار طبقہ بہت چھوٹا اور کمزور ہے، مگر اس چھوٹے گروہ سے بھی امریکی استعمار کو بڑاخطرہ محسوس ہوتاہے۔ اس لیے دین دار مسلمانوں کو بطور خاص شدت پسند مسلمان یا دہشت گرد کہہ کر بدنام کیاجارہا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے دنیا کے ملکوں میں خاص طور سے مسلمان ملکوں میں دہشت گردی کے واقعات ایک منصوبے اور سازش کے تحت رچے جارہے ہیں اور ایک تیر سے دوشکارکیاجارہا ہے۔ ایک طرف تو سادہ لوح دیندار مسلمانوں، معصوم اور بے گناہ نوجوانوں کو اس میں پھنسایاجارا ہے اور دوسری طرف مسلمان ملکوں میں دہشت گردی کے واقعات کرواکر مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایاجارہا ہے اور ساری دنیا میں دہشت گرد کہہ کر انھیں بدنام کیاجارہا ہے۔ امریکی استعمار کی جانب سے پیداکردہ دہشت گردی کا یہ فتنہ بھی ایک چیلنج ہے، جس کے مقابلے کے لیے بڑی حکمت اور دانائی کی ضرورت ہے۔

ایک طرف امریکہ کاسرمایہ دارانہ استعمار اور اس کی تہذیب اپنی عسکری صلاحیتوں، اپنے علمی و فنی ہتھیاروں، اپنے تعلیمی نظام، اپنے لٹریچراور اپنی میڈیا کی طاقت کے ساتھ اسلامی تہذیب پر یلغار کرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے اور یہی وہ چیز ہے جسے امریکی دانشوروں نے تہذیبوں کی جنگ War of Civilizationsاور Clash of civilizationsکانام دیاہے اور ہم ہیں کہ دم بخود بڑی بے بسی کے ساتھ حالات کا تماشا دیکھ رہے ہیں، مگر یہ اسلام کی اپنی تسخیری طاقت اور پُرکشش خوبیاںہیں کہ اسلام کو بدنام کرنے کی کوششیں جس قدر ہورہی ہیں ، لوگوں کے اندر اور خود امریکہ و یورپ کے گہوارہے میں پرورش پانے والے لوگوں کے اندر اسلام کو جاننے اور سمجھنے کی تڑپ بڑھتی جارہی ہے اور اسلام اور اسلامی تہذیب کامطالعہ انھیںاسلام کاگرویدہ کرتاجارہاہے۔ اس لیے سرمایہ دارانہ استعمار کامقابلہ کرنے کے سلسلے میں ہماری سب سے بڑی ذمے داری یہ ہے کہ ساری دنیا میں ہم اسلامی دعوت کی کوششیں تیزترکردیں۔ لٹریچر، تقریریں اور جوذرائع ووسائل بھی میسر ہوں ان کے ذریعے اسلام کے نظام عدل و قسط کابڑے پیمانے پر تعارف کرائیں۔

موجودہ اقتصادی نظام کی خامیاں

سرمایہ دارانہ استعمار نے جو اقتصادی نظام برپاکیاہے اس سے امیر امیر تر ہورہے ہیں اور غریب غریب تر ہوتے جارہے ہیں۔ دولت کاارتکاز چند ہاتھوں میں ہورہاہے اور دنیا کی بیشتر آبادی مرض، جہالت اور فاقہ کشی کاشکارہورہی ہے۔ سودی قرضوں کے جال نے غریب ملکوں کے کسانوں کاجینادوبھرکردیاہے اور خودکشی کے واقعات ہورہے ہیں۔ تیسری دنیا کے غریب ملکوں کو سود در سود یعنی Compoud Interest کی لعنت سے نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آرہی ہے۔ ایسے میں اگر اسلام کے نام لیوا اور تحریک اسلامی کی علمبردار طاقتیں بلاسودی قرض اور شرکت ومضاربت کی بنیاد پر تجارت کانظام کھڑا کریں تو توقع ہے کہ لوگوں کی آنکھیں کھلیںگی اور سودی اور سٹہ بازی کے نظام کا سحر ٹوٹ جائے گا۔ اس طرح یہ قدم بھی سرمایہ دارانہ استعمار کے چیلنج کامقابلہ کرنے کے لیے ایک کامیاب عملی قدم ہوگا۔

میڈیا کی اہمیت

آج دنیا اور اس میں ہونے والے واقعات کے سلسلے میں ہم وہی جانتے ہیں اور جاننے پر مجبور ہیں جو کارپوریٹ میڈیا ہمیں نگہبان اور اسلام اور اسلامی تہذیب کے سخت دشمن ہیں۔ کارپوریٹ میڈیا کامقابلہ کرنے کے لیے آج بہت بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم ممالک کے سربراہان اور مسلم اہل ثروت سرجوڑ کربیٹھیں اور اس کا کوئی بدل ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ اس کی بھی بڑی ضرورت ہے کہ ہم اپنی سطح سے بھی میڈیامیں گھس کر اس میں اپنا اثرو رسوخ پیداکرنے کی کوشش کریں۔

سرمایہ دارانہ استعمار اپنے پروڈکٹس کو بیچنے کے لیے لوگوں کے اندر صارفیت (Consumerism)، تعیش پسندی ،فضول خرچی اور دنیا پرستی کامزاج پیداکررہاہے اور اس کے لیے جارحانہ اشتہار بازی سے کام لے رہاہے۔ ایسی اشتہار بازی جو شرم وحیا سے بالکل عاری، اخلاق کو خراب کرنے والی اور لوگوں کو جنس زدگی اور تعیش پسندی کی طرف مائل کرنے والی ہے۔ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا سے لے کر تعلیم گاہوں تک ہرطرف ایسے ہی اشتہارات کازور ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایسا کلچر پرورش پارہا ہے جس میںعورت و مرد کاامتیاز وحجاب ختم ہوتاجارہا ہے۔ مردو زن کے آزادانہ اختلاط کے نتیجے میں فری سیکس (Free Sex)کی طرف بڑھتے قدم نے ہمارے مضبوط خاندانی نظام کے لیے خطرہ پیدا کردیا ہے اور اس کا اندیشہ پیداہوگیا ہے کہ امریکہ اور یورپ کے ملکوں کی طرح ہمارے خاندانی نظام کابھی شیرازہ بکھرجائے۔ خاص طورسے ہماری نئی نسل اس تہذیب کے زہریلے اثرات سے بری طرح متاثر ہے۔ ان حالات میں ہمارے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ان اثرات سے کیسے محفوظ رکھیں۔ کیوں کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ عام مسلمان گھرانے ہی نہیں اچھے اچھے دیندار گھرانوں کے چشم وچراغ ، علمائ وفضلائ کے بیٹے بیٹیاں سب اس سے متاثر ہیں اور متاع دین و دانش کو مدرسوں اور خانقاہوں میں بھی محفوظ رکھنا مشکل ہورہاہے۔

ہم دنیا والوں کو دین و دانش کاکیا سبق دیتے اور ان کے اخلاق کو کیا سنوارتے کہ ہماری جان کے خود ہی لالے پڑے ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ ‘‘کھائیں کدھر کی چوٹ، بچائیں کدھر کی چوٹ۔’’

علاج بس ایک ہی ہے ۔ ہم ہوش کے ناخن لیں، اپنی غفلتوں کاپردہ چاک کریں، اپنی بکھری ہوئی صلاحیتوں کو یکجاکریں ، تعمیری فکر اور دینی مزاج کے افراد کو جمع کرکے اسلامی اجتماعیت کے رشتے میں مضبوطی سے باندھیں اور پوری قوت کے ساتھ دعوت دین کے کام میں لگ جائیں۔ ضمناً یہ بھی عرض کرتاچلوں کہ جماعت اسلامی ہند نے پچھلے دنوں ﴿۱۱تا ۲۰/دسمبر ۲۰۰۹ ؁ ﴾ سرمایہ دارانہ استعمار مخالف مہم کے نام سے جو مہم پورے ملک میں چلائی وہ اہل ملک کو استعمار کے خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے بہت ہی قیمتی اور ضروری قدم ہے۔ ضرورت ہے کہ اہل ملک اس سلسلے کو دراز کریں۔ خاص طور سے اس مہم کے دوران سرمایہ دارانہ استعمار کے سلسلے میں جو لٹریچر جماعت نے شائع کیاوہ بہت قیمتی ہے اور پورے ملک میں بڑے پیمانے پر اس کوپھیلانے کی ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ اسلام کو ایک متبادل کی حیثیت سے پوری معقولیت اور مدلل انداز میںپیش کرنے کی کوشش بھی جاری رہنی چاہیے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*