نوجوان نسل کا بگاڑ- ذمے دار کون؟

ڈاکٹر نوشاد علی*

  جدید تعلیم کی خرابی یہ ہے کہ اسے حاصل کرکے انسان جس قدر ترقی کرتا چلا جاتا ہے ، خودغرض ، مکار، بزدل اور اپنوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مقام وہ بھی آتا ہے جب اس کی دنیا صرف اپنے بچوں تک محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔ سماجی، خونی اور دوسرے تمام انسانی رشتے اس کے لیے بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں۔ ان عیوب سے صرف وہی لوگ پاک ہوتے ہیں، جنھیں دین کا کچھ شعور ہوتا ہے۔ ورنہ ان کے سامنے بس ایک ہی مقصد ہوتا ہے وہ یہ کہ زیادہ سے زیادہ دولت کمالی جائے اور معاشرے میں کروفر کے ساتھ زندگی بسر کی جائے۔اسی کو عقل مندی شمار کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر دولت کمالینا ہی عقلمندی کی دلیل ہے تو رشوت خور، گھوٹالے باز، اسمگلر، چور، ڈاکو اور انسانیت کے دوسرے تمام دشمن بھی اس طرح کی عقلمندی کے مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔

 اسلامی تعلیمات کے مطابق تو ہر وہ شخص ناکام و نامراد ہے، جو آخرت کے امتحان میں ناکام ہوجائے۔ خواہ دنیا کی زندگی میں اس نے کتنا ہی عروج حاصل کیا ہو۔لیکن صرف دنیا کی زندگی کے اعتبار سے بھی اگر غور کیا جائے تو کسی انسان کاضمیر اگر اس قدر مردہ ہوچکا ہو کہ اپنے ذاقی فائدے کے علاوہ اسے کچھ نظر ہی نہ آتا ہوتو ایسے شخص کو چالاک، مکار، اور خود غرض تو کہا جاسکتا ہے ، عقلمند افراد میں اس کا شمار کرنا تو انسانیت کے ساتھ دشمنی ہوگی۔ایسے ترقی یافتہ افراد سے تو دیہات کے وہ سیدھے سادے لوگ بہتر ہیں، جن میں غربت اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے دوسری کئی برائیاں تو ہوسکتی ہیں، لیکن وہ انسان اور جانور میں فرق کرنا جانتے ہیں۔ نوجوان نسل کے کارناموں کو دیکھ کر تو کئی بار دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اے رب رحیم و کریم میری اولاد کو ایسی ترقی سے محفوظ رکھ، جہاں پہنچ کر وہ اپنوں کو پہچاننے سے بھی انکار کردے۔

ایک صاحب نے شہر کی ایک بہترین کالونی میں ایک کوٹھی خریدی ۔ کوٹھی کا معائنہ کرتے ہوئے، جب وہ اس کی خوبیوں کا بگھان کر رہے تھے تو ایک اہم خوبی انھوں نے یہ بھی بتائی کہ ’بڑا ہی پرسکون ماحول ہے ۔ یہاں شفٹ ہوئے ہم لوگوں کو چھے ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ابھی تک نہ تو ہم نے ہی کسی سے ملنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہم سے ہی کوئی ملنے آیا ہے۔ پرانے پڑوس کی طرح نہیں ہے کہ جب دیکھا منھ اٹھائے چلے آرہے ہیں ۔ دراصل تعلیم اورجہالت کا یہی فرق ہوتا ہے۔ یہاں پر سب ہی لوگ پڑھے لکھے اور مہذب ہیں۔ اُنھیں نہ اپنی زندگی میں کسی کادخل پسند ہے اور نہ خود کسی کی زندگی میں دخل انداز ہوتے ہیں۔‘ غور کیجیے لوگوں کی سوچ میں کس قدر تبدیلی آچکی ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ بہت ہی ملنسار ہونا خوش اخلاقی کی علامت تھی، لیکن جدید دور میں جب لوگ ایک دوسرے سے ملنا جلنا بند کردیں تو یہ ان کے مہذب ہونے کی علامت تصور کیا جانے لگا۔

میرے ایک غیر مسلم دوست جو ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ہیں۔ کان پور کے کسی دیہات کے رہنے والے ہیں ۔ ایک بارانھوں نے خود بتایا کہ ۳۶ سال کی نوکری ہے، لیکن آج تک گاؤں جانا نہیں ہوسکا ۔ ماتا جی، پتا جی، بہن بھائی سب لوگ ہیں لیکن نوکری اور گھر کے اتنے کام لگے رہتے ہیں کہ گاؤں جانے کے لیے کبھی وقت ہی نہیں نکال سکا۔ کبھی کبھی وہی لوگ آجاتے ہیں تو ملاقات ہوجاتی ہے۔ غور کیجیے ۳۶ سال کا عرصہ تھوڑا نہیں ہوا کرتا۔ شریمان ادھیکاری مہودیہ جی کو اس طویل عرصے میں کبھی اتنا وقت نہیں مل سکا کہ خود جاکر اپنے گاؤں والوں، رشتے داروں اور اپنے والدین کی خیرخیریت معلوم کرسکیں۔ ادھیکاری جی جس وقت یہ سب کچھ بتا رہے تھے، میں ان کے چہرے کے تاثرات کو پڑھنے کی کوشش کر رہاتھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اپنے کیے پر نہ انھیں کوئی افسوس ہے اورنہ احساس ندامت۔ ترقی کے غرور سے اکڑا ہوا بالکل بے حس اور سپاٹ چہرہ میرے سامنے تھا۔

انسان کس قدر گھٹیا، نیچ اور پتھر دل ہوسکتا ہے، اس سے متعلق اپنے ساتھ گزرا ہوا ایک واقعہ میرے ایک محترم دوست نے اس طرح بیان کیا: شہر کے ایک مشہور ڈاکٹر کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ ڈاکٹر صاحب سے تو ملاقات نہیں ہوسکی۔ برآمدے میں بیٹھا ہوا ایک شخص رامائن پڑھ رہا تھا۔ عمر تقریباً ۷۰ سال تھی، بکھرے اور بے ترتیب بال، بڑھی ہوئی داڑھی، میلا کچیلا لباس، پھٹی ہوئی دھوتی، معلوم ہوا کہ وہ محترم ڈاکٹر صاحب کے والد ہیں۔کوٹھی کے باہر ایک پیڑ تھا۔ ہم لوگ وہیں کھڑے ہوکر بات کرنے لگے۔ ضعیف آدمی نے اپنی داستان غم کچھ اس طرح بیان کی:ہم لوگ مظفرنگر کے ایک دیہات کے رہنے والے ہیں۔ ڈاکٹر میرا اکلوتا بیٹا ہے۔ گاؤں میں تھوڑی بہت زمین تھی۔ زندگی مشکل ضرور تھی لیکن پھر بھی عزت و سکون کے ساتھ گزر رہی تھی۔ زمین بیچ کر اسے ڈاکٹر بنایا، زمین بیچ کر ہی اس کا کلینک اور نرسنگ ہوم بنوایا گیا۔ گھر، گھیر، جانور اور جو بھی تھوڑی بہت زمین باقی بچی تھی اسے بیچ کر یہ کوٹھی بنوائی گئی۔ سب کچھ بک چکا تھا۔ لیکن اس کے باوجود میں خوش تھا۔ میں بھی اپنے کو بڑا آدمی شمار کر رہا تھا۔ سچ بات یہ ہے کہ بڑا آدمی ہونے کا احساس ہی کچھ عجیب ہوتا ہے۔ بہت دن کھیتی میں ہڈیوں کو پانی کیا ۔ سوچتا تھا اب کچھ عیش کی گزاری جائے۔ لیکن شہر آکر جلد ہی معلوم ہوگیا کہ عیش کے دن تو وہی تھے، جو میں دیہات میں گزار کر آیا ہوں۔ جب تک بیوی حیات تھی پھر بھی غنیمت تھا۔ لیکن اس کے بعد سے تو حال یہ ہے کہ نوکرانی بھی کھانا اس طرح پٹک کر جاتی ہے، جیسے وہی میری اَن داتا ہے۔ بیٹااور بہو، مجھ سے کبھی بات نہیں کرتے۔ پوتے کے ساتھ کھیل کر دل بہلانا چاہتا ہوں، لیکن کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے اسے بھی بلالیاجاتا ہے۔ بوڑھا رورہا تھا، لیکن آخر میں اس نے جو کچھ کہا وہ بھی ترقی یافتہ معاشرے پر ایک بہترین تبصرہ ہے۔بیٹا یہ جو شاندار بنگلے اور کوٹھیاں تم دیکھ رہے ہو، ان میں انسان نہیں زندہ لاشیں بساکرتی ہیں۔ یہ وہ تعلیم یافتہ ، مہذب اور بڑے لوگ ہیں جہاں والدین سے زیادہ کتوں کی قدر کی جاتی ہے۔

اس طرح کے بے شمار واقعات ہم لوگ دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں، جو ہندستانی معاشرے کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی دلیل ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ معاشرے میں جوبگاڑ آرہا ہے اس کا اصل ذمے دار کون ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا ایک اہم سبب ہمارا نظام تعلیم ہے۔ غور کیجیے ہمارے تعلیمی اداروں میں جو تعلیم دی جارہی ہے، اس کامقصد کیا ہے؟ ڈاکٹر، پروفیسر، انجینئر بناتے وقت ہم انھیں یہی تو تعلیم دیتے ہیں کہ دولت کمانے کا آسان طریقہ کیا ہے؟ گھر سے لے کر کالج تک ہرکوئی بڑا آدمی بننے کی تعلیم دے رہا ہوتا ہے۔ انسان بنانے کی فکر کسی کو نہیں ہوتی۔ بڑاآدمی بننے کایہی جنون انسان کو جائز وناجائز دولت کمانے پر مجبور کرتا ہے۔ انسان جب زندگی کے پچیس تیس سال یہی سیکھنے اور سمجھنے میں گزاردیتا ہے تو بڑاآدمی بننے کایہ جنون اس پر اس قدر سوار ہوچکا ہوتا ہے کہ یہی اس کا مقصد حیات بن جاتا ہے۔ ہر وہ رشتہ اور تعلق جو اس کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے، اس سے وہ دامن بچانا چاہتا ہے ۔ دوست احباب اور عزیز و اقارب کے ساتھ وقت گزارنا اسے وقت کی بربادی دکھائی دیتا ہے۔ اپنے مقصد حیات کے سامنے یہ تمام رشتے اسے بونے نظر آنے لگتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ اپنوں سے اس قدر کٹ چکا ہوتا ہے کہ والدین بھی اسے ایک بوجھ نظر آنے لگتے ہیں اور ان کے لیے بھی وقت نکالنا اس کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ معاشرہ بھی عموماً اُنھی لوگوں کو عزت دیتا ہے ،جن کے پاس دولت ہوتی ہے ۔ اخلاق و کردار اور حرام وحلال ہمارے لیے بے معنی ہوچکے ہیں۔ اگر ہمارا معیار یہی ہے تو ہمیں خوش ہوناچاہیے کہ ہماری نئی نسل ترقی کی تمام بلندیوں کو چھونے میں لگی ہوئی ہے اور اگر انسانی معاشرے کے لیے اخلاق وکردار کی بھی کوئی اہمیت ہے تو ہمیں اپنے طریقۂ تعلیم اور اس کا مقصد، دونوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

نئی نسل کے بگاڑ کا دوسرا اہم سبب یہ ہے کہ ہم لوگ، اپنے چھوٹوں کے سامنے اپنے کردار کا کوئی اچھا نمونہ پیش نہیں کر رہے ہیں۔ جب ہم ناجائز اور حرام طریقوں سے دولت حاصل کرکے گھر میں لا تے ہیں تو غیر شعوری طور پر ہم لوگ اپنی اولاد کی یہ تربیت کر رہے ہوتے ہیں کہ ہر وہ کام کرو جس میں تمھیں اپنا فائدہ نظر آتا ہے۔ ہر اس کام سے دوررہو جس میں کسی بھی قسم کے نقصان کا اندیشہ ہو۔ اب اگر ہر کام کرتے وقت صرف ذاتی نفع ونقصان کو ہی اہمیت دی جانے لگے تو اس اعتبار سے توبوڑھے والدین کی ذمے داری قبول کرنا فائدے کا سودا تو نہیں ہوسکتا۔ ہمارا خود کا کردار اگر یہی ہے کہ معاشرے کے حقوق کی ہمیں کوئی پروا نہیں ہے تو آنے والی نسل سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق کی پروا کرے گی۔ خواہ وہ اس کے والدین ہی کیوں نہ ہوں۔

کسی بھی نسل کا کوئی بگاڑ اس میں اچانک پیدا نہیں ہوا کرتا۔ برائی ہو یا بھلائی، دونوں ایک نسل سے دوسری نسل کو وراثت  میں ملا کرتی ہیں۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ آنے والی نسل ہم سے دوچار قدم آگے نکل جائے، لیکن یہ بات طے ہے کہ جس خرابی کے برے نتائج آج ہم بھگت رہے ہوتے ہیں، اس کی ابتدا پہلے ہی کبھی ہوچکی ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت جب برائی کی ابتدا تھی تو اس کے برے نتائج کا یا تو ہمیں پوری طرح احساس و شعور ہی نہیں تھا یا پھر ہم نے اس کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کی تھی اور اگراصلاح کی کوئی کوشش ہوئی بھی تھی تو وہ اس قدر کمزور تھی کہ اس برائی پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی۔ اس بگاڑ سے جڑا ایک اہم ترین سوال یہ بھی ہے کہ والدین کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ ان کے ساتھ نیک سلوک کیاجائے۔ یہ حق اسی مالک کائنات نے دیا ہے جو ہم سب کا رب ہے۔ قرآن کریم اس بات پر گواہ ہے کہ ہر بچہ نیک فطرت پر پیدا کیاجاتا ہے یہ ہم انسان ہی ہوتے ہیں جو اسے خدا کا کافر اور نافرمان بھی بناتے ہیں اور مومن ، مسلم اور مطیع فرمان بھی۔ کسی بچے کی پرورش اگر جانوروں کی طرح کی جائے گی تو جانوروں کی صفات ہی اس میں پیدا ہوں گی جو شہوت اور پیٹ سے آگے سوچ ہی نہیں پاتے۔ اولاد کی تربیت اگر اس طرح کی جائے کہ وہ خدا کا شکر کرنے والی بن جائے تو ایسی اولاد سے ضرور توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ تمام انسانوں کے حقوق کی قدر کرنے والی ہوگی۔ اگر ہم خود ہی اپنے مالک و آقا کے شکر گزار نہیں ہیں تو پھر اس بات کی ضمانت بھی کوئی نہیں دے سکتا کہ ہماری اپنی اولاد بھی ہمارے حقوق کااحترام کرنے والی ہوگی۔                                        ** 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*