مساجد کی اہمیت اور ان کو تربیت گاہ اور روحانی مرکز بنانے کے لئے ائمہ کا ممکنہ کردار

             ڈاکٹر فضل الرحمن المدنی
                  جامعہ محمدیہ منصورہ، مالیگاؤں
 
 
    یوں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے امت محمدیہ کے لئے پوری روئے زمین کو جائے نماز بنایا ہے اور خصوصی طور سے انہیں یہ سہولت عطا کی ہے کہ نماز کے وقت وہ جہاں کہیں بھی رہیں وہیں نماز پڑھ لیں اور ضروری نہیں ہے کہ میلوں دور سے وہ اپنے کام کاج چھوڑ کر جہاں مسجد ہو وہاں آئیں اور مسجد ہی میں نمازادا کریں، چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْمَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً ’’ (صحيح البخاري حسب ترقيم فتح الباري : 1/ 91)
یعنی مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں،میری مدد ایک مہینے کی مسافت کے رعب سے کی گئی ، میرے لئے پوری روئے زمین جائے نماز اور مطہر بنائی گئی ،چنانچہ میری امت کے کسی بھی شخص کے لئے جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے اسے چاہئے کہ وہیں نماز پڑھ لے ،اور میرے لئے مال غنیمت کو حلال کیا گیا اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے اسے حلال نہیں کیا گیا ،مجھے شفاعت عطا کی گئی، اور مجھ سے پہلے ہر نبی خاص اپنی قوم کے لئے مبعوث کیا جاتا تھا اور میری بعثت عام ہے اور میں تمام لوگوں کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں ۔
اور حضرت عمر وبن شعیب رضى الله عنہ کی روایت میں ہے  ‘‘ وَكَانَ مَنْ قَبْلِي إِنَّمَا كَانُوا يُصَلُّونَ فِي كَنَائِسِهِمْ  ’’ (فتح الباري لابن حجر :1/ 437)   یعنی مجھ سے پہلے کے لوگ صرف اپنے گرجوں میں ہی نماز پڑھتے تھے۔اور حضرت ابن عباس رضى الله عنہما  کی حدیث میں ہے  ‘‘ولم يكن من الأنبياء أحد يصلي حتى يبلغ محرابه ’’ (فتح الباري لابن حجر: 1/ 438) یعنی پہلے کے تمام انبیاء اپنے محراب میں پہنچ کر ہی نماز پڑھتے تھے۔
اور حضرت ابو ذر رضى الله عنہ  فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ!زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ؟آپ نے فرمایا : مسجد حرام میں نے کہا: پھر کون سی؟آپ نے فرمایا :پھر مسجد اقصیٰ میں نے کہا: دونوں میں کتنی مدت کا فاصلہ ہے؟فرمایا:چالیس سال کا،پھر فرمایا: تم کو جہاں بھی نماز پالے وہیں پڑھ لو،وہی جگہ جائے نماز ہے ۔ (صحيح ابن خزيمة : 2/ 268) اور ایک روایت میں ہے کہ ’’پوری زمین جائے نماز ہے‘‘۔(صحيح البخاري حسب ترقيم فتح الباري: 1/ 91)
بہر حال اللہ کا بڑا فضل و احسان ہے کہ امت محمدیہ کے لئے نماز کی صحت کے لئے اس کا مسجد میں ہی ادا کرنا ضروری نہیں قرار دیا، بلکہ رخصت دی کہ سفر وغیرہ میں جہاں کہیں بھی نماز کا وقت ہوجائے وہیں نماز پڑھ لے ۔لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی ہر بستی میں نماز کے لئے ایک جگہ خاص کرنا اور خواہ چھپر ہی کی سہی ایک مسجد بنانا اور اذان و نماز کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔ حضرت انس رضى الله عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی بستی پر حملہ کرنا ہوتا تو طلوع فجر کے بعد حملہ کرتے تھے ،آپ کان لگا کر اذان سنتے اور جب کسی بستی سے اذان کی آواز سن لیتے تو اس پر حملہ نہیں کرتے ،ورنہ حملہ کردیتے ۔(صحيح البخاري حسب ترقيم فتح الباري : 1/ 158 , صحيح مسلم: 2/ 3)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا طریقہ تھا کہ جہاں کہیں بھی جاتے تھے ،پہلے وہاں ایک مسجد کا انتظام اور اہتمام کرتے تھے ،کیونکہ شریعت اسلامیہ میں مسجد کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے ،اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے نزدیک سب سے محبوب اور بہتر جگہ قرار دیا ہے ،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضى الله عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘ أَحَبُّ الْبِلاَدِ إِلَى اللَّهِ مَسَاجِدُهَا وَأَبْغَضُ الْبِلاَدِ إِلَى اللَّهِ أَسْوَاقُهَا ’’ (صحيح مسلم : 2/ 132)
شہروں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب جگہ ان کی مسجدیں ہیں اور سب سے مبغوض جگہ وہاں کے بازار ہیں۔
مسجدوں کو تعمیر کرنے والوں کے لئے جنت میں اللہ کی جانب سے گھر بنانے کی خوش خبری ہے ،حضرت عثمان رضى الله عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ تَعَالَى يَبْتَغِى بِهِ وَجْهَ اللَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِى الْجَنَّةِ ’’ ۔ (صحيح البخاري حسب ترقيم فتح الباري: 1/ 122,صحيح مسلم : 2/ 68)جس نے اللہ کی رضا کے لئے ایک مسجد بنائی تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔
اور مسجد میں آنے والوں کے لئے اللہ کی ضیافت کا وعدہ ہے ،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ فِى الْجَنَّةِ نُزُلاً كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ ’’ (صحيح البخاري حسب ترقيم فتح الباري: 1/ 168, صحيح مسلم : 2/ 132)  جو شخص صبح کے وقت مسجد جاتا ہے یا شام کو، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جب جب وہ مسجد جاتا ہے جنت سے ضیافت کا سامان تیار کرتاہے۔
مسجد سے برابر تعلق خاطر رکھنے اور وہاں برابر جانے کی عادت بنا لینے کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے ،حضرت ابو سعیدرضى الله عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ ، فَاشْهَدُوا لَهُ بِالإِيمَانِ ’’ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : ﭽإِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ   (التوبة: ١٨)ﭼ (مسند أحمد بن حنبل 3/ 76, سنن ابن ماجة : 1/ 513, صحيح ابن خزيمة : 2/ 379 , صحيح ابن حبان مع حواشي الأرناؤوط كاملة : 5/ 6 , سنن الترمذى : 10/ 102 , المستدرك على الصحيحين للحاكم مع تعليقات الذهبي في التلخيص 1/ 332)
جب ایک آدمی کو دیکھو کہ وہ برابر مسجد جاتا ہے تو اس کے ایمان کی شہادت دو ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی مسجدوں کو وہ آباد کرتا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ مسجد کی تعمیر اور آباد کرنے میں جہاں اس کی عمارت بنانا داخل ہے وہیں اس کو نماز ، ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن وغیرہ سے آباد کرنا بھی شامل ہے۔اس کی تائید مسجد میں پیشاب کرنے والے اعرابی سے متعلق حدیث سے ہوتی ہے ،کیونکہ اس میں ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ‘‘ إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لاَ تَصْلُحُ لِشَىْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ وَلاَ الْقَذَرِ إِنَّمَا هِىَ لِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالصَّلاَةِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ’’ (صحيح مسلم: 1/ 163)  یعنی یہ مسجد یں پیشاب کرنے اور گندگی پھیلانے کے لئے نہیں ہیں ، یہ ذکر الٰہی , نماز اور قرا ء ت قرآن کے لئے ہیں۔
اس واسطے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ان مسجدوں کو اچھے اماموں ،اچھے مؤذنوں اور اچھے پروگراموں سے اس طرح آباد کریں کہ یہ اپنے مصلیوں اورپڑوسیوں کے لئے اسی طرح مفید اور با برکت بن جائیں جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تھیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ عہد نبوی، خیر القرون اور سلف صالحین کے دور میں مسجدیں مسلمانوں کے روحانی مراکز کی حیثیت رکھتی تھیں ،ان مسجدوں میں نمازیں قائم کی جاتی تھیں ،اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا تھا ،امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا جاتا تھا، ان میں قرآن و سنت کی تعلیم دی جاتی تھی ،اور نو خیز نسل کی صحیح اسلامی تربیت اور مسلمانوں کے تزکیہ نفس کا انتظام ہوتا تھا ،یہیں پر لوگوں کے اخلاق سنوارے جاتے تھے اور دینی خطوط پر ان کی ذہن سازی ہوتی تھی ،اوریہیں سے دعوت اسلامی کے وہ سپاہی پیدا ہوتے تھے جو صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق و کردار اور اعمال صالحہ سے اسلام کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کرتے تھے ۔
پہلے یہ سارے کام مساجد میں اس سر گرمی اور اخلاص سے انجام دئے جاتے تھے کہ ہر مسجد محلہ والوں کے لئے نیکی و بھلائی کا منبع اور رشد و ہدایت کا سر چشمہ ہوتی تھی ،جو مسلمانوں میں ایسی دینی روح پھونکتی اور ایسی دینی غیرت پیدا کر دیتی تھی کہ وہ نہ تو کسی بیرونی طاقت کی ترغیب و ترہیب کے آگے سر تسلیم خم کرتے تھے، نہ کسی باطل نظریہ و عمل کو اپنانے کا خیال ان کے دل میں آسکتا تھا ، خلاصہ یہ کہ پہلے ہماری مسجدیں دعوت الیٰ اللہ،حق کی نشر و اشاعت ،خالص اسلامی ذہن کی تعمیر اور دینی وروحانی ماحول بنانے کے مراکز تھیں ،مگر آج ہماری مسجدوں سے یہ سار ے کام نہیں ہورہے ہیں ،اور جہاں کچھ چیزیں ہو بھی رہی ہیں ان میں پہلے جیسی برکت نہیں اور ان سے وہ فوائدحاصل نہیں ہو رہے ہیں جو ماضی میں حاصل ہوتے تھے ،سوال یہ ہے کہ آج ہماری مسجدوں کی وہ حیثیت کیوں نہیں رہ گئی ؟اور دوبارہ ان مسجدوں کو مسلمانوں کے لئے تربیت گاہ اور روحانی مراکز بنانے کے لئے ائمہ مساجد کیا کردار ادا کرسکتے ہیں ؟اس سلسلے میں مساجد کے ائمہ اور ان کے ذمہ داروں کی خدمت میں چند نکات اور تجاویز پیش کررہا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اگر ان پر عمل کیا گیا تو ان شاء اللہ ان سے مساجد کو مسلمانوں کی تربیت گاہ اور روحانی مرکز بنانے میں کافی مدد ملے گی۔
(۱) خطبات جمعہ کی اصلاح :مساجد میں جن وسائل سے لوگوں کی دینی تربیت،اصلاح معاشرہ اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا کا م کیا جا سکتا ہے ان میں سب سے اہم اور مفید ذریعہ خطبہ جمعہ ہے ،کیونکہ نماز جمعہ اور اس کا خطبہ فرض ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﭽیَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِذَا نُودِیْ لِلصَّلَاۃِ مِن یَوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا إِلَی ذِکْرِ اللَّہِ وَذَرُوا الْبَیْْعَ ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ  ﭼ ( الجمعة: ٩ )  اے مومنو!جب نماز جمعہ کے لئے اذان دی جائے تو ذکر الٰہی کے لئے تم دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو،یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو ۔
اور اس میں حاضری کا وہ مسلمان بھی اہتمام کرتے ہیں جو پنجوقتہ نمازوں میں حاضری کا اہتمام نہیں کرتے اورجو مساجد کے اور دوسرے دعوتی پروگراموں جیسے درس قرآن ،درس حدیث وغیرہ میں شریک نہیں ہوتے،نیز دوسرے پروگرام بعض اسباب و وجوہ کی بنا پر کبھی کبھی ملتوی یا منسوخ بھی کردئے جاتے ہیں، لیکن نماز جمعہ اور اس کے خطبے کبھی بھی ترک نہیں کئے جاتے ،اس طرح سال بھر میں جمعہ کے باون خطبوں کے ذریعے دعوت و تبلیغ کا سلسلہ بالاستمرار جاری رہتا ہے ،علاوہ ازیں دوسرے اجتماعات کے بر عکس اس میں سامعین کی تعداد بڑھتی جاتی ہے اور لوگ اخیر تک اس میں حاضر رہتے ہیں، جبکہ دوسرے اجتماعات میں لوگ اختتام سے قبل ہی آہستہ آہستہ سرکنے لگتے ہیں ،نیز دوسرے اجتماعات میں حاضرین کی ایک بڑی تعداد بات چیت اور سرگوشیاں کرتی رہتی ہے اور بہت سے لوگ مختلف ضروریات کے لئے یا بلا ضرورت ہی اٹھ کر جاتے رہتے ہیں، جبکہ خطبۂ جمعہ میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے لئے بھی بولنا ممنوع ہے، اس واسطے سب بڑی خاموشی اور نہایت توجہ سے خطیب کی باتیں سنتے ہیں،ان خصوصیات کی بنا پر خطبۂ جمعہ دعوت و تبلیغ کے لئے جس قدرمفید ہے اتنے مفید دوسرے پروگرام نہیں ہوتے۔ اس لئے ائمہ مساجد اور خطباء کرام کو چاہئے کہ اس سے لوگوں کی اصلاح و تربیت اور اسلامی تعلیمات کی نشرو اشاعت کے لئے بھر پور استفادہ کریں ،مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ خطبہ کے موضوع کا انتخاب کم از کم چار پانچ روز پہلے ہی کرکے اس کے لئے بھر پور تیاری کریں ،تاکہ خطبہ مدلل،مرکّز، جامع اور مانع ہو، اور سامعین اس سے اس موضوع کے متعلق مفصل اور اطمینان بخش معلومات حاصل کر سکیں ،اور موضوع کا انتخاب کرتے وقت حالات و ظروف کا لحاظ رکھیں اور خطبہ میں بے موقع باتیں نہ کریں، ایسا نہ ہو کہ شوال میں شب قدر کے مسائل وفضائل اور محرم میں حج کے احکام و مسائل بتائیں اسی طرح خطبہ میں سامعین کے دینی و علمی استعداد او رعقل و فہم کی صلاحیت کا بھی لحاظ رکھیں ، ایسا نہ ہو کہ عوام الناس میں ایسے دقیق مسائل چھیڑ دیں جو نہ ان کے لئے مفید ہوں اور نہ قابل فہم ۔اسی طرح خطبات کے موضوعات میں تنوع ہواور ترغیب و ترہیب اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھیں، اسی طرح خطبہ میں جو بات کہیں تحقیق کے بعد کہیں ،نیز اپنی زبان، آواز،اسلوب بیان اور انداز خطابت وغیرہ کو ہمیشہ بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں ،اس سے خطبہ کی افادیت میں اضافہ ہوگا اور برابر سامعین کی تعداد بڑھتی جائے گی ۔ اور اگر آپ نے ان باتوں کا لحاظ نہیں کیا بلکہ بلا تیاری کے اوٹ پٹانگ اور کبھی ایران اور کبھی توران کی ہانکیں گے ،یا ہمیشہ ایک ہی موضوع پر بولیں گے ،یا سامعین کو ہمیشہ ڈانٹ پھٹکار ہی سنائیں گے، یا بے موقع کی باتیں کریں گے اور وقت کے سلگتے موضوعات کو نظر انداز کریں گے ،تو آپ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا اور آپ کے خطبات سے خاطر خواہ فائدہ نہ ہوگا ۔
بہر حال خطبۂ جمعہ ائمہ مساجدکے لئے دعوت و تبلیغ اور اصلاح معاشرہ کا ایک بہت اہم ذریعہ ہے، جس سے وہ مساجد کو مسلمانوں کے لئے بہترین تربیت گاہ اور روحانی مراکز بناسکتے ہیں, مساجد کو دعوت و تبلیغ اور اصلاح کا مرکز بناسکتے ہیں ۔
(۲)قرآن و حدیث کے درس کا اہتمام :لوگوں کی ہدایت و رہنما ئی ، ان کے عقائد اور اخلاق و معاملات کی اصلاح اور ان کے اندرتقویٰ و پرہیز گاری اور ا عمال صالحہ کے جذبات پیدا کرنے میں قرآن و حدیث کا جو مقام ہے وہ کسی مسلمان سے مخفی نہیں ،قرآن و ہ آسمانی کتاب ہے جسے تا قیام قیامت تمام انس و جن کی ہدایت کے لئے نازل کیا گیا ہے ،جسے ’’ھدیٰ للناس‘‘ ،’’ھدیٰ للمتقین‘ ‘۔ اور ’’ خیر الحدیث ‘‘کہا گیا ہے،جس میں ہر چیز کا بیان ہے اور جس کا اسلوب اس قدر فصیح و بلیغ اورمؤثرو دلکش ہے کہ عوام وخواص سب کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے، اورکتنے لوگ ایسے ہیں جو اس کو سن کر ہی مسلمان ہو گئے ۔
اسی طرح احادیث نبویہ کا بھی رشد و ہدایت میں بڑا ہی اعلیٰ مقام ہے ،ان میں بڑی جامعیت ،سادگی اور حسن ہے ۔اور قرآن کریم کی شرح و بیان ہو نے کی وجہ سے ان کی اطاعت ہر مسلمان پر فرض ہے ۔اور ہر مسلمان ان کی قدر و منزلت کو سمجھتا اور ان کے احکام و فرامین کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے ،اور ان کی تعلیمات پر بڑی عقیدت و وارفتگی کے ساتھ عمل کرتا ہے ،اس واسطے ائمہ مساجد کو درس قرآن و درس حدیث کا ضرور اہتمام کرنا چاہئے ۔اور روزانہ فجر کے بعد درس قرآن اور عشاء کے بعد درس حدیث پیش کرنا چاہئے ۔ان دروس میں وقت کا لحاظ رکھیں اور پندر ہ بیس منٹ سے زیادہ ٹائم نہ لیں ،درس میں آیات و احادیث کے معانی، تعلیمات اور پیغام کو سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کریں اور طویل فنی اور علمی بحثیں اور اختلافات نہ چھیڑیں ، اورجس حدیث یا آیت کا درس دینا ہو اس کو پہلے اچھی طرح مطالعہ کرکے حل کر لیں اور پوری تیاری کے ساتھ درس دیں، اسی طرح آیات و احادیث کے انتخاب میں حالات و ظروف اور لوگوں کی ضروریات و مسائل کا لحاظ رکھیں ۔ہاں اگر خطبۂ جمعہ یا دوسرے پروگراموں میں وقتی مسائل پر مفصل روشنی ڈال دی جائے تو قرآن کا درس ترتیب سے دے سکتے ہیں، اسی طرح حدیث کی کسی اچھی کتاب جیسے صحیح بخاری یا مؤطا امام مالک یا ریاض الصالحین کا درس بھی ترتیب سے دے سکتے ہیں ۔
(۳) خواتین کے لئے دعوتی پروگرام کا نظم کرنا:اگر مسجد میں خواتین کے لئے نماز جمعہ اور دوسرے دینی پروگراموں کے لئے نظم ہو تو بہت اچھا ہے ،ورنہ ان کے لئے محلہ والوں کے مشورہ سے مسجد یا کسی گھر میں دعوتی پروگرام کا نظم کریں ،جس میں محلے پڑوس کی خواتین جمع ہوں اور پردے کی آڑ سے چند معزز وثقہ لوگوں کی موجودگی میں ان کو نصیحت کریں ،انھیں دین کے ضروری مسائل بتائیں اوران پر اپنے گھر اور معاشرے کی اصلاح کے سلسلے میں جو ذمہ داریاں ہیں ان کی جانب ان کی توجہ مبذول کرائیں ،اگر ہوسکے تو ان کی ایک تنظیم بنا کر خواتین میں دعوت و تبلیغ اوراصلاح کا کام زیادہ منظم اور بہتر انداز میں کریں ، ائمہ کرام اور علماء دین اپنی تقاریر و دروس میں کتاب و سنت ،ازواج مطہرات و دیگر صحابیات اور اسلاف خواتین کے عبرت خیز واقعات اور حالات بیان کرکے انھیں نصیحت کرے، بہر حال ائمہ مساجد مردوں کی طرح خواتین میں بھی دعوت و تبلیغ اور اصلاح کے کام پر توجہ دے ۔تاکہ مسلم معاشرہ کے نصف ثانی کی تربیت و اصلاح کا کام بھی ہوسکے۔
(۴)ا صلاحی کمیٹی کا قیام: مسجد کے ذمہ داروں اور مصلیوں نیز محلہ کے با اثر و صالح لوگوں پر مشتمل ایک اصلاحی کمیٹی بنائیں جو ایک نظم کے ساتھ محلہ میں دعوت وتبلیغ اور اصلاح کا کام کرے ، اور سب لوگ مل کر ہفتہ میں ایک یا دو دن محلے کے لوگوں کے پاس جائیں ،ان سے ان کے گھروں ،دوکانوں اور کارخانوں پر شخصی طور سے ملاقات کریں، انہیں محبت و خیر خواہی کے ساتھ نیکیوں کی ترغیب کریں اور برائیوں سے باز رہنے کی تلقین کریں اور نمازوں کی پابندی اور مسجد کے پروگراموں میں شرکت کی دعوت دیں ۔اگر ان میں کوئی اختلاف یا برائی نظر آئے تو سب مل کر اسے ختم کرنے کی کوشش کریں ۔ اور اگر کسی کو کوئی پریشانی یا ضرورت ہو تو سب تعاون کریں، اور اس کی پریشانی کو دور کریں، اس سلسلے میں اگر کچھ لوگوں کی مخالفت کا سامنا ہوتو صبر سے کام لیں ،اور پورے اخلاص و لگن سے سب اپنا کام جاری رکھیں۔
(۵)بلیک بورڈ کا استعمال: مسجد میں باہری گیٹ کے پاس یا کسی مناسب جگہ ایک بلیک بورڈ کاانتظام کرائیں، جس پر آیات قرانیہ و احادیث نبویہ کے ترجمے، حکمت و موعظت کی باتیں اور ضروری دینی احکام و مسائل لکھتے رہیں، اس کا بڑا فائدہ ہوگا اور لوگوں کو اس سے اہم دینی معلومات حاصل ہوتی رہیں گی۔
(۶) بچوں کی تعلیم و تربیت کا نظم :اگر محلہ میں کوئی دینی مدرسہ نہ ہو تو مسجد کے ذمہ داروں اور محلہ کے لوگوں سے مل کر مسجد میں بچوں کی تعلیم وتربیت کا نظم کرے، جس میں ناظرہ قرآن ،اور کچھ دینی کتابیں پڑھائیں اور انھیں وضو اور نماز وغیرہ کا طریقہ عملی طور سے کراکے سکھائیں۔اور ضروری دعائیں اور قرآن کی کچھ سورتیں یاد کرائیں ،اور اگر محلہ میں کوئی دینی مدرسہ ہے جہاں بچے دینیات کا علم حاصل کرتے ہیں تو اس نظم کی ضرورت نہیں ،مگر دونوں صورتوں میں سال میں بچوں کے لئے دو تین تربیتی اور مسابقہ کا پروگرام رکھیں ،جن میں دینی مسائل ، کچھ سورتوں اور دعاؤں کے حفظ ،تقریر،قرأت اورنظم خوانی وغیرہ کا مقابلہ کرائیں اور کامیاب ہونے والے بچوں کو انعامات سے نوازیں ،اس کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں بڑے اچھے اثرات مرتب ہونگے، اور لوگوں میں تعلیمی بیداری پیدا ہوگی۔
(۷) مختصر دار المطالعہ کا قیام: کوشش کریں کہ مسجد میں ایک مختصر دار المطالعہ قائم کریں ،جس میں مختلف زبانوں اورخاص طور سے علاقائی زبان میں مستند دینی کتابوں کا ایک معتدبہ ذخیرہ جمع کریں،اس سے خود بھی استفادہ کریں اور عام مسلمانوں کو استفادہ کا موقع دیں ،اس سے پڑھے لکھے لوگوں کا مسجد سے رابطہ قائم ہوگا ،ان کے اندر دینی بیداری پیدا ہوگی ،اور دینی معلومات کی نشراشاعت ہوگی ،اور دعوت و تبلیغ کاکام آسان ہو جائے گا۔
(۸) کم از کم سال میں ایک دینی اجلاس کرانا:مسجد کے ذمہ داروں اور محلے کے اہل حل و عقد سے مل کر سال میں کم از کم ایک بڑا اور اچھا دینی اجلاس کرانے کی کوشش کریں جس میں جید علماء کرام اور اچھے خطباء اورواعظین کو بلائیں اور طے شدہ مفید و متنوع موضوعات پر ان کے خطبات وتقاریر کا نظم کریں، ان شاء اللہ اس کے بڑے مفید اور دور رس نتائج بر آمد ہونگے ۔اور لوگوں میں جو دین سے غفلت اور بے علمی پائی جاتی ہے اس کا ازالہ ہوگا ۔
(۹) محلہ کی تقریبات سے دعوت و تبلیغ کیلئے استفادہ کرنا:یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ائمہ مساجد عموماً محلہ پڑوس کے تمام خوشی و غمی کے پروگراموں میں شریک رہتے ہیں ،چنانچہ شادی اور عقیقہ وغیرہ کی تقریبات میں بھی انہیں دعوت دی جاتی ہے اور کسی کی بیماری اور وفات پر بھی انہیں بلایا جاتا ہے ،ان تقریبات و مواقع سے انہیں دعوت و تبلیغ کے لئے استفادہ کرنا چاہئے اور اپنے خطبات یا گفتگو کے ذریعے لوگوں کو اپنے سارے امور ،شریعت کے مطابق انجام دینے کی ترغیب دینی چاہئے، اور حکمت و محبت سے ان مواقع کے دینی مسائل بتانا چاہئے۔
(۱۰)اپنے اسلامی تعلیمات کا نمونہ بنانا: ائمہ مساجد کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کی حیثیت معاشرے میں ایک عالم دین، داعی اور پیشوا کی ہوتی ہے۔اور تمام لوگ انہیں اپنے لئے اسوہ ونمونہ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں ،اس واسطے انہیں علم و عمل،تقویٰ و پرہیز گاری ،حکمت و موعظت ،اخلاق و محبت اور دیگر تمام اوصاف و کردار میں کتاب و سنت کا جیتا جاگتا نمونہ بننے کی کوشش کرنا چاہئے، تبھی ان کی محنت بار آور ہوگی اور جد و جہد کا خاطر خواہ فائدہ ہوگا ۔
یہ چند امور ہیں جنہیں میرے خیال میں اگر ائمہ مساجد صحیح طریقے پر انجام دینے لگیں تو ہماری مسجدیں تمام مسلمانوں کے لئے بہترین تربیت گاہ اور روحانی مرکز بن جائیں گی۔
لیکن اس کے لئے ضروری ہے ائمہ میں ان امور کی انجام دہی کی صلاحیت اور تڑپ ہو، وہ انتہائی مخلص ہوں ،انہیں کتاب و سنت اور فقہ اسلامی پر اچھی دسترس ہو ،اور ان میں اتنی خاکساری اور تواضع ہو کہ جو مسائل انہیں معلوم نہ ہوں وہ اپنے سے بڑے علماء سے پوچھ لیں ۔علاوہ ازیں مسجد کے متولی اور ٹرسٹیان انہیں اچھی تنخواہیں دیں اور ان نشاطات اور اعمال میں ان کے ساتھ بھر پور تعاون کریں۔اور انھیں اپنا زر خرید غلام بنانے کے بجائے آزادی سے حق بات کہنے، برائیوں سے روکنے اور دعوت وتبلیغ و اصلاح کا کام کرنے دیں۔
اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اپنے دین کا داعی اور مبلغ بنائے اور ہمارے ائمہ مساجد اور ٹرسٹیان کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ سب مل کر مسجدوں کو حقیقی روحانی مرکز بنائیں۔آمین

2 Comments

  1. ?ﺟﻮ ﻗﻮﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﭼﻮﺳﮯ ﻭﻩ ﮐﯿﺴﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﻣﺴﺘﺤﻖ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ?

    ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎﮨﻮﺍ
    ﻣﺎﺷﺎﺀاللہ ﮨﺮﻃﺮﻑ ﺗﻌﻤﯿﺮﯼ ﮐﺎﻡ ﭼﻞ ﺭﮨﺎﺗﻬﺎ
    ﮐﮩﯿﮟ ﺳﻨﮓ ﻣﺮﻣﺮ ﺑﭽﻬﺎﯾﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﻬﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﭨﺎﺋﻠﯿﮟ ﻟﮕﺎئی ﺟﺎﺭﮨﯽ ﺗﻬﯿﮟ
    ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺠﻠﯽ ﻓﭩﻨﮓ
    ﮐﮩﯿﮟ ﺭﯾﭙﯿﺮﻧﮓ ﻭﻏﯿﺮﻩ ﻭﻏﯿﺮﻩ
    ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ پتہ ﭼﻼ کہ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ 20 ﻻﮐﻪ ﺭﻭﭘﮯ ﻟﮓ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﺍﺯﻩ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ
    ﺗﻌﺠﺐ ﺍﺱ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺭﮨﺎﺗﻬﺎ
    بلکہ
    ﺗﻌﺠﺐ ﮐﯽ ﺍﺻﻞ وجہ یہ ﺗﻬﯽ
    کہ ﻣﺴﺠﺪ ﺑﻨﯽ ﺑﻨﺎئی ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺳﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﻬﯽ
    ﺑﺲ ﻧﻤﺎﺯﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﮩﻮﻟﺖ
    ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﻬﯽ ﺯﯾﺎﺩﻩ
    ﺧﻮﺵ ﻧﻤﺎئی ﮐﮯ ﺟﺰبہ ﺳﮯ یہ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﻬﺎ
    ﺍﮔﻠﮯ ﮨﯽ ﻟﻤﺤﮧ
    ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ہوئی ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﻩ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯽ
    ﺍﺱ ﺍﻣﯿﺪﭘﺮ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ 20 ﮨﺰﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺗﻨﺨﻮﺍﻩ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﯽ
    ﺟﺲ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ 50 ﻻﮐﻪ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺧﻮﺷﻨﻤﺎئی ﮐﮯﻟﺌﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮ
    ﺗﻮ
    ﻭﮨﺎﮞ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﻩ ﮐﻮﺉ ﻣﺸﮑﻞ ﻧﮩﯿﮟ
    ﻟﯿﮑﻦ
    ﻣﯿﺮﯼ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﺐ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ 5000 ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ ﺗﻨﺨﻮﺍﻩ ﺑﺘﻼئی
    ﺍﻭﺭ ﺳﺘﻢ ﺑﺎﻻﺋﮯ ﺳﺘﻢ
    ﻭﻩ ﺑﻬﯽ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ
    ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﻮﭺ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮔﯿﺎ
    ﮐﮧ
    ﺳﻦ 2016 ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﮐﺎ ﺗﻮ ﻣﺘﻮﻟﯽ ﮐﮯ ﮔﻬﺮ ﺩﻭﺩھ ﮨﯽ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﮨﻮﮔﺎ
    ﺍﻭﺭ
    ﺍﯾﮏ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ
    ﮔﻬﯽ
    ﺗﯿﻞ
    ﺁﭨﺎ
    ﺳﺒﺰﯼ
    ﮔﻮﺷﺖ
    ﺑﺠﻠﯽ ﺑﻞ
    ﭘﺎﻧﯽ ﺑﻞ
    ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻓﯿﺲ
    ﮔﯿﺲ ﺳﻠﯿﻨﮉﺭ
    ﭼﺎﺋﮯ ﻧﺎﺷﺘﮧ
    ﺩﻭﺍ ﻭﻏﯿﺮﻩ
    ﻣﮩﻤﺎﻥ ﻭﻏﯿﺮﻩ
    ﺳﻔﺮ ﻭﻏﯿﺮﻩ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ
    ﮐﭙﮍﮮ
    ﺳﺮﺩﯼ ﮔﺮﻣﯽ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ
    ﻭﻏﯿﺮﻩ ﻭﻏﯿﺮﻩ
    ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﺎ ﻣﻮﮞ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮨﺰﺍﺭ
    ﺍﻧﺎﻟﻠﮧ ﻭﺍﻧﺎ ﺍﻟﯿﮧ ﺭﺍﺟﻌﻮﻥ
    ﺍﻧﺘﮩﺎﺉ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺳﺎﺭﮮ ﺟﺰﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ دبا ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﮨﻮﺍ
    ﭘﻬﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﮨﻢ ﻣﺸﻔﻖ ﺑﺎﺧﺪﺍ ﻋﺎﻟﻢ ﺩﯾﻦ ﻣﻔﺘﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﻩ ﮐﯿﺎ
    ﺳﻨﮑﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﻬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ
    ﺍﻭﺭ
    ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ
    ﮐﮧ
    ” ﺁﺝ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺟﻮﺣﺎﻻﺕ ﺁﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﮯ ﺧﻮﻥ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﺭﮨﮯﮨﯿﮟ ”
    ﺣﻀﻮﺭ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺣﺠﺮﺍﺳﻮﺩ ﮐﻮﺧﻄﺎﺏ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎﺗﻬﺎ
    ﮐﮧ تجھ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﻩ ﻋﺰﺕ ﻭﺍﻻ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﮯ
    ﺗﻮ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺣﺠﺮ ﺍﺳﻮﺩ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﺎﻟﻢ ﺩﯾﻦ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﺪﺭﺟﮩﺎ ﺍﻓﻀﻞ ﮨﮯ
    ﻟﮩﺬﺍ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﺎ ﺍﻣﺎﻡ ﮨﮯ
    ﺍﺏ ﺍﮔﺮ ﻣﻤﺒﺮﺍﻥ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﻤﯿﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﻮﻟﯽ ﺣﻀﺮﺍﺕ
    ﺍﺋﻤﮧ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﮐﻮ ﮐﻤﺘﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ سمجھ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺗﻮ
    ﺍﻥ ﮐﻮ ﺟﺎﮨﻞ ﺍﺟﮩﻞ ﻧﺎﮨﻨﺠﺎﺭ ﻧﺎﺑﮑﺎﺭ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﺑﮯﺩﯾﻦ ﻣﺘﮑﺒﺮ ﻧﺎﻻﺋﻖ ﮐﮩﺪﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺉ ﻏﻠﻂ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ
    ( ﯾﻬﺪﯾﻬﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﯾﺼﻠﺢ ﺑﺎﻟﻬﻢ )
    ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﺭﮨﺎ ﮐﺎ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮨﮯ
    ﮐﮧ
    ﺟﺐ ﺑﻬﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﻤﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﭽﻪ ﺑﯿﻠﻨﺲ ﺑﮍھ ﺟﺎﺗﺎﮨﮯ
    ﺗﻮ
    ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﻭ ﻓﮑﺮ ……
    ﺑﺲ ﯾﮩﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﻮ
    ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺧﺎﻧﮧ
    ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼﺀ
    ﺍﯾﻨﭧ ﮔﺎﺭﺍ ﻣﭩﯽ ﻣﯿﮟ
    ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎﺟﺎﺋﮯ
    ﭼﺎﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﻮئیﭼﯿﺰ ﺑﻨﯽ ﺑﻨﺎئی ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﻧﯽ ﭘﮍﮮ
    ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ
    ﮐﮧ
    ﺍﻣﺎﻡ ﯾﺎ ﻣﻮﺫﻥ ﯾﺎ ﻣﺪﺭﺱ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﻫﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎﺟﺎﺋﮯ
    ﯾﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺩﯾﺎﺟﺎﺋﮯ
    ﯾﺎ ﻣﮑﺘﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺎﺗﺬﻩ ﮐﺎ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎﺋﮯ
    ﺣﺮﻑ ﻏﻠﻂ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﻬﯽ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯿﮟ
    ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺍﺋﻤﮧ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﮐﮯ ﻣﮑﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﺠﺮﻩ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺬﺍﺭ ﮐﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮﮔﺌﮯ
    ﻣﮕﺮ
    ﺍﻥ ﻣﻤﺒﺮﺍﻥ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﮐﻮ ﺫﺭﺍ ﺑﻬﯽ ﺭﺣﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ
    ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻑ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﻋﺎﺭﯼ ﮨﻮﮐﺮ
    ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻻﮐﻬﻮﮞ ﮐﮍﻭﮌﻭﮞ ﺭﻭﭘﮯ ﻏﯿﺮﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎﺩﯾﺌﮯ
    ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻤﺒﺮﺍﻥ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﮐﻮ ﺩﻫﯿﺎﻥ ﺭﮐﻬﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ
    ﮐﮧ
    ﺣﺴﺎﺏ ﻭ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺗﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﺮﺍﺯﻭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻬﯽ ﮨﮯ

    کاش یہ آواز دور تک پہنچے!!!!
    ندائے منبرومحراباب

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*