اولاد کے حقوق

احتشام الحق سلفی
shaz_bazmi@yahoo.co.in

اولاد اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ انسان اس دنیا میں چاہتا ہے کہ اس کی نسل باقی رہے ، بڑھے اور پھلے پھولے۔ اسلام نسلوں کو بڑھانے اور اسے فروغ دینے کا حکم دیتا ہے۔ اسلامی تعلیمات ہمیں بتاتی ہے کہ ایسی عورت سے شادی کی جائے جو زیادہ بچہ دینے والی اورمحبت کرنے والی ہو۔ اسلام نے بچوں کی پیدائش کا ایک ضابطہ پیش کیا ہے اور ان سے رابطہ اور تعلق کی برقراری کے لیے حقوق متعین کیے ہیں۔

اسلام نے بچوں کے درج ذیل حقوق متعین کئے ہیں:
(۱)پیدائش کا حق: اسلامی تعلیمات اولاد کے قتل سے منع کرتی ہے۔ خواہ یہ قتل قبل پیدائش ہو یا بعد۔ اس سلسلے میں دو تعلیمات ہیں۔ پہلی یہ کہ اپنی اولاد کو افلاس کی وجہ سے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ تمہیں بھی رزق دیتا ہے اور انہیں بھی۔ دوسرے رسول ا نے فرمایا کہ جس جان کا دنیا میں آنا لکھ دیا گیا ہے وہ آکے رہے گی۔

(۲) رضاعت وحضانت: پیدائش کے بعد والدین پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کی ہر طرح سے نگہداشت کی جائے۔ اس کی رضاعت کی جائے۔ ایام طفولیت کی ہر وہ ذمہ داری‘ بچہ جسے ادا کرنے سے عاجز ہے والدین اس کو ادا کریں۔
(۳)تربیت اور تعلیم: اسلام اولاد کی تربیت کے لیے ان تمام وسائل کے اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے جو اولاد کی اچھی تربیت کے لیے لازمی ہیں۔ مثلاً بہترین ماں کا انتخاب اوراولاد کی صالحیت کے لیے دعائیں۔ بچہ جیسے جیسے بڑا ہو والدین کو ان کی تربیت کرنی چاہئے ۔ انہیں ایسی عادتیں سکھائی جائیں جن سے وہ سماج اور ریاست کے اچھے شہری اوراعلی اخلاقی کردار کے حامل بن سکیںاوراپنے دین وایمان کو باقی رکھیں ۔والدین کو انہیں بساط بھر تعلیم دلانی چاہئے تاکہ ان کی فطری صلاحتیں ابھر سکیں ۔ والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کودین کی پوری پوری تعلیم دلائیں۔کم از کم بنیادی تعلیم سے لازمی طورپر آشنا کرائیں تاکہ دین سے اس کا رشتہ قائم اور مضبوط رہے۔انہیں اوامر ونواہی، فرائض وواجبات سے آگاہی ہو اورحلال وحرام کی تمیز ہوسکے۔
تعلیم کے سلسلہ میں موجودہ مسلمان لا نظریت کے شکار ہیں۔حتی کہ تعلیم یافتہ طبقوں میں بھی تعلیم کا غیر واضح اور مبہم تصور پایا جاتا ہے۔ موجودہ مسلم سماج میں مختلف طرح کے تعلیمی رجحانات پائے جاتے ہیں۔ ایک طبقہ میں تعلیم کا حصول دیوانگی کی حد تک پہنچا ہوا ہے تو وہیں دین وایمان سے بیزاری اور اخلاقی اقدار سے بے پروائی بھی موجود ہے۔ ان کے ہاں تعلیم کا مقصد صرف اور صرف دولت کا حصول ہے۔ خواہ اس کے لیے کسی طرح کے اقدامات کرنے پڑیں۔ تو دوسرا طبقہ اسی دولت کے حصول کے لیے تعلیم میں وقت صرف نہیں کرنا چاہتاہے ۔ ایسے لوگ تعلیم سے سرد مہری اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بعض طبقوں کو اب بھی معاشی تنگی کی وجہ سے تعلیم کے حصول کی آسانی دستیاب نہیں ہے۔ بعض لوگ دینی تعلیم کو فرسودہ ، غیر مفید اور عبث سمجھتے ہیںتو اس کے بالمقابل ایک طبقہ دینی تعلیم کے علاوہ دیگر تعلیم کو تعلیم کے خانہ میں شمار ہی نہیں کرتا ہے۔ بعض لوگ بس ایک رو میں اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرارہے ہیں۔ نہ انہیں یہ پتا ہے کہ کیاکیا پڑھانا ہے ۔ کس بچے کے لیے کون سی تعلیم موزوں ہے۔ بچے کو کہاں پڑھانا ہے وغیرہ۔
 لڑکیوں کی تعلیم کے تئیں بھی موجودہ مسلم سماج میں عجیب متضاد رویہ پایا جاتا ہے۔ بعض لوگ اب بھی لڑکیوں کی تعلیم کے قائل نہیں ہےں تو بعض لوگوں کے لیے مخلوط تعلیمی نظام لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مسئلہ پیدا کررہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مخلوط تعلیمی نظام دینی حمیت رکھنے والے مسلمانوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اس جانب اگر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا تو عورتوں کے ساتھ امتیاز کا مغربی الزام شدید تر ہوتا جائے گا۔ لیکن یہ مسئلہ صرف لڑکیوں ہی کا نہیں لڑکوں کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے۔ بعض لوگ اپنے لڑکوں کے لیے تو مدارس کی تعلیم کو غیر مفید سمجھتے ہیں یا انہیں اس میں وہ Charmingنظر نہیں آتی ہے جو عصری تعلیم میں ہے لیکن لڑکیوں کے لیے مدارس کے علاوہ تعلیم کی ضرورت کا چنداں احساس نہیں کرتے ۔ان میں سے بعض لوگ شاید مخلوط تعلیم میں اپنے لڑکوں کی پاکدامنی پر بزعم خود پورا یقین رکھتے ہیں یا انہیں لڑکوں کی پاکدامنی اس طرح عزیز نہیں جس طرح لڑکیوں کی پاکدامنی۔ایک طبقہ کو تعلیمی بیداری نے تعلیم کی اہمیت سے آشنا کیا تو ساتھ ہی ان میں منفی ذہنیت بھی پیدا کردی ہے۔ اب نہ انہیں لڑکیوں کے دین وایمان کے جانے کا احساس ہے نہ ہی عزت وعصمت کا خوف۔ دیوثی کا یہ حال ہے کہ اسکول کے کلچرل پروگرواموں میں ڈرامہ کے اسٹیج پر اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے ذریعہ پیش کردہ حیا سوز کردار وںکا نظارہ خودبھی کرتے ہیں اور اپنی جدیدیت اور ترقی پر جی بھر کے خوش ہوتے ہیں۔
 ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے تعلیمی نظام کی تشکیل خود کریںجس میں بنیادی سطح پر عصری ومذہبی تعلیم کا افتراق نہ ہو۔ ذہنی ہم آہنگی اور ذاتی دلچسپی کے اعتبار سے ثانوی سطح سے طلبہ وطالبات کے لیے مخصوص میدان کا انتخاب کیا جائے۔ اسی میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوگا جس کا رجحان دینی تعلیم کی طرف ہوگا۔ وہ اس میں مہارت پیدا کریں گے ۔ اسی طرح عصری تعلیم کے مختلف میدانوں میں بھی افراد پیدا ہوں گے۔
 عمر کی اس سطح سے جہاں سے جنسی شعور بیدار ہونے لگتا ہے لڑکے اور لڑکیوں کے لیے علیٰحدہ تعلیمی نظام ہو۔ لڑکیوں کے لیے عصری تعلیم کے ایسے گوشے جن میں ان کی فطرت سے متصادم عمل نہ ہو تعلیم کے حصول کا پورا پورا موقع موجود ہو۔
(۵)روزگار کے لائق بنانا:اسلام معاشی استحکام کی نہ صرف حمایت کرتا ہے بلکہ ان راستوں کوبھی بند کرتا ہے جو مفلسی اور معاشی تنگی کا باعث ہیں۔پھر یہ کہ حقوق کے مسائل بھی اس بات کے متقاضی ہیں کہ انسان بساط بھر معاشی استحکام حاصل کرے۔ بعض حقوق معاشی تنگی کی وجہ سے پامالی کی زد میں آجاتے ہیں۔ تعلیم کا حصول بڑی حد تک معاشی استحکام پر ہے۔ سیاسی استحکام کا خیال بھی تعلیمی ترقی اور معاشی استحکام کے بغیر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسلام والدین پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ اپنی اولاد کو اس لائق بنائیں کہ وہ معاشی تگ ودو میں کامیابی کے ساتھ حصہ لے سکیں۔ اپنی جائیداد کا کم از کم دو تہائی حصہ چھوڑ رکھیں تاکہ اولاد کو معاشی استحکام حاصل ہو۔ موجودہ دور میں ایسی تعلیم دلائی جائے جو بہتر روزگار کی ضامن ہے۔ اگر تجارت کرنا چاہتے ہوں تو انہیں ایسی سہولیات فراہم کی جائےں جن سے وہ کامیاب ہوسکیں۔
 یہ امر مسلمہ ہے کہ اسلام نے عورت کے معاشی استحکام کی ذمہ دار ی مردوں پر رکھی ہے۔ لیکن جہاں انسان کے دین وعصمت کو خطرہ نہ ہو تو ہر شخص کو یہ آزادی ہے کہ وہ معاشی استحکام کے وسائل کو اختیار کرے۔ موجودہ وقت میں زندگی کے شعبوں میں جس طرح وسعت پیدا ہوئی ہے کئی گوشے خواتین کے لیے مختص ہوگئے ہیں۔ ان میں  بلا اختلاط مرد وزن ان کے لیے روزگار کے مواقع ہیں۔ یہ شعبے نہ صرف یہ کہ عورت کے لیے مناسب روزگار فراہم کرتے ہیں بلکہ عورتوں کے متقاضی ہیں۔ اس میں اس میدان کی تربیت یافتہ خواتین درکار ہیں۔ بعض ایسے سیکٹرس ہیں جس میں اس میدان کی تربیت یافتہ عورت کی کمی کی وجہ سے مردوں سے کام لیے جاتے ہیں۔
  بعض اوقات عورتیں معاشی تنگی کاشکار ہوجاتی ہیں۔ اس صورت میں انہیں خود ہی معاشی تگ ودو میں حصہ لینا پڑتا ہے ۔چنانچہ جہاں لڑکوں کو روزگار ضامن تعلیم دی جائے وہیں لڑکیوں کو بھی ایسی روزگار ضامن تعلیم دلائی جائے جو ان کی نسوانی فطرت سے متصادم نہ ہو۔ تاکہ ایسی صورت حال میں ان کے لیے بہتر روزگار کا حصول ممکن ہوسکے۔ یہ نہ صرف ان کی ذاتی ضرورت کے لیے لازمی ہے بلکہ بعض صورتوں میں ان کی حیثیت مذہبی بھی ہوجاتی ہے۔
 (۶)مساوات :اسلام اولاد کے درمیان تفریق اور امتیازی سلوک سے منع کرتا ہے۔ والدین کا یہ فرض ہے کہ بچوں کے درمیان مساوات قائم رکھیں۔ تعلیم وتربیت ، کھانے پینے ، لباس وپوشاک گویا زندگی کی ہر ضرورت میں ان کے درمیان عدل ومساوات کے ساتھ برتاو کریں۔ اسلام جنس کی بنیاد پر کسی تفریق کا قائل نہیں ہے ۔ جس طرح لڑکوں کے حقوق ہیں اسی طرح لڑکیوں کے بھی حقوق ہیں۔ ان کی پیدائش ، رضاعت وحضانت، تربیت اور تعلیم ، روزگار اور معاشی استحکام ، شادی اور مالی حقوق کی ادائیگی میں اسلام اسی جذبہ سے کام لینے کا حکم دیتا ہے جس کا اظہار کسی لڑکے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔چنانچہ ان کے نفقات، تعلیم وتربیت اور دیگر حقوق کی ادائیگی اسی طرح ہوگی جس طرح ایک لڑکے کی ہوگی۔ والدین کی وفات کے بعد لڑکیاں بھی ان کی جائیداد کا شریعت کے متعین کردہ حصہ کی حقدار ہوں گی۔
 بہواورداماد کے درمیان بھی مساوی سلوک ہونا چاہیے۔ بعض گھروں میں اسی امتیازات کی وجہ سے رنجش پیدا ہوتی ہے۔
(۷)شادی:اسلام اولاد کو یہ اختیار دیتا ہے کہ شادی ان کی پسند کے مطابق کی جائے۔ وہ اپنا گھر بسائیں اور اس کو فروغ دیں۔ اسلام اولاد کی شادی کی نہ صرف ترغیب دیتا ہے بلکہ ولیوں کو حکم دیتا ہے کہ ان کی شادی کرادی جائے۔ یعنی جب وہ شادی کی خواہش کریں تو ان کی شادی کردی جائے۔ یا وہ شادی کے لائق ہوجائیں تو ولیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان کی شادی کردیں۔ لیکن یہ مطلق اختیار نہیں ہے بلکہ شادی کے سلسلہ میں اسلامی ضابطے کا پابند ہے۔ اسلام بے ہنگم زندگی کا قائل نہیں ہے۔ چنانچہ ہر وہ ذریعہ جو انتشار وبدامنی کا باعث ہے اس کا دروازہ بند رکھنا چاہتا ہے۔اسلام مفاسد کے سد باب کو مصالح کے حصول پر ترجیح دیتا ہے۔ اس کا اصول ہے درءالمفاسد اولی من جلب المصالح۔
 اسلام کے بارے میں یہ سمجھاجاتا ہے کہ اسلام عورت کو شادی میں پسندیدگی کا حق نہیں دیتا ہے جبکہ جس طرح مردوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کے مطابق شادی کریں اسی طرح عورتوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ ان کی شادی ان کی پسند کے مطابق کی جائے۔ البتہ لڑکی کے لیے ولی کی اجازت شرط ہے۔ ولی کوبھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ جس لڑکے سے چاہیں اس کی شادی کرادیں بلکہ لڑکی سے ان کی اجازت لینا لازمی ہے۔ اگر اس کی اجازت کے بغیر شادی کی جاتی ہے اور لڑکی اس کو پسند نہیں کرتی ہے تو یہ شادی فسخ ہوجائے گی۔ اگر لڑکی کسی جگہ شادی کرنا چاہتی ہے اور ولی کو اس کے دین وایمان سے یا معاشی صورت حال سے اطمینان نہیں ہے تو ولی کو اختیار ہے کہ وہ اسے روک دے۔ البتہ کسی خاص جگہ پر شادی کرنے کے لیے کسی بالغ لڑکی کو مجبور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
 اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک عورت ایک وقت میں ایک ہی شخص کی بیوی رہ سکتی ہے۔ ایک شخص کی بیوی رہتے ہوئے اس سے بالجبر یا بالرضا یا بالمبادلہ کسی صورت میں جنسی تمتع کا حق حاصل نہیں ہے۔ ایک وقت میں ایک مرد چار عورتوں تک سے شادی تو کرسکتا ہے لیکن بلا شادی جنسی تمتع کا حق اسے یا کسی عورت کو بھی حاصل نہیں ہوگا۔اسی طرح اسلام میں جز وقتی یعنی Contract یا Bound Marriage کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ نہ ہی کسی مرد یا عورت کو یہ حق ہے کہ وہ جب جب چاہیں ازدواجی رشتے میں منسلک ہوجائیں اور جب جب چاہیں اس سے الگ ہوجائیں۔ اسلام اس جبر کا قائل بھی نہیں کہ ایک مرتبہ شادی کے بندھن میں بندھ جانے کے بعد ذہنی ہم آہنگی یا نباہ کی صورت باقی نہیں رہنے کے باوجود دونوں اس رشتے سے الگ نہیں ہوسکتے، اس ذہنی اذیت سے گلوخلاصی کے لیے طلاق کا راستہ بھی موجود ہے۔  طلاق مغلظہ ہوجانے کے بعد اس عورت سے اس وقت تک شادی نہیں کی جاسکتی جب تک کہ کسی دوسرے مردسے اس کی شادی نہ ہوجائے اور اتفاق سے وہاںبھی کسی وجہ سے طلاق ہوگئی ہو یا اس کا شوہر انتقال کرجائے۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*