مصیبت میں فطرت عودکر آتی ہے

شیخ صلاح الدین یوسف

هو الذي يسيركم في البر والبحر حتى إذا كنتم في الفلك وجرين بهم بريح طيبة وفرحوا بها جاءتها ريح عاصف وجاءهم الموج من كل مكان وظنوا أنهم أحيط بهم دعوا الله مخلصين له الدين لئن أنجيتنا من هذه لنكونن من الشاكرين  (سورة یونس 22)

ترجمہ:”وہ اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اوردریامیں چلاتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہواوروہ کشتیاں لوگوںکوموافق ہوا کے ذریعہ سے لے کر چلتی ہیں اوروہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں، ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اورہرطرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اوروہ سمجھتے ہیں کہ (بُرے ) آگھرے،(اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیںکہ اگرتوہم کو اس سے بچالے توہم ضرورشکرگزاربن جائیںگے۔“
تشریح: یُسَیِّرُکُم  :  وہ تمہیں چلاتا یاچلنے پھرنے اورسیر کرنے کی توفیق دیتا ہے ۔” خشکی میں“یعنی اس نے تمہیں قدم عطا کیے جن سے تم چلتے ہو، سواریاں مہیا کیں جن پر سوار ہوکر دوردراز کے سفر کرتے ہو۔”اورسمندرمیں“یعنی اللہ نے تمہیں کشتیاںاورجہاز بنانے کی عقل اورسمجھ دی۔ تم نے وہ بنائیںاوران کے ذریعے سے سمندروںکا سفر کرتے ہو۔
 أنهم أحيط بهم کا مطلب ہے : جس طرح دشمن کسی قوم یا شہر کا احاطہ یعنی محاصرہ کرلیتا ہے اورپھر وہ دشمن کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں، اسی طرح وہ جب سخت ہواو¿ں کے تھپیڑوںاورتلاطم خیز موجوںمیں گھر جاتے ہیں اورموت ان کو سامنے نظر آتی ہے ۔
(اس وقت) سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارتے ہیں:یعنی پھر وہ دعا میں غیراللہ کی ملاوٹ نہیں کرتے جس طرح عام حالات میں کرتے ہیں ۔ عام حالات میں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ بزرگ بھی اللہ کے بندے ہیں ،انہیں بھی اللہ نے اختیارات سے نواز رکھا ہے اورانہی کے ذریعے سے ہم اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں ۔ لیکن جب اس طرح شدائد میں گھرجاتے ہیں تویہ سارے شیطانی فلسفے بھول جاتے ہیں اورصرف اللہ یاد رہ جاتا ہے اورپھر صرف اسی کو پکارتے ہیں ۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ انسان کی فطرت میں اللہ واحد کی طرف رجوع کا جذبہ ودیعت کیاگیاہے۔ انسان ماحول سے متاثر ہوکر اس جذبے یا فطرت کو دبادیتا ہے لیکن مصیبت میں یہ جذبہ ابھر آتاہے اوریہ فطرت عودکرآتی ہے ۔ جس سے معلوم ہوا کہ توحید ‘فطرت انسانی کی آواز اور اصل چیز ہے ‘ جس سے انسان کو انحراف نہیں کرنا چاہیے ۔کیوںکہ اس سے انحراف فطرت سے انحراف ہے جو سراسر گمراہی ہے ۔
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مشرکین اس طرح جب مصائب میں گھر جاتے تو اپنے خودساختہ معبودوںکی بجائے صرف ایک اللہ کو پکارتے تھے ۔ چنانچہ حضرت عکرمہؓ بن ابی جہل کے بارے میں آتا ہے کہ جب مکہ فتح ہوگیا تویہ وہاں سے فرار ہوگئے ۔ باہر کسی جگہ جانے کے لیے کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی طوفانی ہواو¿ں کی زدمیں آگئی ‘ جس پر ملاح نے کشتی میں سوار لوگوں سے کہا کہ آج اللہ واحد سے دعا کرو‘ تمہیں اس طوفان سے اس کے سوا کوئی نجات دینے والا نہیں ہے ۔حضرت عکرمہ ص کہتے ہیں : میں نے سوچا اگر سمندرمیں نجات دینے والا ایک صرف ایک اللہ ہے تو خشکی میں بھی یقینانجات دینے والا وہی ہے ۔ اور یہی بات محمد(ا) کہتے ہیں ،چنانچہ انہوںنے فیصلہ کرلیا کہ اگرمیں یہاں سے زندہ بچ کر نکل گیا تو مکہ واپس جاکر اسلام قبول کرلوںگا۔ چنانچہ یہ نبی ا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہوگئے ۔ رضی اللہ عنہ
لیکن افسوس ! امت محمدیہ کے عوام اس طرح شرک میں پھنسے ہوئے ہیں کہ شدائد وآلام میںبھی وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے فوت شدہ بزرگوںکو ہی مشکل کشا سمجھتے اورانہی کو مدد کے لیے پکارتے ہیں ! فانا للہ وانا الیہ راجعون ۔ آہ ! فلیبک علی الاسلام من کان باکیاً

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*