آپ نے اپنے دین کے لیے کیا کیا؟

 صفات عالم محمد زبير تيمي
 آج باطل پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اُتر چکا ہے اور اپنے ژولیدہ افکار وخیالات کو فروغ دینے کے لیے ہرطرح کے وسائل بروئے کارلا رہا ہے، بالخصوص انٹرنیٹ کی دنیا میں فیس بک ، ٹویٹر، بلوگز، یوٹیوب اورمختلف ویب سائٹس کے ذریعہ شہوات اورشبہات کو ہوا دینے میں لگا ہوا ہے، ہم بحیثیت مسلمان جانتے ہیں کہ وہ باطل کے داعی ہیں، اور ہم حق پر ہیں ، ہم اس دین کے ماننے والے ہیں جس کی تابعداری دنیامیں کامیابی اورآخرت میں نجات کا ضامن ہے، ہم اس دین کے ماننے والے ہیں جس کی راہ میں بڑی بڑی قربانیاں پیش کی گئی ہیں.
اسی دین کے لیے آدم عليه السلام تھکے تھے، نوح عليه السلام  نے ساڑھے نو سو سال تک محنت کی تھی، ابراہیم عليه السلام  کو آتش نمرود میں ڈالا گیا تھا، اسماعیل عليه السلام  کی گردن پر چھری چلی تھی، یوسف عليه السلام  کو سستے داموں بیچا گیا تھا اور وہ چند سالوں تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے تھے، زکریا عليه السلام  کو آری سے چیرا گیا تھا، یحیی عليه السلام کو ذبح کیا گیا تھا، ایوب عليه السلام نے سختیاں جھیلیں تھیں، موسی عليه السلام نے بنواسرائیل کے اکڑپن کو برداشت کیا تھا ، عیسی عليه السلام  کو سولی پر چڑھانے کی تدبیریں کی گئیں تھیں، اورآخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مسلسل 23 سال تک اذیتوں کا سامنا کیا تھا۔ اسی دین کے لیے آپ کو ساحر، کاہن اور دیوانہ کہا گیا تھا، آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے تھے، آپ کی گردن مبارک پر اونٹ کی اوجھڑیاں ڈالی گئی تھیں ، آپ نے پتھر کھایا تھا ،اسی دین کے لیے آپ کو گھرسے بے گھر کیا گیا تھا، آپ نے لڑائیاں لڑیں تھیں، آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے، اور بھوک کی شدت سے شکم مبارک پر پتھر باندھا تھا، پھر صحابہ کرام اور ہر دور میں اللہ والوں نے اس دین کے لیے جان ومال کی قربانیاں پیش کیں، تب جاکر یہ دین ہم تک محفوظ شکل میں پہنچا ہے۔
اس دین حق کی خدمت جن وانس تو کجا دنیا کی ساری مخلوق کررہی ہے ، اور اپنے وجود سے اسلام کی شہادت دے رہی ہے ۔ معمولی سا پرندہ ’ ہُدہُد‘ کے کردار پر غور کر کے دیکھ لیجئے : سلیمان عليه السلام  کو اللہ پاک نے جن وانس اورچرند وپرند سب پر اختیار دے رکھا تھا ،ایک دن ’ ہُدہُد‘ نام کا ایک پرندہ ان کی اجازت کے بغیر کہیں چلا گیا ، کچھ ہی دیر گزری تھی کہ آکر اس نے جذبات بھرے لہجے میں رپورٹ پیش کی کہ میں ملکِ سبا سے آرہا ہوں جہاں کی حکمراں ایک خاتون ہے، میں نے اسے اور اس کی قوم کو سورج کی پوجا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، شیطان نے انہیں گمراہ کر رکھا ہے، اسی لیے اللہ کو چھوڑ کر شمس پرستی میں لگے ہوئے ہیں ….پھر سلیمان عليه السلام  کا دعوتی مکتوب لے کر ملکہ سبا کی خدمت میں پہنچا ، ملکہ سبا نے سلیمان عليه السلام سے ملاقات کی ، بالآخر پوری قوم کے ساتھ ملکہ سبا اسلام کے دامن میں پناہ لیتی ہے۔
یہ ایک پرندے کا کردارہے ، جس کے اندر شرک کا منظر دیکھ کر دینی غیرت جاگ رہی ہے ، پھر شمس پرست قوم تک اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے پریشان ہوجاتا ہے۔ حالانکہ پرندے کی یہ ذمہ داری نہیں ہے، یہ ذمہ داری تو ہماری اورآپ کی ہے۔ ہمارے وجود کا مقصد ہی دوسروں کی رہنمائی ہے، ہم بہترین امت محض اس لیے قرار دئیے گئے ہیں کہ ہم خیر کے داعی اور دین کے سپاہی ہیں۔ اب ہم ذرا دل کو ٹٹولیں! اورمن سے پوچھیں! کہ آخرہم نے اپنے دین کے لیے کیا کیا ، ہم اپنے شب وروز کے معمول میں سے دین کے لیے کتنا وقت نکال پاتے ہیں، دنیا کے لیے جوہماری منصوبہ بندی اور پلاننگ ہوتی ہے اس کا کتنا حصہ ہم دین کے لیے دے رہے ہیں۔ کیا یہ واقعہ نہیں کہ آج ہماری اکثریت صبح سے لے کر شام تک دنیاوی زندگی کے تقاضوں میں لگی رہتی ہے ، ہم دین کی خدمت کے لیے سو بہانے بناتے ہیں، ہم کل قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کیا جواب دیں گے جب وہ ہم سے ان لوگوں کی بابت پوچھے گا جن تک دین نہ پہنچ سکا تھا، یا وہی لوگ ہماری گردن پکڑ کر اللہ کے دربار میں پیش کریں گے کہ خدایا ! اس نے ہم تک حق نہیں پہنچایا …. اس وقت ہمارا کیا جواب ہوگا؟ کونسا چہرہ لے کر اپنے نبی سے روبرو ہو سکیں گے جن کی 23 سالہ زندگی اس دین کے لیے وقف تھی….؟
تو پھر سستی کب تک اورغفلت کیوں کر، کمرہمت باندھیں ، فروعی اختلافات میں الجھ کر علم کا استحصال نہ کریں، ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھیں ، کرنے کے کام بہت ہیں ، ہم نہیں جانتے کہ اللہ کس سے کون سا کام لے لے ،اس لیے خود کو حقیر نہ سمجھیں، آپ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں ، قوم کو آپ کی سخت ضرورت ہے، آپ دین کے لیے جوبھی خدمت پیش کرسکتے ہیں پہلی فرصت میں اس کے لیے خود کو تیارکریں ، کیا آپ کو اس خبر پر تعجب نہیں ہے کہ جرمن کے میونخ شہر میں ایک نوجوان لڑکے نے کاروں کے پہیے کا بڑا اشتہاری بورڈ دیکھا جس پر لکھا گیاتھا: ”آپ یوکوہاما ٹائر کو نہیں جانتے….‘ ‘! اس مسلم نوجوان نے اسی اعلان کے بازوں میں قیمت دے کریہ اعلان شائع کرایا:
”آپ اسلام کو نہیں جانتے …. اگر جاننے کے خواہشمند ہیں تواس نمبر پر رابطہ کریں….“ پھر کیا تھا ہرطرف سے اُسے فون آنے لگا ،اور محض ایک سال میں ایک ہزارمردوخواتین نے اس کے ہاتھ پراسلام قبول کیا ۔ یہ دیکھ کر مخیرحضرات نے اس کی خدمت میں مالی تعاون پیش کیا جس سے اس نے ایک مسجد بنائی، دعوتی سینٹر قائم کیا اورتعلیم گاہ تعمیر کی ۔
آئیے! ہم بھی آپ کو ایک دعوتی ٹول دیتے ہیں، اگر ممکن ہوسکتا ہو تو اپنی ذاتی گاڑی پر یہ اعلان آویزاں کریں: ”آپ اسلام کو نہیں جانتے….جاننے کے خواہشمند ہیں تو ہمیں روکنے میں جھجھک محسوس نہ کریں“ پھر دیکھیں، اس کا کیا اثر ہوتا ہے، اگر آپ داعی کی حیثیت سے خود کو پیش نہیں کرسکتے تو کم ازکم دعوتی لٹریچرز تقسیم کرنے میں ہمارا ساتھ تو دے سکتے ہیں ، یہ رسالہ جو ابھی آپ کے ہاتھ میں ہے، کیا آپ کو پتہ ہے کہ اسے آپ تک پہنچا نے میں ہمیں کتنی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیا آپ نے کبھی اپنا محاسبہ کیا کہ اس رسالے نے ہمیں کیا دیا ہے ، کیا آپ نے اسے پڑھنے کے بعد دوسروں تک بھی پہنچانے کی سنجیدہ کوشش کی ہے ، پھرجنہوں نے آپ تک اسے پہنچایا ہے وہ بھی تو آپ ہی کے جیسے ایک ملازمت پیشہ آدمی ہیں، آخر آپ کے حصے میں یہ کام کیوں نہ آسکا، تصور کریں کہ اگر ایک رسالے کے ذریعہ اللہ پاک نے کسی کو ہدایت دے دی توآپ کے لیے یہ عمل دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ لہذا ہرطرح کے تحفظات کو بالاتر رکھتے ہوئے دین کی خدمت کے لیے ہمارا ساتھ دیجئے ۔ ہمیں آپ کے فون کا شدت سے انتظار رہے گا ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*