دینی سرگرمیاں

اولادکی دینی تربیت عصرحاضرکی اہم ضرورت ہے

انڈین مسلم ایسوسی ایشن (IMA)کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں مقررین کا اظہار خیال

کویت:انڈین مسلم ایسوسی ایشن (IMA) نے جمعیة الاصلاح الاجتماعی کے مرکزی ہال میں ایک عظیم الشان پروگرام منعقد کیا جس کا مرکزی موضوع ﴾قواا نفسکم وا ہلیکم نارا﴿تھا۔ برادرنثار نے ”دین کا قیام اپنے گھرمیں“جیسے اہم موضوع پر قرآن وسنت کی روشنی میں بتایاکہ ہم اپنے گھر میں دین کو کیسے قائم کریں، انہوں نے حدیث کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ آپ انے فرمایا کہ اللہ سے ڈرواوراپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو، ایک دوسری حدیث میں کہا کہ کسی باپ نے اپنی اولاد کو حسن ادب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دیا،یعنی باپ اپنی اولاد کو بہتر سے بہتر عطیہ دے سکیں، یہ ایک فطری بات ہے لیکن اولاد کے حق میں جو سب سے بہتر چیز ہوسکتی ہے وہ اس کی صحیح دینی تربیت ہے جس کی طرف بالعموم لوگ توجہ نہیں دیتے ، برادر نثار نے یہ بھی بتایا کہ اپنی بچیوں کوکم تر سمجھنااور بیٹوںکو برتر سمجھنا نادانی ہے، افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج ہمارا سماج بچیوں پر بچوں کو ترجیح دیتاہے ، اور بچیوں کی پیدائش کو اچھوت سمجھنے لگاہے۔
مولانا صفات عالم مدنی نے” اولاد ہماری امانت “جیسے اہم موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی اور قرآن وحدیث کی روشنی میں اولاد ہماری امانت ہیںکاحق اداکردیا، انہوں نے کہاکہ اولاد کی اچھی تربیت کرنا اور انہیں اسلام کے قریب کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے،آج معاشرے میں شہوات اورشبہات کی جو آندھیاںچل رہی ہیں ایسی صورتحال میں ہماری ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔
پروگرام کے اخیر میں مولانا صفات عالم مدنی نے سوالات وجوابات کی نشست کو بحسن وخوبی نبھایا سامعین نے بڑھ چڑھ کراس میں حصہ لیا ۔ مہمان خصوصی ڈاکٹرعبدالرحمن الشطی ڈائرکٹر کمیونٹی سنٹرجمعیة الاصلاح الاجتماعی نے حالات حاضرہ پر سیر حاصل گفتگوکی۔ مولاناصفات عالم مدنی کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا ۔شرکاءکے لیے انڈین مسلم ایسوسی ایشن کی طرف عشائیہ کا انتظام تھا۔پروگرام کی کاروائی جناب خورشیدعالم نے چلائی جب کہ تلاوت قرآن کا شرف حافظ عبد الرحمن کو حاصل ہوا۔

انجینئر سید غلام اکبر اللہ کو پیارے ہوگئے

جماعت اسلامی ہند کی معروف شخصیت جناب سید غلام اکبر کاانتقال77 سال کی عمرمیں 29اپریل2012ءکو حیدرآباد میں ہوگیا۔ ان کی پیدائش16مارچ 1935ءہوئی، عثمانیہ یونیورسٹی سے میکنیکل اور الیکٹریکل میں ڈگری حاصل کی ، اعلی تعلیم ماسکو یونیورسٹی سویت یونین سے حاصل کی۔ملک میں ک· اداروں میںانجینئرنگ کی خدمات انجام دینے کے بعد1984ءمیں سعودی عرب کاسفرکیا اوردسمبر1997ءتک وہاں کی وزارت داخلہ میں اپنی انجینئرنگ کی خدمات انجام دیں ۔سعودی عرب سے واپسی پر جنوری 1998ءتا2011ءمرکزجماعت اسلامی ہنددہلی میں سکریٹری مالیات کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ۔اورمرکزی شوری کے رکن رہ چکے ہیں ۔مرحوم ا نجینئر سید غلام اکبرسے میری باضابطہ ملاقات کویت میں ہوئی ،ویسے ان کے متعلق کافی دنوں سے سنتاتھا، جب وہ کویت تشریف لائے تو انہیں قریب سے دیکھا،ادھر چندسالوں سے قربت کافی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ملاقاتیں بھی کافی ہوتی تھیں ، وہ کویت جب بھی آتے توان کا اصرارہوتاکہ چل کر بعض عرب احباب سے ملاقاتیں کرلی جائیں، مرحوم کویت کے رفاہی کاموں اورمخیر حضرات سے کافی متاثر تھے۔ آخری مرتبہ جب وہ کویت تشریف لائے تو جمعیة بشائر الخیر کے صدر شیخ عبد الحمید جاسم البلالی سے ملنے بھی آئے ، اس وقت وہ بیمار تھے جس وجہ سے کافی ضعیف ہوگئے تھے اس کے باوجود سیڑھیوں کے ذریعہ فرسٹ فلور پر چڑھے ، اس وقت ان کی حالت دیکھ کر مجھ سے شیخ عبد الحمید البلالی نے کہاکہ میری طرف سے امیر جماعت اسلامی ہندکو کہہ دیناکہ شیخ سید غلام اکبر کافی کمزور ہوچکے ہیں ، انھیں آرام کرنے دینا چاہئے ۔جب میں مئی کے ابتدائی دنوں میں دہلی میں تھا کہ بعد نماز عشاءایک عزیزکا فون آیاکہ سید غلام اکبرصاحب کاانتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون ، مرکز میں تعزیتی اجتماع تھا شرکت کی لوگوں کے خیالات کا سننے کاموقع ملا۔
مرحوم1966ءسے جماعت اسلامی سے منسلک ہوئے لیکن1991ءمیں رکن بنے۔ وہ نہایت خوش اخلاق ، خوش مزاج ، بذلہ سنج اورزندہ دل آدمی تھے، دوسروں کے دکھ دردمیں کام آنے کا جذبہ بدرجہ اتم موجودتھا ، ہرحال میں خو ش رہنا ان کا وتیرہ تھا۔ دوسروں پرخرچ کرکے خوش ہونا ان کی طبیعت تھی ۔ اچھی خاصی آمدنی کے باجود انہوں نے اپنا ذاتی مکان نہیں بنایا ، ہمیشہ کرائے کے مکان میں ہی زندگی بسر کی ۔مرحوم روس میں اپنے تعلیمی سفر کے دوران روسی زبان بھی اچھی خاصی سیکھ لی تھی جس کی وجہ سے کولکاتہ کی ایک کمپنی نے انہیں روسی زبان جاننے کی وجہ سے اپنے یہاں ملازمت دی ۔ ملازمت کے دوران ایک موقع ایسا آیا جب کمپنی نے انہیں اپنے دام فریب میں گرفتار کرنے کے لئے عمدہ قسم کی شراب سے بھری فریج پیش کی اور کہا کہ اب آپ ہمارے ساتھ ہمیشہ وابستہ رہیں گے دوسرے دن صبح ہی انہوں نے اپنا استعفی پیش کردیااور واپس آگئے۔ مرحوم کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین صاحبزادیاں اور دو صاحبزادے ہیں۔

سکھوں کے لیے دعوتی اور تفریحی پروگرام

IPC مرکزی برانچ کے شعبہ دعوت کے زیراہتمام اس ماہ کویت کے چڑیاگھرمیںدعوتی اورتفریحی پروگرام منعقد کیاگیاجس میں تقریباً 30 غیرمسلموں نے شرکت کی، جن کاتعلق سکھ دھرم سے تھا الحمدللہ پروگرام بہت ہی کام یاب رہا –پنجابی زبان کے داعی جناب مولانا اسلام الدین ریاضی صاحب نے پروگرام ترتیب دیاتھا ، آپ نے سب سے پہلے غیرمسلموںکا خیرمقدم کیا اور انہیں چڑیا گھر میں مختلف حیوانات کا مشاہدہ کرایا اوران میں سے بعض کے اندراللہ کے وجود کی واضح نشانیاں بتائیں ۔
اس کے بعد باضابطہ دعوتی پروگرام کاآغازہوا جس کے پہلے سیکشن میں” اسلام اورسکھ دھرم کاتقابلی جائزہ“ کے موضوع پرلکچر دیتے ہوئے مولاناریاضی صاحب نے اسلام اورسکھ دھرم کا تعارف کرایااور دونوںمذاہب کے مابین مشترکہ امورکی وضاحت کی اوربتایاکہ گرونانک جی نے واقعی ہندودھرم کی اصلاح کا کام کیا تھا لیکن برصغیرمیں اسلام کی بگڑی ہوئی شکل کے سامنے اسلام کے تئیں نرم گوشہ رکھنے کے باوجود اسلام کی دولت سے محروم رہے اورایک نئے دھرم کی بنیاد ڈالی،اس کے بعد انہوںنے اسلام کے چند محاسن پر روشنی ڈالی ، پروگرام کے دوسرے سیشن میں لوگوںکے سوالات کے تشفی بخش جوابات دیئے گئے،جس سے شرکاءکو اطمینان حاصل ہوا،انہوںنے پروگرام کی ستائش کی ، یہاںتک کہ ایک سکھ گرو نے وسعت قلبی کامظاہرہ کرتے ہوئے سب کے سامنے اسلام کے تئیں اپنے خیالات کا اظہاربھی فرمایا – عشائیہ پر پروگرام کا اختتام ہوا ۔

عمرہ زائرین کے لیے منعقدہ پروگرام

گزشتہ دنوں IPC کے تعاون سے عمرہ پر جانے والے بھائیوں کےلئے اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت کے زیر اہتمام مسجد فہد سند العجمی فحاحیل میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ آغاز میں اسٹیج سیکرٹری جناب شہاب عالم سوری نے IPC شاخ فحاحیل کے رئیس شعبہ دعوت شیخ امین ابو محمود کو خطاب کی دعوت دی۔ انہوں نے عمرہ پر جانے والے حضرات کو مبارک باد دی اور کہا کہ نبی ا نے فرمایاہے: (اگر آدمی کبائر سے بچے تو) اللہ تعالیٰ ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ اللہ اسے گناہوں سے پاک صاف نئی زندگی عطا فرماتا ہے ۔ انہوں نے حاضرین کو توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ جب آپ مکہ مکرمہ جائیںتومناسک عمرہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ نبی ا اور اصحاب رسول ا کی دین کے فروغ کے لیے پیش کی گئی قربانیوں کو یاد کریں اور خود بھی دین کی دعوت کو زندگی کا نصب العین بنائیں کیونکہ جس امتِ وسط کے ساتھ ہمارا تعلق ہے اس کا مقصد ِ وجود ہی یہی ہے۔
اس کے بعد اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کی طرف سے مولانا محمد کمال نے عمرہ اور اس کے مسائل پر سیر حاصل گفتگو فرمائی اور لوگوں کے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب اللہ کے مہمان بن کر اس کے گھر جارہے ہیں، اس لیے کوشش کریں کہ دورانِ سفر آپ کے ہاتھ سے اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں۔ سفر کی طوالت انسان کو تھکا دیتی ہے ۔ انسان چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ اپنا رویہ نرم رکھیں۔ خدمت کروانے کی بجائے دوسروں کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں اور اجر و ثواب کمائیں۔
آخر میں اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کویت کے صدر جناب اخلاق احمد نے اپنے صدارتی خطاب میںفرمایا کہ آپ یقینا خوش نصیب ہیں کہ آپ کو اللہ نے اپنے گھر بلایا ہے ورنہ کتنے لوگ یہاں سالوں سے مقیم ہیں مگر انہیں اللہ کے گھر کی زیارت کی توفیق نے مل سکی۔ یہ شوق کا سفر ہے اور اس کا زادِ راہ ‘تقویٰ ہے۔ اپنے دل کو تقویٰ کی کیفییت سے کبھی خالی نہ ہونے دیں۔ اللہ کی رحمتوں اور فضل کو اپنے دامن میں بھر کر لوٹیں۔اس طرح اطہر علی خان صاحب کی دعا پر یہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔(رپورٹ:قاری عبدالرحمٰن )

ریڈیوکویت ارودسروس کاثقافتی اور حفظ قرآن کوئزپروگرام

ماہ گذشتہ کے اواخرمیں ریڈیوکویت اردوسروس کے زیراہتمام جمعیة الاصلاح الاجتماعی میں پاکستانی اور ہندوستانی اسکول کے بچوں اوربچیوں کے لیے ثقافتی اورحفظ قرآن کا مسابقہ منعقد کیاگیا جس میں کثیر تعدادمیں بچوںسمیت ان کے سرپرستوںاوراسکول کے اساتذہ نے شرکت کی ،کامیاب ہونے والے بچوں اوربچیوں کو سرٹیفکٹ سے بھی نوازاگیا اوررمضان کی نشریات کے لیے ان کی آوازوں کی ریکارڈنگ کی گئی ۔ پروگرام کو دوحصوں میں تقسیم کیاگیاتھا ،پہلے حصہ میں کویزپروگرام ہوا ،جس میں ریڈیوکویت اردوسروس کے اناو نسرز عبداللہ عباسی ، رضیہ اشرف،اورانجم فاطمہ نے حکم کی ذمہ داری نبھائی ، اورکامیاب ہونے والی پانچ بچیوں کو اردو سروس کے آفس سکریٹری جناب ابوبکر پایولی کے ہاتھوں اعزازی سرٹیفکٹ سے نوازا گیا۔ پروگرام کے دوسرے حصہ میں حفظ قرآن کا مسابقہ ہوا جس میں مولانا صفات عالم تیمی اور اسلامک ایجوکیشن کمیٹی کے قاری عبدالرحمن صاحب نے حکم کی ذمہ داری نبھائی جس میںاورکامیاب ہونے والے پانچ بچوںکو انعامات سے نوازاگیا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*