صدر جمہوریہ ہند انعام یافتہ مولانا یوسف جمیل سے ایک ملاقات

ملاقاتي : محمد خالد اعظمى (كويت)


مولانا یوسف جمیل جمعیت اہل حدیث کے ایک لائق اورسرگرم کار کن ہیں، بیس سالوں تک جمعیت اہل حدیث ہند آندھراپردیش کے نائب امیر ،اور دس سالوں تک مرکزی جمعیت ،مجلس شوری کے رکن رہے ، کرنول بزم اردو اور ماہنامہ”آئینہ بزم اردو “کے سرپرست بھی ہیں۔ہندوستان کے کونے کونے میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے اوردیگرمسالک کے علمائے کرام کے درمیان نہایت ہی معتبر سمجھے جاتے ہیں ۔ 1977ءمیںجناب یوسف جمیل جب کرنول رزق معاش کی تلاش میں تشریف لے گئے تووہیںکے ہورہے اوراس سرزمین پر بودوباش اختیار کرلی ۔موصوف میں جہاں ایک اچھے شاعر کی بوباس پائی جاتی ہے تووہیں ایک مولوی ،واعظ، مصلح قوم ، اور مبلغ اسلام کی خصوصیات بھی جھلکتی ہے،مولانا ایک اچھے خطیب اورمدرس قرآن بھی ہیں ، جب احادیث کا درس یتے ہیں تو لگتاہے کہ ساری حدیثیں ازبریاد ہیں ۔ مولانا یوسف جمیل جہاں محافل شعروسخن میں اپنے اشعارپر داد تحسین حاصل کرتے ہیں وہیں محافل وعظ میں ایک موثر مقرر کی حیثیت سے شرف قبولیت حاصل کرنے میں بھی اپناثانی نہیں رکھتے۔

سوال : مولانا!سب سے پہلے ہم چاہیں گے کہ قارئین مصباح کے لیے اپنا تعارف کرادیں۔
جواب :میرانام محمد یوسف جمیل جامعی کرنولی ہے ، 1951ءمیں شہر بلہاری میں پیدا ہوا، جورائے درگ سے 52کیلومیٹرجنوب میں واقع ہے ۔ 1962ءمیں جامعہ محمدیہ رائے درگ میں داخلہ لیا ، ابتداءتا فضیلت تعلیم رائے درگ میں حاصل کی ، اسی دوران سری وینکٹیشور ا یونیورسٹی سے فارسی میں B-Aکی ڈگری حاصل کی ،اور پھر1972ءمیں فراغت حاصل کی ۔ اس کے بعد عثمانیہ یونیورسٹی سے BOL اور میسور یونیورسٹی سے MAکیا۔
1972تا 1974ءانجمن اسلامیہ ہائی اسکول گنتگل اور 1974ءتا2009ءعمر عربک ہائی اسکول میں فارسی کا استاد رہا۔
سوال :کیا آپ کو سرکاری انعامات بھی ملے ہیں؟
جواب:جی ہاں! ضلع کرنول کے بہترین استاد کا ایوارڈ دیا گیا،پھر صوبے کا سب سے اچھا ٹیچرکا خطاب ملا، 1993ءمیں ٹیچرس ڈے کے موقعہ پر صدر جمہوریہ ہند ، آنجہانی ڈاکٹرشنکر دیال شرما کے ہاتھوں نئی دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میںمجھے ملک کے بہترین فارسی استاد کا ایوارڈ دیا گیا۔
اسی سال مولانا مقتدی حسن ازہریؒ(1939ء۔ 2009 ئ) ریکٹر جامعہ سلفیہ بنارس کو بھی عربی خدمات کے صلے میں صدر جمہوریہ ایوارڈ ملا تھا۔
جب میں کویت کے دورہ پر آیا تو یہاں مرکز دعوة الجالیات کویت وابنائے قدیم جامعہ محمدیہ رائیدرگ کویت نے یکم مارچ 2012ءکوجمعیة احیاءالتراث الاسلامی قرطبہ کے مرکزی کانفرنس ہال میں میری چالیس سالہ علمی ، ادبی، دینی ، دعوتی ، جماعتی اورتدریسی خدمات کے اعتراف میں لجنة القارہ الہندیة کے مدیر عزت مآب فلاح خالد المطیری کے ہاتھوں تمغہ ¿پروقار پیش کیاہے ۔ حالانکہ میں اس لائق نہیں تھا لیکن ان لوگوں کی محبت وشفقت نے ایسا کرنے پر مجبورکیا، اس کا میں جتنا بھی شکریہ اداکروں کم ہے۔
سوال:آپ کی شاعری کا آغاز کب سے ہوا اورآپ کی تصنیفات کون کونسی ہیں ؟
جواب: شعروشاعری کا ذوق طالب علمی کے زمانہ سے تھا لیکن باقاعدہ شاعری کا آغاز1974ءسے ہوا ،میں دوران تعلیم مولانا سید محمد عباس حامی عمری رحمہ اللہ سے اصلاح لیتارہا ،کرنول کے ادبی ماحول نے شعروسخن کی صلاحیتوں کو جلا بخشا، اور ادبی فکر کوبالیدگی عطاکی،میں نے اس دوران غالب دکن علامہ امیر علی خان یسیر کرنولی کی شاگردی اختیارکی، اوراردو شاعری کو عشق ومحبت ، بادہ ومینا کی روایتی آلودگیوں سے نکال کرکتاب وسنت کی روشنی اور فکر سلف کی چاشنی عطا فرمائی۔
میں تصنیفی میدان میں کافی پیچھے ہوں ، ویسے میرا پہلا شعری مجموعہ’عکس جمیل1993ءمیں منظر عام پر آیا،جبکہ دوسرا مجموعہ کلام’ذوق جمیل‘ جس کی حیثیت کلیات کی ہے جو 350 صفحات پر مشتمل ہے ،عنقریب بزم اردو کرنول کے زیر اہتما م شائع ہونے والاہے۔ویسے مقامی وملکی سطح کے اخبارات ورسائل میں میرے مضامین ومنظومات شائع ہوتے رہتے ہیں۔
سوال: اصلاح معاشرہ کے لیے آپ کونسا طریقہ اختیار کرتے ہیں اورہندوستان کے تناظر میں کیا پریشانیاں اور مشکلات درپیش ہوتی ہیں ؟
جواب: اصلاح معاشرہ ہم سب کی ذمہ داری ہے ،ہم لوگ اس کام کے لیے مقامی سطح پر دعوتی واصلاحی پروگرام منعقد کرتے ہیں ، جس میں مقامی اور صوبائی وملکی سطح کے ہرمسلک ومذہب کے علمائے کرام اوردانشوروں کو بلاتے ہیں، اس کے علاوہ مقامی زبان میںدعوتی کتابچے ، فولڈرس وغیرہ شائع کرتے ہیں اور اس کی تقسیم مفت کی جاتی ہے، جس کے نتائج کافی بہتر ملے ہیں۔
جہاں تک مسائل اور پریشانیوں کا تعلق ہے تواپنوں سے پریشانیاں زیادہ لاحق ہوتی ہیں،کیونکہ لوگ اپنی اصلاح کے لیے تیار نہیں ہوتے ،بلکہ جولوگ معاشرہ کی اصلاح کے لیے کھڑے ہوتے ہیں معاشرہ ان کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔اللہ کا شکر ہے ہمارے افراد کے عزائم بلند ہیں لہذا ہم ہر پریشانیوں کوجھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
سوال:دوسرے مکتب فکر کے لوگوں کے ساتھ آپ کے تعلقات کیسے ہیں ؟
جواب: دیگرمسالک کے لوگوں سے تعلقات کافی بہتر ہیں مثلاًجماعت اسلامی، تبلیغی جماعت اور مقامی اہم شخصیات وغیرہ ۔ ہم چاہتے ہیں کہ کسی طرح سے سماج کا سدھارہو لہذا تمام لوگ ایک ساتھ چلیں گے تب ہی سماج کی برائیاں ختم ہونگی اور معاشرہ ایک صالح معاشرہ میں تبدیل ہوگااور تمام لوگوں میں محبت ومودت کی فضا قائم ہوگی ۔
سوال: داعیوں میں بنیادی صفات کیا ہونی چاہیئے؟
جواب: دعوت کا میدان بہت ہی اہم ہے کیونکہ قرآن وسنت میں اس کی بڑی اہمیت بتائی گئی ہے۔ دعوتی کام کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اندر اخلاص ، علم وعمل ، استقامت ، جدوجہد ، حکمت ومصلحت ، مدعوکی نفسیات سے واقفیت ، اور مدعو کی حیثیت اور صلاحیت کے مطابق دعوت دینے کا ملکہ جیسے صفات بدرجہ اتم پیدا کریں،تب ہی دعوت بارآور ہوگی۔ ان صفات کے بغیردعوت ہرگزمتاثر نہیں ہوسکتی ۔ ڈاکٹراقبال مرحوم نے کہا تھا:
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتاہے
گفتار کا غازی بن تو گیا کردار کا غازی بن نہ سکا
سوال: کویت میں وقت کیسا گزرا؟
جواب ۔بہت ہی اچھا وقت گزرا ،پردیس میں رہ کر وقت کو بھول گیا۔ دوران قیام بہت سارے پروگراموں میں شرکت کی ۔مرکزدعوة الجالیات کے علاوہ محترم محمدہوشدار خان کے آفس میں ہونے والے ہفتہ واری پروگرام میں شرکت کی ، انہوں نے مجھے کافی متاثر کیاہے ، اس پروگرام کے توسط سے محترم ڈاکٹر محمدلقمان السلفی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور ان کی گفتگو سننے کا موقع ملا، ساتھ ہی مختلف مزاج اور خیالات کے لوگوں کوایک اسٹیج پربیٹھے ہوئے پایا۔ایڈیٹرماہنامہ مصباح کے توسط سے ریڈیو کویت کے میزبان عبداللہ عباسی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی جنہوںنے ریڈیو کویت کی اردو نشریات کے ہفتہ وار پروگرام ’آج کے مہمان ‘ میں میرا انٹرویو نشرکیا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پردیس میں ہم وطنوں سے مل کربڑی مسرت ہوئی جس کا اظہار زبان سے نہیں کیا جاسکتا۔
سوال:کویت میں مقیم تارکین وطن کوکیاپیغام دیناچاہیں گے؟
جواب: معاش کی تلاش میں تارکین وطن کا یہاں آنا اورحلال رزق کمانا نہایت خوش آئند امر ہے ، میں نے محسوس کیا ہے کہ بیرون ممالک روزی روٹی کمانے والے اندرون ملک کے مقابلے میں کافی خوش حال ہیں اللہ تعالی ان کی خوشحالی میں مزید برکت عطافرمائے ۔
کویت میں مقیم تارکین وطن کو چاہئے کہ فرصت کے اوقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرآن وحدیث کی تعلیم حاصل کریں کیونکہ یہاں جیسے فرصت کے لمحات اپنے ملک میں ملنا بہت مشکل ہے ۔ ایک عربی مقولہ ہے کہ اطلب العلم من المہد الی اللحدیعنی گود سے گور تک علم حاصل کرو، لہذا ہمیں قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کرنے میں کسی طرح کے شرم وحیاکو پاس نہیں آنے دیناچاہئے۔
اسی طرح ہمارے ملک کے لوگوں پر کویت کابہت بڑا احسان ہے ۔ لہذا ہمارے افرادکوچاہئے کہ اس ملک کے ساتھ وفاداری کریں اور اس ملک کی تعمیر وترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔کیونکہ اللہ کے رسول ا کا ارشاد ہے:لا یشکراللہ من لا یشکرالناس(رواہ الترمذی) ۔ ”جو شخص لوگوںکا شکرادا نہیں کرسکتا وہ اللہ کا شکرگذاربھی نہیں بن سکتا ۔ “
سوال:ماہنامہ مصباح کے متعلق آپ کے خیالات کیاہیں؟
جواب: مجلہ مصباح کو بڑا ہی اچھا پایا، اس کے مضامین معیاری اور صالح افکار پر مشتمل ہیں۔ تمام اردو داں سے مودبانہ التماس ہے کہ وہ اس کا مطالعہ ضرور کریں۔ اتنا خوبصورت میگزین شائع کرنے پر مصباح کے ادارتی بورڈ کو بھی مبارک باد پیش کرتاہوںاور میری نیک خواہشات مصباح کے ذمہ داروں کے ساتھ ہیں، اور بغیرکسی مجاملت کے کہوں گاکہ اتنا خوبصورت اورمعیاری میگزین ہندوستان میں مفقود ہے ۔
مصباح کے ذمہ داروں سے التماس ہے کہ سوالات وجوابات ، شعروشاعری اورادبی تخلیقات کے صفحات کا ایک گوشہ ہرشمارہ میں ہو تاکہ اصحاب ذوق کی تسکین کا سامان فراہم ہوسکے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*