آپ کے سوالات اوران کا حل

شیخ محمد صالح المنجد

جنت میں ایسی چیزیں کیوں ملیں گی جودنیا میں حرام ہیں
سوال: ایک عیسائی کا سوال ہے کہ اسلام ایسی چیزوں کی جنت میں بشارت کیوں دیتا ہے جو دنیا میں حرام ہیں ؟ مثلاً شادی کے بغیر عورت و مرد کے تعلقات جو کہ حرام ہیں، اگر مسلمان ان سے بچے تو جنت میں اسکے بدلے اسے حوریں ملیں گی، کیا یہ عجیب چیز نہیں ؟
جواب : اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں جنت اور اس کی نعمتوں ،اس کی صفات اور جنتی لوگوں کی صفات کا متعدد مقامات پر تذکرہ فرمایا ہے ،جس پر ہماراپختہ ایمان اور مضبوط عقیدہ ہے ۔
اوراس سوال کا جواب دینے سے قبل ہم ایک اہم نکتے کی وضاحت مناسب سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی کو اختیار ہے کہ اس دنیا میں دنیا والوں پر جو چاہے حرام کرے کہ وہی ان اشیاءکا خالق اور مالک ہےلہذا کسی کے لیےجائز نہیں کہ وہ اللہ تعالی کے حکم پر اپنی بیمار رائے اور الٹی فہم کے ساتھ اعتراض کرے۔
رہا یہ مسئلہ کہ اللہ تعالی نے کچھ چیزیں جنہیں دنیا میں حرام قرار دی ہیں، ان کے ترک کرنے والے کو آخرت میں ان کا بدلہ دے گا، مثلاً شراب، زنا اور مردوں کاریشم پہننا وغیرہ تو ایسا اس لیے کہ اللہ تعالی اطاعت کرنے اور دنیا میں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنے والے کو آخرت میں بہترین بدلہ دینا چاہتا ہے ۔
حرمت کی علت کیا ہے، اس سلسلے میں درج ذیل نکات بیان کیے جاتے ہیں :
اول :ضروری نہیں کہ ہم حرمت کی ساری علتیں جان سکیں ، نصوص میں اصل یہی ہے کہ انہیں تسلیم کیا جائے اگرچہ ہمیں علت کا علم نہ ہو کیونکہ اسلام اللہ تعالی کی مکمل اطاعت پر مبنی ہے۔
دوم : بعض اوقات ہم پر حرمت کی علت ظاہر ہو جاتی ہے مثلا زنا کے سبب فسادپیدا ہونا ، نسب نامے میں خلط ملط ہونا اور مہلک امراض کا پیدا ہونا وغیرہ ۔
اوریہ علت حور کے ساتھ تعلق میںبالکل نہیں پائی جاتی، کیونکہ جنت میں حوریں تو اپنے ان خاوندوں کے لیے چھپائی ہوئی ہوں گی جن کو دنیا میں حرام سے بچنے اور صبر کرنے کی بنا پر یہ بدلہ ملے گا۔
سوم : بیشک اللہ عزوجل نے آدمی کے لیے دنیا کے اندر قانون بنایا ہے کہ ایک وقت میں چار سے زیادہ عورتیں جمع نہیں کر سکتا۔تو وہی جنتیوں کو بطور انعام جتنی چاہے حوریں عطا کر دے، دنیا میں حرام ہونا اور آخرت میں جائزہونا اس میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ان دونوں کے احکام اللہ تعالی کی مشیت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔
چہارم: ہو سکتا ہے کہ یہ حرمت اللہ تعالی کی طرف سے اپنے بندوں کی آزمائش کے لیے ہو کہ جواحکام انہیں دیے جاتے ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یا نہیں اور جس سے انہیں روکا جاتا ہے اس سے وہ رکتے ہیں یا نہیں۔
پنجم:دنیاوی احکام آخرت کی طرح نہیں ہیں۔دنیا کی شراب عقل کو ماو¿ف کر دیتی ہے جبکہ آخرت کی شراب اس کے برخلاف ہوگی کہ اس سے نہ تو عقل میں فتور آئے گا اور نہ ہی سر چکرائے گا اور نہ ہی پیٹ میں مروڑ پیدا ہو گا۔
غیرشادی شدہ عورتوں کو جنت میں کیا ملے گا
سوال: اگر عورت جنت میں داخل ہوئی اوراس کی دنیا میں شادی نہیں ہوئی تھی یا ہوئی توتھی لیکن شوہر جنتی نہ ہوسکا تو اس کے لیے کیا ہے ؟
جواب : اس کا جواب اللہ تعالی کے اس فرمان سے مستفاد ہے :
”جس چیز کوتمہارا جی چاہے اورجوکچھ تم مانگو سب تمہارے لیے (جنت میں موجود)ہے “۔ (الاعراف: 31)
دوسری جگہ ارشادہے :”اوران کے جی جس چیز کی خواہش کریں اورجس سے ان کی آنکھیں لذت پائیں ‘ سب وہاں ہوگا اورتم اس میں ہمیشہ رہوگے “۔ (الزخرف71)
لہذا اگر عورت جنتی ہوگی اوراس نے دنیامیں شادی نہیں کی تھی یا شادی تو کی تھی لیکن شوہرجنت میں داخل نہ ہوسکا تو ایسی عورتوںکی شادی ان کی خواہش کے مطابق ان جنتی مردوں سے کرادی جائے گی جن کی بیویاں جنت میں نہ جاسکی تھیں یا جنہوںنے دنیا میں شادی نہیں کی تھی، ان کے پاس حوریں تو ہوںگی ہی ، اسی طرح ان کی چاہت سے دنیاکی عورتوںسے بھی ان کی شادیاں کرا دی جائیں گی۔ اس طرح جن عورتوںکے پاس دنیاوی شوہر نہ ہوںگے ان کی خواہش کے مطابق جنت میںان کی شادیا ںکرادی جائیں گی۔(فتاوی الشیخ ابن عثیمین 2/52)
کیا اہل جنت کی زبان عربی ہوگی؟
سوال:ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اہل جنت کی زبان کیا ہوگی ،کیا عربی زبان ہوگی ؟
جواب: قرآن اورصحیح حدیث میں کہیں وارد نہیں کہ اہل جنت کی زبان عربی ہوگی ،البتہ اس سلسلے میں ایک روایت آتی ہے :”عربسےتین چیزوںکی بنیادپر محبت کرو، کیونکہ میں عربی ہوں،قرآن عربی زبان میں ہے اور اہل جنت کی زبان عربی ہے “۔ اس حدیث کوامام ابن جوزیؒ نے من گھڑت قرار دیا ہے ،اسی طرح علامہ البانیؒ نے بھی موضوع کہا ہے ( الضعیفة حدیث نمبر160) اس لیے اہل جنت کی زبان کونسی ہوگی اس سلسلے میں کوئی صحیح روایت ثابت نہیں لہذا اس تعلق سے سکوت اختیار کرنا اوراسکے علم کو اللہ کے حوالے کردینا ہی مناسب ہے ۔
اہل جنت کی عمریں کتنی ہوںگی؟
سوال:جنت میں جنتیوں کی عمریں کتنی ہوںگی ۔
جواب : اس سلسلے میں ایک حدیث آئی ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوںگے تو ان کی عمر33 سال کی ہوگی۔ (ترمذی 2545 البانی ؒنے تخریج المشکاة 5634میں اسے حسن کہا ہے ) ۔اس عمرمیں جو حکمت پائی جاتی ہے وہ کسی سے مخفی نہیں کہ یہ حصولِ لذت کے لیے کامل ترین عمر ہے “۔ (حادی الارواح صفحہ 111)
انسان کا قد
سوال:کیا آدم عليه السلام کے زمانے میں انسان چھوٹے قدکا تھا ،پھرآہستہ آہستہ لمباہوتا گیا یا اسکے برعکس تھا ؟۔
جواب : اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کوساٹھ ہاتھ لمبا پیدا فرمایا تھا پھر اس کے بعد تدرج کے ساتھ آہستہ آہستہ اس میں کمی ہوتی گئی حتی کہ جتنا قدآج ہے اس پرٹھراو  پیدا ہوگیا اور اس کی دلیل نبی ا کا یہ فرمان ہے جسے امام بخاریؒ نے صحیح بخاری میں نقل کیا ہے :
” اللہ تعالی نے آدم عليه السلام کوپیدا فرمایا توان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا توآج تک اس میں کمی ہورہی ہے“۔
( بخاری حدیث نمبر ( 3326 ) مسلم حدیث نمبر ( 2841 )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*