سنئے ! آپ کا بچہ آپ سے کیا چاہتا ہے ؟

تحریر و تحقیق: اشتیاق احمد

٭کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر خدا نخواستہ آپ دونوں کے راستے جدا ہو جائیں تو مجھ پر کیا بیتے گی ؟اللہ کیلئے ایسا تصور بھی ذہن میں نہ لائیں۔ سنا ہے آپ نے یا نہیں ؟
٭ مجھ سے بھی آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیںمثلاً ذمہ، برداشت اور حلم و برد باری وغیرہ۔
٭میرے مستقبل میں میرے تعلیمی اخراجات کے لیے ابھی سے بچت شروع کر دیں۔
٭میں ضرور اپنے آپ میں تبدیلی پیدا کر لوں گا /کر لوں گی مگر پہلے باری آپ کی ہے۔
٭مجھے اس طرح دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں جس طرح میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں اور سمجھتا ہوں۔
٭فواحش و منکرات کے ماحول میں میری تربیت سے غفلت کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔
٭میری زبان سے لوگوں کی شکایات اس قدر ہمدردی اور دلچسپی سے نہ سنیں کہ میرا مزاج ہی شکایتی بن جائے۔
٭مجھے رشوت لے کر کہنا ماننے کی عادت نہ ڈالیں بلکہ غیر مشروط اطاعت کی تربیت دیں۔
٭میرے مطالبات اور فرمائشوں کو نتائج و ثمرات اور نفع اور نقصان کی کسوٹی پر پرکھ کر پورا کریں۔
٭مثال بن کر میری رہنمائی کریں نہ کہ زبانی کلامی۔
٭مجھے دادا،دادی، نانا، نانی،اور گھر کے افراد کی ہر قیمت پر عزت اور خدمت کرنے کی تربیت دیں۔
٭مجھے کفایت شعاری اور بچت کا سبق ضرور پڑھائیں مگر تنگ دلی اور کنجوسی کی قیمت پر نہیں۔
٭ٹانگیں توڑنے اور جان سے ما ر نے جیسی غیر حقیقی اور خالی خولی دھمکیاں دے دے کر ڈھیٹ اور لا پرواہ نہ بنائیں۔
٭مجھے اس قدر اپنائیت اور وسیع الفطرتی کا احساس دلائیںکہ میں اپنے خواب،خیالات اور تحفظات کا اظہار دوسروں کی بجائے آپ سے کروں۔
٭ہمارے پیارے رسول ا تو بچوں کو بھی سلا م میں پہل کیا کرتے تھے، نہ جانے آپ مجھے سلا م کرتے ہوئے کیوں شرم محسوس کرتے ہیں۔
٭اپنے ذاتی اور باہمی رازوں کی احتیاط سے حفاظت کریں۔مجھ پر ظاہر ہونگے تو میں انہیں فاش بھی کر سکتا ہوں۔بچہ جو ہوں۔
٭سگریٹ اور نسوار سے مجھے شدید نفرت ہے۔آپ بھی ان سے نفرت کریں۔
٭اگر میں اپنے بہن بھائیوں یا دوسرے بچوں سے جھگڑا لو پن کا مظاہرہ کروں تو مار پیٹ کی بجائے میرے جیب خرچ یا دیگر مراعات میں کمی کر دیں۔آپ کو حیران کن نتائج ملیں گے۔
٭جناب من !دوسروں کو کنٹرول کرنے سے پہلے اپنے آپ کو کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔
٭آپ کا مزاج جمہوری اور مشاورتی ہونا چاہیے نہ کہ آمرانہ۔
٭تحکم نہیں ترغیب و تربیت جناب والا !
٭اپنی پسند و نا پسند کو مجھ پر اس حد تک نہ ٹھونسیں کہ میرے اعتماد کی عمارت ہی زمیں بوس ہو جائے۔
٭کام بگڑ جانے پر سرزنش کا خوف مجھے ذہنی تناو¿ کا شکار رکھتا ہے۔
٭میری کسی بھی ناپسندیدہ عادت کو اسکی نشوونما کے ابتدائی مرحلے میں ہی بدلنے کی کوشش کریں، اسکی پختگی کی صورت میں ہم دونوں کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔
٭کبھی کبھی میری عدم موجودگی میں میرا بستہ چیک کریں،کہیں اس میں اخلاق سوز تصاویر،رسائل اور کتب موجود نہ ہوں۔
٭اگر میں کبھی آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر اوٹ پٹانگ اور مہمل باتیں کروں تو برا نہ مانیں۔کبھی کبھی آزاد موڈ میں رہنا مجھے اچھا لگتا ہے۔
٭کیا یہ انصاف ہے کہ دوسروں کا غصہ بھی مجھ پر ہی نکلے ؟۔
٭آپ کا غصہ بجا سہی مگر آپ کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ آ پ غصے میں ہیں۔
٭آپ بہت اچھے ہیں مگر غصے کے وقت بالکل اچھے نہیں لگتے، یقین نہ آئے تو دیکھ کر تجربہ کر لیں آپ کو بھی اپنا چہرہ اچھا نہیں لگے گا۔
ئمیرے پیارے نبی ا نے غصے کی حالت میں کھڑے ہونے کی صورت میں بیٹھ جانے،بیٹھے ہونے کی صورت میں لیٹ جانے،ٹھنڈا پانی پینے اور اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم پڑھنے کا تیر بہدف نسخہ بتایا ہے آپ بھی غصے کے وقت اس نسخے کو آزمائیں نا….۔
٭مجھے کھلائیں سونے کا لقمہ مگر دیکھیں شیر کی آنکھ سے۔
٭آپ خود بھی ان نصیحتوں کے ذریعے کامیاب والدین بن سکتے ہیں جو آپ مجھے کرتے ہیں۔
٭میں آپ کا کتنا فرمانبردار اور خدمت گزار ہوں ؟اسکا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ آپ اپنے والدین کے کتنے فرماں بردار اور خدمت گزار ہیں یا تھے ؟
٭اس تلخ حقیقت کو ذہن میں رکھیں کہ آپ میری تربیت نوکروں کے ذریعے کروائیں تو آپ کا بڑھاپا بھی شائد انہیں کے سہارے گذرے۔
ئآج آپ میری تعلیم و تربیت کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور مجھے وقت دیتے ہیں کل کو میں بھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑوں گا /گی (ان شاءاللہ )۔
٭سوتے وقت مجھے کہانی سنانا نہ بھولیں۔
٭میں چاہتا ہوں /چاہتی ہوں کہ میرے بستے میں نصابی کتابوں کے علاوہ ایک اچھی سی تربیتی کتاب بھی موجود ہو۔
٭باہر سے اترے ہوئے چہرے کے ساتھ نہیںبلکہ ہشاش بشاش موڈ میں تشریف لائیں۔
٭غیر مطلوب کام یا عادت سے روکنے کیلئے مجھے بار بار کہیں،اوریاد دلائیں۔ دیکھیں!مایوس ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔
٭ذرا اندازہ لگائیں کہ اگر ایک اچھی بات آپ مجھے روزانہ بتائیں تو سال میں کتنی باتیں ہو جائیں گی ؟۔
٭میرا بستہ میری عمر،ذہنی صلاحیت اور جسمانی قوت کے لحاظ سے بڑا ہے۔آپ دیگر بچوں کے والدین اور اساتذہ نصاب بنانے والوں کو کیوں نہیں سمجھتے کہ وہ مجھ پر اور میرے جیسے لاکھوں بچوں پر رحم کریں ؟انہیں میرا بستہ چھوٹا کرنے کے فارمولے اور تدبیریں بتائیں۔شائد ان کے دل میں میری بات اتر جائے۔
بطور قاری میں درج ذیل نکات کا اضافہ کرنا چاہتا /چاہتی ہوں
٭…………………………………………
٭………………………………………..
٭…………………………………………

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*