اولاد کے حقوق (2)

احتشام الحق سلفی
shaz_bazmi@yahoo.co.in

پچھلی قسط میں حقوق اولاد کے ضمن میں بچے کی پیدائش ،رضاعت وحضانت ،تربیت وتعلیم، روزگاراور معاشی استحکام ، اورشادی سے متعلقہ مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوچکی ہے ،ذیل کے سطور میں ہم شادی کا تتمہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اولادکے باقی حقوق کی وضاحت کریں گے :
(7)شادی کے ضابطے
(1) دونوں کا مخالف جنس کا ہونا:یعنی اسلام ایک مرد کی شادی کسی عورت سے اور کسی عورت کی شادی ایک مرد ہی سے جائز قرار دیتا ہے۔ اسلام میں شادی کا مقصد محض جنسی تسکین نہیںبلکہ افزائش نسل اور بقائے نسل بھی ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:ٰٓیاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُو±ا رَبَّکُمُ الَّذِی± خَلَقَکُم± مِّن± نَّف±سٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِن±ھَا زَو±جَھَا اسی کے ساتھ یہ وضاحت بھی کرتا ہے : وَبَثَّ مِن±ھُمَا رِجَالًا کَثِی±رًا وَّنِسَآئیعنی شادی ایسے جوڑے میں ہو جو بچوں کی پیدائش کا ذریعہ ہے۔
(2) دونوں کا مسلمان ہونا:اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص جس کو چاہے پسند کرلے اور اس سے شادی رچالے بلکہ شادی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں مسلمان ہوں۔قرآن اس کی وضاحت کرتا ہے:
’ وَلَاتَنکِحُواالمشرِکٰتِ حَتّٰی یُومِنَّ وَلَاَمَة’‘ مُّومِنَة’‘ خَیر’‘ مِّن مُّشرِکَةٍ وَّلَواَعجَبَتکُم وَ لَا تُنکِحُوا المُشرِکِینَ حَتّٰی یُومِنُوا وَ لَعَبد’‘ مُّومِن’‘ خَیر’‘ مِّنمُّشرِکٍ وَّلَوأعجَبَکُم“ خواہ وہ پہلے سے مسلمان ہوں یا محض شادی کے لیے اسلام قبول کیا ہو۔ اسلام اہل کتاب سے شادی کی اجازت دیتا ہے لیکن موجودہ صورت حال میں اس سے بھی اجتناب کیا جانا چاہیے۔
(3) محرمات یا ان رشتوں سے ان کا تعلق نہ ہو جن سے شادی اسلام نے حرام قرار دی ہے: اسلام حرمت نسب کا خاص خیال رکھتا ہے۔ چند رشتوں کی وضاحت کرتا ہے جن کی حرمت کو پامال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ گویا کسی شخص کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ان رشتوں میں سے کسی کو شادی کے لیے پسند کرے۔ (اس کی وضاحت سورہ نساءکی آیت 22 اور 23میں کی گئی ہے ۔
4) ( نکاح :اسلامی نظام میں شادی کا ذریعہ نکاح ہے۔ یعنی زوجین کا ایجاب وقبول ۔ نکاح کا بھی ایک مکمل ضابطہ ہے۔ ضروری ہے کہ نکاح کا اعلان کیا جائے۔ اسلام چوری چھپے شادی کی اجازت نہیں دیتا ہے، اس لیے دونوں جس سماج میں رہتے ہوں اس میں شادی کا اعلان ہونا چاہیے۔ دو عادل گواہ مقرر کیے جائیں۔ ولی کی اجازت ہونی چاہئے البتہ ولی کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی بچی کی شادی اس کی پسند کے خلاف کریں اور مہر مقرر کیے جائیں۔
موجودہ وقت میں بچوں کی شادی کے سلسلہ میں ایک عجیب رویہ پایا جاتا ہے۔ معاشی استحکام اور تعلیم کے نام پرشادی میں خاصی تاخیر کی جاتی ہے۔ بلاشبہ اسلام بھی شادی کے لیے معاشی استحکام کا مخالف نہیں ہے اور اگر کوئی شخص بیوی کا نفقہ اور لازمی ضروریات پورا کرنے کا اہل نہیں ہے تو اس پر کوئی زبردستی نہیں ہے۔ لیکن جہاں ان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں وہاں بھی شادی میں تاخیر کی جاتی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالی کہتا ہے کہ تم اپنے کنوارے لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کرادو اگر وہ نادار ہیں تو اللہ تعالی اپنے فضل سے انہیں غنی کردے گا۔
(۸)مالی حقوق:
اسلام اولاد کو بھی کئی جہتوں سے مالی حق عطا کرتا ہے۔ والدین پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ اس کی لازمی ضروریات پوری کی جائے، اس کی تعلیم وتربیت کا انتظام کیا جائے اور اسے معاشی استحکام کا ماحول فراہم کرایا جائے ساتھ ہی والدین میں سے ہر ایک کی جائیداد اور ملکیت سے دوسرے حصہ داروں کی ادائیگی کے بعد لڑکوں اور لڑکیوںکے درمیان کل مال تقسیم کردیا جائے۔ البتہ لڑکے لڑکےوں کے حصوں سے دوگنا پائیں گے۔
والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لڑکے کی بیوی اور لڑکی کے شوہر کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئیں۔ ان کی عزت کریں۔ ان کے ساتھ ایسا برتاو¿ نہیں ہونا چاہئے جس سے احترام انسانیت پامال ہوتا ہو۔بعض گھروں میں بیٹے اور داماد کے درمیان ایسا امتیاز برتا جاتا ہے جس سے بیٹے میں احساس کم تری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
بچوں کی اولاد کے ساتھ سلوک:اپنے بچوں سے محبت کی علامت ہے کہ ان کے بچوں کے ساتھ پیار ومحبت اور شفقت کا برتاو¿ رکھا جائے۔ خاص طور پر جب کسی لڑکے یا لڑکی کا انتقال ہوجائے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں توجہاں اس کی خبر گیری اوراس کی تربیت وتعلیم کا انتظام کیا جائے وہیں اگر وہ اپنے بچوں کے لیے کچھ مال چھوڑ کر نہ گئے ہوں اور والدین صاحب مال ہو تو ایسی صورت میں ان بچوں کو قدرے معاشی استحکام پہنچانا چاہیے۔ اسلام میں نہ صرف اس کی اجازت ہے بلکہ عین مطلوب ومقصود بھی ہے۔ اگر چاہیں تو ایک تہائی مال سے ان کے لیے وصیت کی جاسکتی ہے۔
برصغیر کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں جو معاشرت رائج ہے اس میں عام طور پر بچے اپنی کمائی اپنے والدین کو دیتے ہیں اس سے جو دولت اور جائیداد جمع ہوتی ہے اس پر والدین یا والد کا تصرف ہوتا ہے۔ بسا اوقات کوئی شخص، جس کی کمائی سے مشترکہ دولت جمع ہوتی ہے، انتقال کرجاتا ہے اور اس مال پرجو اس کی کمائی سے جمع ہوا ہے، والدین کا تصرف ہونے کی وجہ سے اس کی اولاد محجوب سمجھی جاتی ہے۔ ایسے مسائل پر اہل علم کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایسی صورت میں بیٹے کی اولاد بقدر اولی مستحق ہے کہ اس مشترکہ مال میں اس کی مناسب حصہ داری مقرر کی جائے۔
اسی طرح بیٹے اور بیٹیوں کی اولاد میں بھی کسی طرح کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں برابر کی شفقت ومحبت اور ہمدردی کے حق دار ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*