خوشگوار زندگی کے راہنما اصول (3)

ڈاکٹر حافظ محمداسحاق زاہد (کویت)

ہرانسان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ اسے خوشگوارزندگی میسر ہو،اس کی زندگی سے پریشانی ،ٹینشن اور ڈیپریشن کا خاتمہ ہوجائے ،یہ کیسے ممکن ہے ؟ وہ کونسے راہنما اصول ہیں جن کو اپنا کر زندگی کو پرمسرت اور خوشگوار بنایاجاسکتا ہے ،اس سلسلے کی تیسری قسط ہم آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں :

چوتھا اصول : تو بہ واستغفار


انسان پرجو مصیبت آتی ہے چاہے جسمانی بیماری کی صورت میں ہو یا ذہنی اورر وحانی اذیت کی شکل میں ، چاہے کاروباری پریشانی ہو یا خاندانی لڑائی جھگڑوں کا دکھ اور صدمہ ہو ….ہر قسم کی مصیبت اس کے اپنے گناہوں کی وجہ سے آتی ہے۔ اس لیے اسے اس سے نجات پانے کے لیے فوراًسچی توبہ کرتے ہوئے اللہ تعالی سے معافی مانگنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالی توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی پریشانیوں اور مصیبتوں کا ازالہ کرکے انھیں خوشحال بنا دیتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں : ﴾ وَمَا اصَابَکُم´ مِّن´ مُّصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَت´ ایدِیکُم´ وَیَعفُو´ عَن´ کَثِیرٍ﴿ [ الشوری : 30]
”اور تمھیں جو مصیبت بھی آتی ہے تمھارے اپنے کرتوتوں کے سبب سے آتی ہے ۔ اوروہ تمھارے بہت سارے گناہوں سے در گذر بھی کرجاتا ہے ۔ “
توبہ واستغفار کے فوائد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے :
” پس میں ( نوح علیہ السلام )نے کہا : تم سب اپنے رب سے معافی مانگ لو ۔ بلا شبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، مال اور بیٹوں سے تمھاری مدد کرے گا ، تمھارے لیے باغات پیدا کرے گا اور نہریں جاری کردے گا ۔ “[ نوح : 10۔ 12]
ان آیات میں استغفار کے جو فوائد ذکر کئے گئے ہیں ( موسلا دھار بارشیں ، مال واولاد سے مدد ، باغات اور نہریں) یہ سب در اصل انسانوں کی خوشحالی وسعادتمندی کی علامت ہیں اور یہ استغفار سے ہی نصیب ہوتے ہیں ۔

پانچواں اصول : ذکر الٰہی

جو لوگ دنیاوی تکالیف ومصائب کی وجہ سے ہر وقت غمگین رہتے ہوں اور غموں اور صدموں نے ان کی خوشیاں چھین لی ہوں ان کی طبیعت کو سکون پہنچانے اور اطمینانِ قلب کیلئے پانچواںاصول ” ذکر الہی “ ہے۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں :
” جو لوگ ایمان لاتے ہیں ، ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوجاتے ہیں۔ یاد رکھو ! دل اللہ کے ذکر سے ہی مطمئن ہوتے ہیں ۔ “[الرعد : 28]
سب سے افضل ذکر ( لا الہ الا اللہ ) ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کہ جس کے ایک ایک حرف پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں ۔ پھر ( سبحان اللہ ، الحمد للہ ، اللہ اکبر) کہ جنھیں جنت کے پودے قراردیا گیا ہے ۔ اور پھر ( لا حول ولا قوة الا باللہ ) کہ جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ پھر ( سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ) کہ جو اللہ تعالی کو بے حد محبوب اور میزان میں بڑے وزنی ہیں ۔
قرآن مجید کی اس آیت کی روشنی میں ہمیں بحیثیت مومن اس بات پر یقین کامل ہونا چاہئے کہ ذکر الہی سے ہی دلوں کو تازگی ملتی ہے ، حقیقی سکون نصیب ہوتا ہے اور پریشانیوں اور غموں کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے ۔ لیکن افسوس ہے کہ آج کل بہت سارے مسلمان اپنے غموں کا بوجھ ہلکا کرنے اور دل بہلانے کیلئے گانے سنتے اور فلمیں دیکھتے ہیں حالانکہ اس سے غم ہلکا ہونے کی بجائے اور زیادہ ہو تا ہے کیونکہ گانے سننا اور فلمیں دیکھنا حرام ہے اور حرام کام سے سوائے غم اور پریشانی کے اور کچھ نہیں ملتا ۔رسول اللہ ا کا ارشاد گرامی ہے :” میری امت میں ایسے لوگ ضرور آئیں گے جو زنا کاری ، ریشم کا لباس ، شراب نوشی اور موسیقی کو حلال سمجھ لیں گے ۔ “  [البخاری :5590]
ان چار چیزوں کو حلال سمجھنے سے مراد یہ ہے کہ حقیقت میں یہ حرام ہیں لیکن لوگ انہیں حلال تصور کر لیں گے گویا یہ حرام نہیں ! موسیقی کس قدر بری چیز ہے اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ رسول اکرم انے اسے زنا کاری اور شراب نوشی جیسے بڑے ہی بھیانک گناہوں کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔
اور جو لوگ فلم بینی کرتے ہیں انھیں اللہ تعالی کایہ فرمان ذہن میں رکھنا چاہئے :
” مسلمان مردوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ یہی ان کیلئے پاکیزگی ہے ۔ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالی اس سے با خبر ہے ۔ “﴿[ النور : 30]
ذکر الہی کے فوائد بیان کرتے ہوئے رسول اللہانے فرمایا ” اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہوں اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔ اگر وہ مجھے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ کسی مجمع میں مجھے یاد کرے تو میں اس کا ذکر ایسی جماعت میں کرتا ہوںجو اس کی جماعت سے بہتر ہے ۔ اور اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے نزدیک ہوتا ہوں ۔ اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک کلا ئی ( دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے ) اس کے قریب ہوتا ہوں ۔ اور اگروہ چلتا ہوا میرے پاس آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ہوں۔ “ [ البخاری ۔ التوحید باب قول اللہ ویحذرکم اللہ نفسہ : 7405] (جاری )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*