دخترکشی کی جاہلیت جدیدہ

”افسوس کہ جو دین دختر کشی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے آیا تھا اور جس نے زندہ درگور کی جانے والی لڑکیوں کو حیات بخشی اورنحس کا دروازہ کہی جانے والی عورت کو سایہ¿ رحمت اور وسیلہ ¿جنت قرار دیا ، اسی دین کے ماننے والے اور نبی¿ رحمت ا سے نسبت رکھنے والے نام نہاد مسلمانوں کی طرف سے بعض ایسے واقعات پیش آتے ہیں ، جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، چنانچہ11اپریل 2012 کو بالآخر آفرین نامی تین ماہ کی بچی (بنگلور)کا انتقال ہوگیا ، جس کو عمر فاروق نامی اس کے باپ نے سگریٹ کے چرکے دے دے کر ، جسم کتر کتر کر اور دیوار سے سر ٹکرا ٹکرا کر مار ڈالا ، محض اس لیے کہ وہ بد بخت بیٹے کی پیدائش چاہتا تھا اور اس کے گھر میں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی ، اس سے زیادہ شقاوت کی بات کیا ہوگی کہ خود باپ کے ہاتھوں ایک شیر خوار نومولود کا قتل ہوجائے ؟ نہایت شرمناک بات ہے کہ علم و ترقی کے اس دور میں بھی ایسے انسانیت سوز واقعات پیش آتے ہیں ،جو زمانہ جاہلیت کو بھی شرمسار کرتے ہیں ،یہ تو پیدا ہونے کے بعد کی دختر کشی ہے ، اس سے پہلے رحم مادر میں دختر کشی تو ایسی بات ہے کہ لڑکیوں کی جان بھی لے لی جاتی ہے اور کانوں کان کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔
ایک معمولی اندازہ کے مطابق ( SexDermination Test) ٹسٹ پر مبنی اطلاعات کی روشنی میں روزانہ پانچ تا چھ سو لڑکیاں اس عالم رنگ و بو میں آنے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ ا±تاردی جاتی ہیں، یہ قتل دشمنوں اور غیر سماجی عناصر یا غنڈوں کے ذریعہ نہیں ہوتا ؛ بلکہ شفیق باپ اور ممتا سے معمور ماں کے ہاتھوں ہوتا ہے اور خاندان کے بزرگوں اور خیرخواہوں کا مشورہ بھی اس میں پوری طرح شریک رہتا ہے، گو انسانی حقوق اور خواتین کی مختلف تنظیموں کے احتجاج اور مطالبہ پر قانوناً ایسے ٹسٹ کو منع کر دیا گیا ہے، لیکن جب تک اندازِ فکر میں تبدیلی نہ آئے، قانون شکنی کو کیسے روکا جاسکتا ہے ؟
اصل میں لوگوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ عورت کا وجود سماج کے لیے اسی قدر ضروری ہے جس قدر مرد کا، اگر عورتوں کی شرحِ پیدائش گھٹتی چلی جائے اور مردوں کا تناسب بڑھتا چلا جائے تو اس سے ایسے سماجی مفاسد پیدا ہوں گے کہ جن کا تصور بھی دشوار ہے، خواتین پر مجرمانہ دست درازی میں اضافہ ہوگا، زنا اور اغواءکے واقعات بڑھیں گے، گھروں کا ماحول خراب ہوگا، اخلاقی انار کی پیدا ہوگی اور چوں کہ اصل میں افزائش نسل کا مدار عورت ہی کے وجود پر ہے ؛ اس لیے مطلق شرح پیدائش کم ہو تی جائے گی اور اس کے نتیجے میں افرادی وسائل کی قلت کا سامنا ہوگا، انسان کو خاندانی نظام کے سکون سے محرومی کو گوارا کرنا پڑے گا اور اس سے ایسی بے حیائی اور بے شرمی کو راہ ملے گی، جو تصور سے بھی ماوراءہے، خود ہندوستان میں بعض قبائلی اقوام میں عورتوں کی شرح پیدائش میں کمی کی وجہ سے کئی کئی مردوں کی ” مشترک بیوی“ کا شرمناک رواج موجود ہے، اسی سے دختر کشی کے جرم کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
اگر ہم صرف والدین کو دختر کشی کی اس ” جاہلیت جدیدہ“ کا مجرم قرار دیں، تو شاید انصاف نہ ہو، پورا سماج اس کا مجرم ہے، وہ ظالم سماج جو اپنے لڑکوں کو بازار کے سامان کی طرح ا±ونچی قیمتوں پر فروخت کرتا ہے، جو چاہتا ہے کہ لڑکیوں کے والدین سے ان کی رگ گلوکا آخری قطرہ¿ خون بھی وصول کر لے، جس کو حرص و طمع نے سیم و زرکا ایسا پیاسا بنا دیا ہے کہ جسے کوئی سگ گزیدہ مریض ہو ، اور جس کی بے رحمی و شقاوت اور سنگدلی پر شاید درندے بھی شرماتے ہوں، جب تک ہم اس اصل مرض کا علاج کرنے میں کامیاب نہ ہوں، دختر کشی کے جرم کو روک نہیں سکتے۔
قرآن مجید نے زندہ درگور کی جانے والی لڑکیوں کی بابت عجیب نقشہ کھینچا ہے کہ خدا کا دربارِ انصاف لگا ہوگا، خدا پوری شان قہاری کے ساتھ جلوہ افروز ہوگا، ناحق قتل کردی جانے والی پھولوں کی طرح معصوم بے گناہ لڑکیاں لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائیں گے کہ آخر یہ کس جرم میں قتل کی گئی ہیں با¿ی ذنب قتلت ؟ ( التکویر: 9) شاید اس وقت ان لڑکیوں کے قاتل باپ یا ماں بھی کٹہرے میں کھڑے ہوں گے ، وہ ڈاکٹر اور معالج بھی جن کا فریضہ بہ حد امکان زندگی کی حفاظت ہے نہ کہ زندگی کا خاتمہ ، اور شاید وہ پورا سماج بھی جو بالواسطہ ان بے گناہوں کے قتل میں شریک و سہیم ہے !“ (مولاناخالدسیف اللہ رحمانی کی ایک تحریر کا اقتباس)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*