“مسلمان ہندو ہوگئے ہیں”

 ( محمداحمد )

ہمارا معاشرہ

“سر ! یہ چھٹی کا فارم تو بھر دیں۔” وجے کمار نے ‘لیو فارم’ میری ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔

وجے کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے میں نے اپنی زیرِ تکمیل دستاویز محفوظ کی اور ‘لیو فارم’ کے مندرجات پر کرنے لگا۔ وجے میرے دفتر میں بطور خاکروب کام کرتا ہے اور اپنے لکھت پڑھت کے کام مجھ سے ہی کرواتا ہے۔ اسی لیے مجھے اس کا نام، ایمپل ائی کوڈ اور دیگر تفصیلات ازبر سی ہوگئی ہیں۔
“کیوں چھٹی چاہیے؟”۔ فارم میں چھٹی کی وجہ کے خانے تک پہنچ کر میں نے وجے سے پوچھا۔
“سر ! وہ رشتہ داروں کے ہاں جانا ہے، سوئم میں۔ کسی کا انتقال ہو گیا تھا”۔ وجے نے سوچتے ہوئے بتایا۔
“اچھا! تمھارے ہاں بھی سوئم ہوتا ہے؟” مجھے بڑی حیرت ہوئی۔
“ہاں سر! سوئم تو ہوتا ہے، کوئی مر جائے تو اس کے تیسر ے دن۔”
“ہمم! اچھا کیا چالیسواں بھی ہوتا ہے؟” میں نے پر خیال انداز میں پوچھا۔
“جی سر! چالیسواں بھی ہوتا ہے اور سال مکمل ہونے پر برسی بھی ہوتی ہے۔” اس نے تفصیل سے بتایا تو مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ خوشگوار حیرت۔۔۔ !
“بھائی! آپ کو پتہ ہے وجے کمار مسلمان ہوگیا ہے۔” میں سب کو خوشی خوشی بتا رہا تھا۔ “وجے کمار مسلمان ہو گیا ہے” میں نے جمال صاحب کو بھی نوید س±نائی۔ سب میری بات پر خوش بھی ہو رہے تھے اور حیران بھی۔
اچانک کسی نے مجھے کندھے سے پکڑ کر جھنجوڑ دیا۔ دیکھا تو خالد صاحب تھے۔
“یہ تم سب سے کیا کہتے پھر رہے ہو، وجے مسلمان ہوگیا ہے” خالد صاحب نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔
“جی! خالد صاحب، میں صحیح کہہ رہا ہوں۔ وجے کمار سے آج ہی میری بات ہوئی ہے۔ اس نے بتایا ہے کہ وہ اور ا±س کا خاندان ہماری ہی طرح ، مرنے والوں کا سوئم بھی کرتے ہیں، چالیسواں بھی اور برسی بھی۔ اور کیسے ہوتے ہیں مسلمان؟”
خالد صاحب نے مجھے عجیب سی نظر سے دیکھا اور کہا:
“ارے بے وقوف! وجے کمار مسلمان نہیں ہوا۔ مسلمان ہندو ہوگئے ہیں”
ا±ن کے لہجے کا غصّہ اب تاسف کا روپ دھار چکا تھا اور ان کی آنکھیں اپنے پیروں کے پاس فرش پرگڑھی ہوئی تھیں۔میں اب تک ششدر کھڑا ان کا منہ تک رہا تھا

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*