حمیت ِ دین

حمیت اسلام کیا چیز ہے اور کیوں فرض کی گئی ہے ؟ اس کو تم ایک مثال سے بآسانی سمجھ سکتے ہو۔ فرض کرو کہ ایک شخص تم سے دوستی کرتا ہے مگر ہر آزمائش کے موقع پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کو تم سے کوئی ہمدردی نہیں۔ وہ تمہارے فائدے اور نقصان کی کوئی پرواہ نہیں کرتا، جس کام میں تمہارا نقصان ہوتا ہو اس کو وہ اپنے ذاتی فائدے کی خاطر بے تکلف کر گزرتا ہے، جس کام میں تمہارا فائدہ ہوتا ہے اس میں تمہارا ساتھ دینے سے وہ صرف اس لیے پرہیز کرتا ہے کہ اس میں خود اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ تم پر کوئی مصیبت آئے تو وہ تمہاری کوئی مدد نہیں کرتا، کہیں تمہاری برائی کی جا رہی ہو تو وہ خود بھی برائی کرنے والوں میں شریک ہو جاتا ہے یا کم از کم تمہاری برائی کو خاموشی کے ساتھ سنتا ہے۔ تمہارے دشمن تمہارے خلاف کوئی کام کریں تو وہ ان کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے یا کم از کم تمہیں ان کی شرارتوں سے بچانے کی ذرا کوشش نہیں کرتا۔ بتاﺅ! کیا تم ایسے شخص کو اپنا دوست سمجھو گے؟ تم یقیناً کہو گے ہرگز نہیں، اس لیے کہ وہ محض زبان سے دوستی کا دعویٰ کرتا ہے مگر درحقیقت دوستی اس کے دل میں نہیں ہے۔ دوستی کے معنی تو یہ ہیں کہ انسان جس کا دوست ہو اس سے محبت اور خلوص رکھے، اس کا ہمدرد و خیرخواہ ہو، وقت پر اس کے کام آئے، دشمنوں کے مقابلہ میں اس کی مدد کرے، اس کی برائی سننے تک کا روادار نہ ہو۔جب یہ بات اس میں نہیں تو وہ منافق ہے، اس کا دوستی کا دعویٰ جھوٹا ہے۔
اسی مثال پر قیاس کر لو کہ جب تم مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو تم پر کیا فرض عائد ہوتا ہے۔ مسلمان ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تم میں اسلامی حمیت ہو، ایمانی غیرت ہو، اسلام کی محبت اور اپنے مسلمان بھائیوں کی سچی خیرخواہی ہو۔ تم خواہ دنیا کا کوئی کام کرو اس میں اسلام کا مفاد اور مسلمانوں کی بھلائی ہمیشہ تمہارے پیش نظر رہے۔ اپنے ذاتی فائدے کی خاطر یا اپنے کسی ذاتی نقصان سے بچنے کی خاطر تم سے کبھی کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جو اسلام کے مقاصد اور مسلمانوں کی فلاح کے خلاف ہو اور ہر اس کام میں دل اور جان اور مال سے حصہ لو جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے مفید ہو اور ہر اس کام سے الگ رہو جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہو۔ اپنے دین اور اپنی دینی جماعت کی عزت کو اپنی عزت سمجھو، جس طرح تم خود اپنی توہین برداشت نہیں کر سکتے اسی طرح اسلام اور اہل اسلام کی توہین بھی برداشت نہ کرو۔ جس طرح تم خود اپنے خلاف اپنے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیتے اسی طرح اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کا بھی ساتھ نہ دو۔ جس طرح تم اپنی جان، مال اور عزت کی حفاظت کے لیے ہر قسم کی قربانی پر آمادہ ہو جاتے ہو اسی طرح اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بھی ہر قربانی پر آمادہ رہو۔ یہ صفات ہر اس شخص میں ہونی چاہئیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو۔

(اقتباس کتاب : دینیات ۔ مصنف : سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ )

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*