رسول کا فیصلہ حرف آخرہے

اسلام الدین عبدالحکیم ریاضی (کویت)

یَا ايہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَینَ یَدَیِ اللَّہِ وَرَسُولِہِ وَاتَّقُوا اللَّہَ انَّ اللَّہَ سَمِیععَلِیم  (سورة الحجرات: 1)
ترجمہ :”اے لوگوجو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرواور اللہ سے ڈرواللہ سب کچھ سننے اور جاننے والاہے۔“
تشریح : یہ ایمان کا اولین اور بنیادی تقاضاہے-جوشخص اللہ کواپنا رب اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کواپناہادی ورہبرمانتا ہو،وہ اگراپنے اس عقیدہ میں سچا ہے تواس کایہ رویہ کبھی نہیں ہوسکتاکہ اپنی رائے اورخیال کواللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پرمقدم رکھے یامعاملات میں آزادا نہ رائے قائم کرے ،اوران کے فیصلے بطورخود کرڈالے، بغیراس کے کہ اسے یہ معلوم کرنے کی فکرہوکہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان معاملات میں کوئی ہدایت دی ہے یانہیں اوردی ہے تووہ کیاہے ۔ اسی لیے ارشادہواہے کہ” اے ایمان والو!اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے”پیش قدمی نہ کرو” یعنی ان سے آگے بڑھ کر نہ چلو، پیچھے چلو، تابع بن کررہو،یہ ارشاد اپنے حکم میں سورہ احزاب کی آیت نمبر36سے ایک قدم آگے ہے:
وہاں فرمایاگیاتھاکہ ”جس معاملہ کافیصلہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کرد یاہواس کے بارے میں کسی مو من کو خود کوئی الگ فیصلہ کرنے کااختیارباقی نہیں رہتا“-اوریہاںفرمایاگیاہے کہ اہل ایمان کو اپنے معاملات میں بطورخود فیصلے نہیں کرنے چاہئیں بلکہ پہلے یہ دیکھناچاہئے کہ اللہ کی کتاب اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ان کے متعلق کیاہدایات ملتی ہیں۔یہ حکم مسلمانوں کے محض انفرادی معاملات تک ہی محدودنہیں ہے بلکہ ان کے جملہ اجتما عی معاملات پربھی اس کااطلاق ہوتاہے۔ درحقیقت یہ اسلامی آئین کی بنیادی دفعہ ہے جس کی پابندی سے مسلمانوں کی حکومت آزادہوسکتی ہے،نہ ان کی عدالت اور نہ پارلیمنٹ۔
مسند احمد،ابوداو¿د،ترمذی اورابن ماجہ میں یہ روایت صحیح سندوں کے ساتھ منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت معاذبن جبل ؓ کویمن کا حاکم بناکربھیج رہے تھے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھاکہ ”تم کس چیزکے مطابق فیصلے کروگے ؟“ انہوں نے عرض کیا: ”کتاب اللہ کے مطابق“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: “اگرکتاب اللہ میں کسی معاملے کاحکم نہ ملے توکس چیزکی طرف رجوع کروگے؟” انہوں نے کہا:”سنت رسول اللہ کی طرف” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگراس میں بھی کچھ نہ ملے؟” انہوں نے عرض کیا :”پھرمیں خوداجتہادکروں گا-“اس پرحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پرہاتھ رکھ کر فرمایا:”شکرہے اس رب کاجس نے اپنے رسول کے نمائندے کووہ طریقہ اختیارکرنے کی توفیق بخشی جواس کے رسول کوپسندہے۔”
کتاب اللہ ا ورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومقدم رکھنا اورہدایت حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے ان کی طرف رجوع کرناہی وہ چیزہے جو ایک مسلم جج اور غیرمسلم جج کے درمیان وجہ امتیازہے۔اسی طرح قانون سازی کے معاملہ میں یہ بات قطعی طورپرمتفق علیہ ہے کہ اولین ماخذِقانون اللہ کی کتاب ہے اوراس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، پوری امت کااجماع تک ان دونوں کے خلاف یاان سے آزاد نہیں ہوسکتاکجاکہ افرادامت کاقیاس واجتہاد۔
الغرض آیت مقدسہ میں یہ واضح پیغام دیاگیاہے کہ اگرکبھی تم نے اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے نیازہوکرخودمختاری کی روش اختیارکی یااپنی رائے اورخیال کوان کے حکم پر مقدم رکھا توجان رکھوکہ تمہاراسابقہ اس رب سے ہے جوتمہاری سب باتیں سن رہاہے اورتمہاری نیتوں تک سے واقف ہے۔

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*