غیبت کی مجلس

شیخ مقصودالحسن فیضی (سعودی عرب )

عن اسماءبنت یزید رضی اللہ عنہا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : من ذب عن لحم أخیہ بالغیبة کان حقاً علی اللہ أن یعتقہ من النار. [مسند احمد 6/461 ].
ترجمہ : حضرت اسماءبنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے گوشت کا دفاع کرے گا[ اسکی غیبت کا جواب دے گا] تو اللہ تعالی پر یہ حق ہے کہ اسے جہنم سے آزاد کردے۔“
تشریح :جس طرح کسی مسلمان کی غیبت کرنا حرام ہے اسی طرح اس مجلس میں حاضر ہونا بھی حرام ہے جس میں غیبت کا دور چل رہا ہو، کیو نکہ غیبت کرنے کی طرح غیبت کا سننا بھی حرام ہے۔لہذا اگرہم کسی ایسی مجلس میں حاضر ہوں جس میں کسی مسلمان کی ناجائز غیبت ہورہی ہو تو اس بارے میں ہمارا موقف درج ذیل ہونا چاہئے:
٭ ہمیں اس سے روکنا اور منع کرنا چاہئے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں میں ہمیں یہی سبق دیا گیا ہے، چنانچہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی شخص کا ذکر ہوا تو انکے بارے میں لوگوں نے کہاکہ [وہ بہت کاہل ہے] جب تک کھانا نہ پیش کیا جائے کھانا نہیںکھاتا اور جب تک اس کی سواری تیار نہ کی جائے سوار نہیں ہوتا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” تم لوگوں نے اس کی غیبت کی “۔ صحابہ نے جواب دیا:اے اللہ کے رسول! ہم نے تو وہی بات کہی ہے جو اس میں پائی جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” غیبت ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ تو اپنے بھائی کا وہ عیب بیان کرے جو اس میں ہے-“ ( صحیح الترغیب3/78 عن ابن عمرو )
٭ ہم اسی مجلس میں اس شخص کا دفاع کریں جسکی غیبت کی جا رہی ہے: اور یہ بہت بڑے اجر کی بات ہو گی، جیسا کی زیر بحث حدیث سے واضح ہے کہ کسی مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اسکی طرف سے دفاع ایک مسلمان پر واجب ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے اجر کا سبب ہے۔ ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے:” جو کوئی کسی مسلمان شخص کواس جگہ رسواکرے جہاں اس کی عزت پامال کی جا رہی ہو اور اسے بے عزت کیا جارہا ہو تو اللہ تعالی اسے ایسی جگہ رسوا کرے گا جہاں اسے اپنی نصرت محبوب ہوگی، اور جو کوئی کسی مسلمان کی مدد ایسی جگہ کرے گاجہاں اسکی عزت پامال کی جارہی ہوگی اور اسکے تقدس کو تار تار کیا جارہا ہوگا تو اللہ تعالی بھی اسکی مدد ایسی جگہ کریگا جہاں وہ مدد کا حاجت مند ہو گا۔“( سنن ابو داو¿د:4884 )
٭ اس کی تعریف کرے : اگر ہم کسی ایسی مجلس میں موجود ہیں جس میں بلا کسی شرعی عذر کے کسی مسلمان بھائی کی غیبت ہو رہی ہے تو اسکی طرف سے دفاع کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس مجلس میں ہم اس کی اس خوبی کا ذکرکر یں جسے ہم جانتے ہوں ، اور واضح رہے کہ کوئی بھی ایسا شخص نہ ہوگا جس میں کوئی خوبی نہ ہوگی، بلکہ یہی کیا کم ہے کہ وہ مسلمان ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تربیت یافتہ صحابہ کا یہی عمل رہا ہے، چنانچہ حضرت عتبان بن مالک ص سے مروی ایک طویل حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا :” مالک ابن دخشم کہاں ہیں ؟ “ ایک آدمی نے کہا : وہ منافق ہے ، اللہ اور اسکے رسول سے محبت نہیں کرتا ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” یہ بات مت کہو کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے “لا الہ الا اللہ” کہا ہے ، اس سے اس کا ارادہ اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے ، اور یقینا ً اللہ تعالی نے اس شخص پر جہنم حرام کردی ہے جس نے اللہ کی رضا کی خاطر “لا الہ الا اللہ” کہا ہو۔“ (صحیح البخاری:425 مسلم: 657 )امام ابن سیرین کے بارے میں مشہور ہے کہ اگر انکے پاس کوئی کسی کی برائی بیان کرتا تو اس شخص کی خوبیاں بیان کرنا شروع کر دیتے۔ (سیراعلام النبلاء4/615)
٭ اگر ہم یہ نہ کرسکیں یا ہماری بات نہیں سنی جاتی تو ہم وہاں سے چلے جائیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*