دعوتى سرگرمياں

 نومسلموں کا تفریحی پروگرام اور’مسلمانوں نے دنیا کو کیا دیا‘؟ کے موضوع پر خطاب

ماہ رواں میں مرکزی برانچ کے زیراہتمام ہندی اور نیپالی زبان کے نومسلموں کے لیے سائنٹیفک سینٹر کویت کا تفریحی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں قدرت کی خلاقی اورحسن فطرت کے بے مثال مظاہر دیکھ کر نومسلموں کے ایمان میں ایسی تازگی آئی کہ اس کے اثرات ان کے چہروں پر نمایاں تھے ۔ تفریحی پروگرام کا ایک حصہ نومسلموں کو مسلمانوں کی مختلف دینی وسائنسی میدان میں خدمات سے آگاہ کرنا بھی تھا چنانچہ مولانا شاہ نواز محمدی صاحب نے ”مسلمانوں نے دنیا کو کیا دیا “ کے موضوع پر خطاب فرمایا جس میں انہوں نے مسلمانوں کی سائنسی طبی اور دینی خدمات کی ایک جھلک پیش کی اورفرمایا کہ آج دنیا میں جو ترقی پائی جاتی ہے اس کے ہراول دستہ مسلمان ہی تھے جن سے استفادہ کرکے آج یورپ وامریکہ دنیا پر اپنی بالادستی کا دعوی کررہے ہیں “۔

پھر مرورایام کے ساتھ مسلمان ہرمیدان میں زوال کا شکار ہوتے گئے اس کے اسباب کیا تھے اور آج مسلمانوں کے لیے امید کی کرن کیا ہوسکتی ہے اسی نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا صفات عالم تیمی صاحب نے فرمایا کہ مسلمانوں کی کتاب وسنت سے دوری ، ان میں فرقہ پرستی کو فروغ ملنا ،مغربی تہذیب کی یلغار، مسلمانوں کی نئی نسل کے ساتھ فکری جنگ ،جہالت اور سائنسی علوم سے دوری ، دنیاطلبی اور اخلاقی زوال جیسے عوامل مسلمانوں کے زوال کا سبب بنے ۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ عالم کی قیادت آج بھی مسلمانوں کے ہاتھ میں آسکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ قوم کتاب وسنت کی طرف لوٹ آئے ، اورقوم پرستی کے تصورسے اوپر اٹھ کرنئی نسل کوعلوم وفنوں کے اسلحہ سے مسلح کرے ۔

 غیرمسلموں کے سامنے اسلام کا تعارف

جولائی کے اوائل میں مرکزی برانچ کے زیراہتمام امغرہ کیمپ میں نیپالی زبان کے غیرمسلموں کے لیے پروگرام ترتیب دیاگیاتھا جس میں23سے زائد غیرمسلموں نے شرکت کی ،نیپالی زبان کے داعی محمدا براہیم صاحب نے بذریعہ پاورپوائنٹ غیرمسلموں کے سامنے اسلام کا تعارف کرایا ، محمدشاہ نوازمحمدی صاحب نے پاورپوائنٹ کے ذریعہ اللہ کی ذات کا تعارف کرایا،اورآفاق وانفس میں اللہ کے وجود کی نشانیاں دکھائیں ،صفات عالم تیمی صاحب نے رسالت پر گفتگوکرتے ہوئے محمد صلى الله عليه وسلم کی زندگی کا ایک خاکہ پیش کرکے بتایاکہ اسلام کے فروغ کے پیچھے اسلام کی فطری تعلیم او ر سچائی کا دخل ہے،اس کے بعد بیس منٹ تک سوال وجواب کاسلسلہ چلتا رہا جس سے غیرمسلموںکے مختلف شبہات کا ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔

  اسراءومعراج اور شعبان کاپروگرام

IPCجہرا برانچ کے زیر اہتمام اردوداں مسلمانوں اور نومسلموں کے لیے اسراء ومعراج کے موقع سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس میں سترسے زائد مسلمانوں اورنومسلموں نے شرکت کی ،شیخ عبدالحفیظ عمری مدنی نے معراج کے واقعات کی تفصیل بیان کی اور پنجوقتہ نمازوںکی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایاکہ معراج کا یہ تحفہ ہم سے اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ ہم ہرحالت میں نمازوں کی پابندی کریں اوراس سلسلے میں قطعاً سستی نہ کریں۔ اس کے بعد IPCکے داعی سید احمد محمدی صاحب نے فضائل شعبان پر روشنی ڈالی اورفرمایاکہ اس ماہ مبارک میں اللہ کے رسول اصلى الله عليه وسلم کا معمول بکثرت روزہ رکھنا تھا جس کی حکمت یہ بتائی کہ اس مہینہ میں بالعموم لوگ غفلت کے شکار ہوتے ہیں اوراسی ماہ میں بندوںکے اعمال اللہ کے پاس پیش کئے جاتے ہیں ۔ پھر انہوںنے پندرھویں شعبان سے متعلقہ بدعات کی بھی نشاندہی فرمائی جو سنت سے دورہونے کے باعث مسلم معاشرے میں درآئی ہیں ۔

 مسلمان اخلاق کا مکمل نمونہ بنیں : الدعیج

واقعہ معراج تمام واقعات میں سرفہرست ہے :حفیظ الرحمن

 اسلام جیسا عظیم الشان دین ہم کو ملا اس پرہم جتنا بھی فخر کریں کم ہے ، ہمیں ایک اچھے مسلمان کے ساتھ اچھے اخلاق والاانسان بھی بنناہوگاکیونکہ آپ ا نے فرمایا بعثت لأتمم مکارم الأخلاق میں اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیاہوں، اس بات کا اظہارIPC کے اسسٹنٹ ڈائرکٹرجنرل انجینئر عبد العزیز الدعیج نے انڈین مسلم ایسوسی ایشن کویت(IMA)مسجد کبیر کے تعاون سے جمعیة الاصلاح الاجتماعی کے ہال میں14جون کو منعقدہ ایک عظیم الشان اجلاس میں کیا ، جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔انہوں نے اسراءومعراج کے موضوع پر بھی گفتگوکی۔

برادرحافظ حفیظ الرحمن نے اسراءومعراج کے متعلق کہاکہ تمام واقعات میں اسراءومعراج کا واقعہ سرفہرست ہے ، معراج کے وقت آپ  صلى الله عليه وسلم کی عمر52سال تھ، رات میں سورہے تھے اس وقت جبریل علیہ السلام آئے اورآپ ا کوجگایا، آپ ا کا سینہ چاک کیا،زمزم سے اس کو دھویا، پھر اسے علم ، بردباری ، دانائی اور ایمان ویقین سے بھردیا۔پھر معراج کا سفر شروع ہوتاہے،بیت المقدس میں تمام انبیاءکی امامت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے کی تمام شریعتیں منسوخ اور شریعت محمدی کولازم قرار دیاگیا۔برادر حفیظ الرحمن نے واقعہ معراج سے امت کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیںکہ ساری د نےا قدموں میں ہونے کے باوجود اللہ کی شریعت کو اختیار کرناچاہئے ۔

 مولانا مجاہد خان عمری نے معاشرتی استحکام کے14اصول سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر23۔39کی روشنی میں ایک نئے انداز میں پیش کرنے کی اچھی کوشش کی۔ انہوں نے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اسٹیج پر بیٹھا کر ان سے سوالات وجوابات کی روشنی میں گفتگو  کی ۔اپنی گفتگوکے دوران توحید ، والدین کے ساتھ حسن سلوک اور تکبروغرور سے اجتناب جیسے اہم باتوں کو سامنے لایا۔پروگرام کے اخیر میں جناب مولانا صفات عالم مدنی نے حاضرین کے دینی سوالات کے بڑے ہی اچھے اور اچھوتے انداز میں جوابات دیئے۔پروگرام کی شروعات تلاوت قرآن سے ہوئی اور نظامت کے فرائض براد رشمویل پرویز نے انجام دی اورمولاناصفات عالم مدنی کی دعاپر پروگرام کا اختتام ہوا ۔

 مومن ہر مشکل اوقات میں اللہ کو یاد کرتاہے

تجوید اور اذان کے ذریعہ لوگوں کو قریب کیا جاسکتاہے

 IMA یوتھ ونگ میں قاری عمران کا خطاب

انڈین مسلم ایسوسی ایشن کویت(IMA)کی یوتھ ونگ کی دعوت پرجناب قاری عمران خان کویت تشریف لائے اس دوران موصوف نے کویت کے مختلف مقامات پر 28-30جون تک مختلف موضوعات پر لکچرس دیئے ، ان کا ایک لکچرمسجد کبیرمیں غصہ کیوں آتاہے اور اس پرکیسے قابو پایاجاسکتاہے انگلش زبان میںہوا۔ برادرعمران خان کا خاص موضوع تجوید اورتعلیم اور تدریس اوراذان کیسے دی جائے جیسے اہم موضوعات ہیں ۔ قاری عمران نے کہاکہ بحیثیت مومن ہم مشوروں کو اپنے سامنے رکھیںاور ہر مشکل کے وقت اللہ تعالی کو یاد کریں جوہمارا خالق اور مالک ہے ۔ مزید فرمایاکہ غصہ اور کشیدگی کی وجہ زندگی میں بنیادی طور پر اقتصادی اور ذہنی دبا کی وجہ سے پیداہوتاہے۔لہذا اس کو ختم اور کم کرنے کے لئے قرآن واحادیث کی تعلیمات پر زیادہ عمل کریں۔ افہام وتفہیم اور قرآن کی تلاوت سے غصہ کو ختم کیاجاسکتاہے۔

قاری عمران کادوسراپروگرام سالمیہ انڈین ماڈل اسکول میں’خاندانی نظام اور شخصیت کا ارتقاء‘پر ایک ورکشاپ پرمشتمل تھا۔ اس ورکشاپ کا خاص مقصد قرآن کریم کی تلاوت اورجدیدطریقوں اور تکنیکس پر زور دینا تھا۔اس سیشن کے مہمان خصوصی جناب کریم عرفان سابق صدر فیما نے یوتھ ونگ کی سرگرمیوں کوسراہا، جناب مسعود شہاب نے خطبہ استقبالیہ میں انڈین مسلم ایسوسی ایشن کا تعارف کرایا اور جنا ب نثار احمد نے یوتھ ونگ کی طرف سے رمضان میںچلائی جانے والی مہم کا تعارف کرایا۔

یوتھ ونگ نے قاری عمران کا ایک پروگرام بچوں کے لیے مخصوص کیا ، جس میں قاری عمران نے اپنے اچھوتے اورنئے انداز سے بچوں کے اندر اسلامی روح کیسے پیداکریں ….کے گر بتائے، ساتھ ہی تلاوت قرآن اورپروگرام کے درمیان بچوں کے سامنے مختلف انداز میں اذان دے کراذان دینے کا طریقہ بھی سکھایا۔ اس پروگرام میں برادر رضوان ، مولانا سلمان رحیمی ، برادر ذبیح اللہ خان اور جناب بلیغ صاحبان نے شرکت کی ۔ اس طرح کے پروگرام مستقل ہوتے رہیں تو لوگوں میں ایک نیا جذبہ اور حوصلہ پیدا ہوگا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*