کویت وہند تعلقات کا تاریخی پس منظر

 مولانا بدرالحسن القاسمی (کویت )

جزیرہ نمائے عرب اوربرصغیر ہند کے درمیان تعلقات کی تاریخ بہت قدیم ہے،چنانچہ عربی زبان کے متعدد الفاظ ایسے ہیں جن کی اصل ہندوستانی بتائی جاتی ہے اور جیسا کہ انسانی تہذیبوں وثقافتوںکا خاصہ رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر اثرانداز ہواکرتی ہیں، ہندوستانی زبانوںمیں بہت سے عربی کے الفاظ اورعربی زبان میں ہندوستانی زبانوںکے بہت سے الفاظ داخل ہوکر زبان کا جزبن گئے ہیں ۔

ہندوستان سے عربوں کی محبت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ عرب اپنی بیٹیوںکا نام ’ہند‘ رکھتے آئے ہیں ۔ اسی طرح قدیم زمانہ میں ہندوستان کی بنی ہوئی تلوار ’الحسام الھندی‘یا ’السیف المھند ‘ زیادہ اچھی اور تیزدھاراور کاٹ والی تلوار وںکے لیے بولاجاتا تھا ، ’عودھندی ‘ اور ’فلفل‘تو اب بھی ہندوستان کی یا ددلاتے ہیں ۔

تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو خودعمربن الخطاب  رحمه الله کے زمانہ میں ہندوستان میں دین اسلام کی نشرواشاعت کی کوششیں شروع ہوگئی تھیں ، پھر محمدبن قاسم الثقفی نے سندھ کا کچھ علاقہ فتح کرکے باقاعدہ اسلامی وعربی وجود کی راہ باز کردی ۔ مشہور تابعی ربیع بن صبیح  رحمه الله کی قبر بھروج میں پائی جاتی ہے ۔ عرب وہند کے تعلقات میںتجارتی سرگرمیوں کا نمایاںرول تھا،چنانچہ مختلف قسم کے سامانوں کا باہم تبادلہ ہوا کرتا تھا یا دوسرے لفظوںمیں ان کے درآمد وبرآمد کرنے کا سلسلہ جاری تھا ۔

ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات میں کویت پیش پیش تھا اور پٹرول نکلنے سے پہلے بحری راستہ ہی باہمی تعلقات کا ذریعہ تھا چنانچہ سمندری کشتیوں کے ذریعہ کویتی تاجر ین بمبئی،اور ملیبار کا رخ کیا کرتے تھے اور وہاں سے اشیائے خوردنی ‘تعمیری میٹریل وغیرہ لایا کرتے تھے ۔

ایک طویل عرصہ تک کویت میں ہندوستانی ”روپیہ “ہی سکہ کے طور پر رائج رہا ہے ،اور روپیہ ‘ آنہ وغیرہ ہر کویتی کے لیے معروف ومانوس چیز تھی ۔

عدالتوںمیں مختلف جرائم کی سزاکے طور پر لگایاجانے والاتاوان بھی ہندوستانی روپیوںمیں طے کیاجاتاتھا ۔

اوریہ بات محض نکتہ یا لطیفہ کی نہیں امر واقعہ ہے کہ بعض کویتی مورخین نے لفظ ”کویت“ کی اصل بابل یا کسی اورجگہ تلاش کرنے کے بجائے اسے ہندوستان کی زبان سے ماخوذ قرار دیا ہے ، مثال کے طور پر دیکھئے مشاری عبداللہ السجاری کی کتاب ”الشعرالکویتی الحدیث“ (جدید کویتی شاعری“ کا مقدمہ جس میں انہوںنے ایک مؤرخ طہٰ باقر کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ’کویت ‘قلعہ یا ڈیوڑھی وغیرہ کے معنی میں بابلی لفظ نہیں ہے بلکہ احتمال یہ ہے کہ یہ لفظ ہندوستان سے آیا ہو ۔

 اورواقعہ یہی ہے کہ ہندوستان وپاکستان میں ”شیرکوٹ “ ” بالاکوٹ “ وغیرہ نام کے متعدد شہر یا گاؤں ہیں اور ”کوٹ “ کا مفہوم وہی ہے جو عربی میں بیان کیا جاتا ہے ۔ اس لیے یہ احتمال کمزور ہرگز نہیں ہے کہ’کویت‘ ’کوٹ‘ جس لفظ کی تصغیر چھوٹے قلعے کے معنی میںکی گئی ہے وہ ہندوستانی الاصل ہو ۔

کویتی اقتصادیات کا انحصار جس وقت سمندر سے موتی نکالنے،مچھلیوں کا شکارکرنے اور ملیبار وزنجبار سے ضروریات زندگی کی درآمد وبرآمد پر تھا تمام ہی خلیجی ملکوں سے ہندوستان کے روابط بہت مستحکم تھے اور تجارتی سرگرمیاںزوروں پر تھیں ،خاص طورپر کویت کے تاجر اور کشتی راں اس میدان میں پیش پیش تھے ۔

بعض کویتی تاجروں نے تو ہندوستان کی تجارتی وصنعتی اہمیت کے پیش نظر ہندوستان میں مستقل سکونت اختیار کرلی تھی ۔ مثال کے طورپر مشہور کویتی شاعر عبداللہ الفرج کے والدمحمدبن فرج کے بارے میں کویتی مؤرخین نے لکھا ہے کہ : ”کان احد الاثریاءالمسرین امتلک اسطولا تجاریا ضخما وسکن الھند لتصریف امور تجارتہ، وکان الھند آنذاک مرکزا تجاریا مھما بالنسبة لتجارة الخلیج “

 ( ان کا شمار چند بڑے سرمایہ داروںمیں ہوتا تھا ، ان کے پاس زبردست تجارتی بیڑہ تھا، انہوںنے اپنے تجارتی اُمور کی دیکھ بھال کے لیے ہندوستان میں ہی سکونت اختیار کرلی تھی ) چنانچہ خود عبداللہ الفرج کی تعلیم وتربیت ہندوستان میں ہی ہوئی ۔

اس موقع پر اس بات کا ذکر کرنا بھی شاید نامناسب نہ ہو کہ ” مسجد کبیر “ کی تعمیر سے پہلے مبارکیہ مارکیٹ کی جو مسجد بطور جامع مسجد کے استعمال ہوتی تھی اور جہاں خودامرائے کویت بھی عیدین کی نمازاداکیا کرتے تھے اُس مسجد کے گیٹ پر آج بھی ہندوستان وکویت کے اہل خیر کے درمیان روابط کی یاد دلانے کے لیے یہ کتبہ موجود ہے کہ ” اس مسجد کی تعمیر نو بعض ہندوستانی اہل خیر کے تعاون سے عمل میں آئی ۔“

پٹرول کی دولت سے مالامال ہونے کے بعد تو خودکویت نے ہندوستانی اور دوسرے ممالک میں سیکڑوںمسجدیں بنوائی ہیں، لیکن ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ ہندوستان کے اہل خیر یہاں کی مسجدوںکی تعمیر میں حصہ لیتے تھے ۔ کسی زمانہ میں بمبئی میں کویتی اسکول بھی قائم تھا جہاں سفراءاور ڈپلومیٹوںکے بچے پڑھاکرتے تھے ۔

کویت کی عام بول چال کی زبان کو دیکھاجائے تو اس میں ’دروازہ ‘ ’چپاتی‘اور’ پردہ ‘ اور ’دریچہ ‘اور ’چولھا‘جیسے سیکڑوں الفاظ روز مرہ استعمال ہوتے ہیں ، اور اب تو حال یہ ہے کہ صرف ان ہندوستانیوںکی تعداد جو کویت میں برسرروزگار ہیں تقریباً پانچ لاکھ تک پہنچتی ہے ، اور سرکاری سطح پر بھی کویت وہندوستان کے روابط نہایت مستحکم ہیں ، اور ہندوستان کی بہت سی دینی سرگرمیوںکی تقویت میں بھی کویت کا نمایاں حصہ ہے ۔

کویت سے تجارتی مہم پر نکلنے والی کشتیوں کا رُ خ عراق میں شط العرب کی طرف ہوتا تھا جہاں سے وہ کویتی تاجروں کے آرڈرکے مطابق کھجوریں اور گندم وغیرہ لاد کر لاتی تھیں ، اسی طرح مشرقی افریقہ ‘ صومالیہ اور حبشہ کا بھی رُخ کرتی تھیں ، اور ہندوستان وپاکستان سے لوٹنے والی کشتیاں لکڑیاں‘غذائی اشیاءومسالے اور رسیاں وغیرہ لے کر آتی تھیں ۔ کشتی بنانے کے کام میں آنے والی لکڑیاں عام طور پر ہندوستان سے ہی لائی جاتی تھیں ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*