خاندان کے باہمی حقوق

احتشام الحق سلفی

shaz_bazmi@yahoo.co.in

 اسلام نے چند ایسے حقوق بھی متعین کئے ہیں جو گھر کے تمام افراد کو مساوی طور پر حاصل ہیںاور ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ ان حقوق کو ادا کرے۔

احترام انسانیت:ان میں سب پہلی چیز ایک دوسرے کا احترام ہے یعنی ہر شخص کو احترام انسانیت کا حق حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں ایک مشہور حدیث ہے : ”من لم یرحم صغیرنا ولم یؤقر کبیرنا فلیس منا“ یعنی چھوٹوں پر شفقت اور رحم اور بڑوں کی توقیر وتعظیم یہ اسلامی سماج کی پہچان ہے۔

 خیر کی رہنمائی ،شر کی نشاندہی اور باہمی تعاون:اس کے علاوہ ہر شخص اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔ برائی سے بچایا جائے، جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: یا ایھاالذین اٰمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا (ترجمہ: اے ایمان والوں بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو جہنم کی آگ سے۔اسی میں یہ بھی شامل ہے کہ خاندان کا کوئی فرد اگر غیر مسلم ہو تو اسے بساط بھر اسلام کی دعوت دی جانی چاہیے۔ فرائض کی ادائیگی کی ترغیب دی جائے اور گھروں میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس سے اسلام پر عمل کرنا آسان ہو۔خیر کے کاموں میں تعاون اور اس کی طرف نشاندہی کی جائے۔ برے کاموں سے اجتناب اور اس سے منع کیا جائے۔ جیساکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان۔ ساتھ گھر میں ہر شخص کے ساتھ مساوی سلوک ہو ۔ کسی پر اس کی بساط سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔

 تحفظ کا احساس:خاندان وہ ادارہ جو انسان کو تحفظ ادا کرتا ہے۔ گھر کے ہر فرد پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسا تعلق نہ رکھیں جس میں کسی کی زندگی اجیرن ہوجائے ۔ ایک دوسرے کا رابطہ اور تعلق اس طرح ہو کہ کسی پر خارجی حملہ کا خوف نہ ہوا اور اگرایسی صورت پیدا ہو تو خاندان کے افراد اس کی حفاظت کریں۔ لیکن ایسا ظلما وعدوانا نہیں ہونا چاہیے۔ بیماری اور مصیبت کے وقت ایک دوسرے کی غمگساری اور مدد ہونی چاہیے۔

زندگی میں انسان مختلف طرح کے معاملات کرتا ہے۔ جب کوئی مر جائے تو وارثین اور خاندان کے دیگر افراد کی ذمہ داری ہے کہ اس کے ذمہ قرض کا پتہ لگائے اگر وہ صاحب جائیداد مرا ہے تو اس کی جائیداد سے ورنہ اس کے وارثین اس کی ادائیگی کریں۔ اسی طرح اس کی موت پر بہتر ڈھنگ اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس کی تجہیز وتکفین کی جائے۔ انسان کے یہ اعمال ہر شخص میں تحفظ کا احساس جگاتے ہےں۔

خاندان کے ساتھ ایک گھر یعنی مکان کا تصور بھی ذہن میں آتا ہے۔ اسلام اس مکان کا حق بھی متعین کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق گھر کو ظلم کی پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے، گھر کو اللہ کے ذکر سے خالی نہ کیاجائے ، گھر میں آنے والے مہمانوں کی ضیافت کی جائے اور کمزور، مظلوم یتیم اور بیواؤں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے۔

 یہ وہ حقوق ہیں جن پر اسلامی خاندانی نظام کی بنیاد استوار ہے۔اسلام نے یہ سب ایسے وقت میں کیا جب دنیا حقوق اور نظام کے تصور سے بالکل ناواقف تھی۔ اس کے باوجود یہ حقوق ہر طرح سے مکمل اور عدل پر مبنی ہیں۔ باوجودیکہ موجودہ دور میں آزادہ روی، مستقل اور ذمہ داری عائد ہونے والے تعلقات سے بےزاری کا رجحان بڑھ رہا اور خاندانی نظام انتشار کا شکار ہے اسلامی خاندانی نظام میں ان حقوق کی پاسداری اور احساس جوابدہی کے تصور کی وجہ سا لمیت برقرار ہے اور بڑی حدتک مضبوط بھی ہے ۔ آج جو غیر اسلامی نظام حکمرانی رائج ہیں اور بزعم خود انسانیت کے محافظ اور بہی خواہ ہیں یا دوسرے جو مذاہب ہیں انہوںنے کبھی انسان کے عائلی حقوق کو اس طرح انفرادی طور پر بیان کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام نے انسانی زندگی کو جو دستور دیا ہے اور اس میں جو نظام ہیں انہیں جدید اسلوب میں منضبط طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے ۔ ان میں وہ تمام مسائل یا حقوق جو اسلام نے عالم انسانیت کو بخشا ہے، بیان کیے جائےں۔آج مسلمانوں پر بہت سے جو اعتراضات عائد ہوتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے دنیا کے ساتھ زندگی کے ہر مسئلہ میں اسلامی تعلیمات کو پیش نہیں کیا،اگر پیش کیا تو وہ ذرائع استعمال نہیں کئے جن سے دیگر قوموں نے کام لے کر اپنے پیغام کو عام کیا۔ مسلمانوں میں بھی دانشوروں کاایک ایسا طبقہ ہونا چاہیے جس کا تقابل غیر اسلامی رجحان ساز(Lobiest) طبقوں سے کیاجاسکے۔ یہ طبقہ دنیا کی صورت حال پر اس طرح نظر رکھے کہ آنے والے عہد کے مسائل کو پرکھ کر اسلامی نظام کے بیان کردہ حل کو تیار رکھا جاسکے اور اس کے لیے وہ تمام ذرائع استعمال کئے جائیں جن سے عالمی پردے پر اپنی آواز کو نمایاں جگہ دی جاسکے۔ مسلمانوں کا زوال اور اس کی محرومی یہ ہے کہ ان کا جو طبقہ دنیا کے حالات پر نظر رکھتا ہے دین کی بنیادوں سے ناواقف ہوتا ہے اور دین کا درک رکھنے والے دنیا کے حالات سے نا آشنا اور بے خبر ہوتے ہیں۔ حالانکہ دونوں کا مشن اسلام اور مسلمان کی ترقی اور فروغ ہے اس کے باوجود ددنوں کے درمیان مربوط تعلقات پیدا ہونے کی راہیںبھی نہیں نکلتی ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*