مصرکے نئے صدر انجینئرڈاکٹرمحمد مرسی

 محمد خالد اعظمی

khalid.azmi64@gmail.com

پورا نام : ڈاکٹر محمد مرسی عیسی العیاط ۔

مقام ولادت : 20اگست1951ءمیں شمالی مصرکے ایک چھوٹے سے گاؤں عدوہ ۔

والد کاشت کار تھے جبکہ ماں گھریلو عورت تھی۔

رشتہ ازدواج :30 نومبر1978ئ۔

اولاد:پانچ بچے(احمد ۔ شیمائ۔اسامہ۔عمر ۔عبد اللہ ) اورتین پوتے ۔

ملازمت : مصری فوج میں1975ءتا1976ء  اور1982ءتا1985ءکیلیفورنیایونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ۔ اس کے بعد مصر کی قاہرہ اور زقازیق یونیورسٹی میں بھی درس وتدریس کے فرائض انجام دیئے۔

تعلیمی سفر : 1975ءمیں گریجویشن اور1978ءمیں ماسٹرڈگری قاہرہ یونیورسٹی سے ۔1982ءمیں امریکہ کی جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی سے انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔

امریکہ سے مصرواپسی : 1985ءمیں ۔

ممبر پارلیمنٹ: ڈاکٹرمحمد مرسی آزاد امیدوار کی حیثیت سے 2000ءسے2005 ءتک پارلیمنٹ کے ممبر رہے ۔

صدر: فریڈم اینڈجسٹس پارٹی ۔

اخوان المسلمون میں ان کا کردار : اخوان المسلمون کے اہم عہدوں پر فائز رہے۔

اعلان انتخاب : مصرکی صدارتی انتخاب کا اعلان 25جون2012ءکو ہوا۔

منصب صدارت کی حلف برداری : مصرکی سات ہزار سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ انتخاب کے ذریعہ کوئی صدر منتخب ہواہے ۔اور ڈاکٹرمرسی وہ منتخب صدرہیں جنہوں نے30جون2012ءکو حلف اٹھایا۔اخوان المسلمون کی تمام ذمہ داریوں سے استعفی دے کرالیکشن لڑاتھا۔مظلومین کی باتیں سننے کے لئے ایک آفس بنائی تاکہ جتنے مظلومین ہیں وہ اپنی باتیں رکھ سکیں ، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ڈاکٹر مرسی خود قید وبندکی زندگی گزار چکے ہیں لہذا انھیں ظلم وستم کے معنی سے پوری طرح واقفیت ہے۔

 22مارچ 1928ءکو حسن البناکی قیادت میں اخوان المسلمون کا قیام عمل میں آیا،اوراس کے اصول و ضوابط اورکام کو دیکھتے ہی دیکھتے اس کی شاخیں دنیاکے ۲۷ممالک تک پھیل گئیں۔جوکچھ لوگوںکے بیل مونڈھے نہ چڑھ سکی جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ12فروری 1949ءبروز ہفتہ شام 8 بجے کے قریب بانی اخوان المسلمون کو گولیوں کا نشانہ بنایاگیاجس کی تاب نہ لاکر وہ اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ ظلم کی انتہاتو یہ تھی کہ ان کے جنازے پر بھی پابندی لگادی گئی اور کسی فرد کو ان کے گھرجانے کی اجازت نہیں تھی تو امام حسن البنا کے بوڑھے والد ، ایک عیسائی رہنما اور گھرکی خواتین نے امام شہید کی میت کو آخری آرام گاہ تک پہنچایا

            یہ پہلا موقع ہے کہ عالم عرب کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک مصر میں ایک دینداراور اسلام پسند مسلمان ایوان صدر میں داخل ہواہے دراصل یہ اخوان المسلمون کی 84سالہ جدوجہدکا ابتدائی حاصل ہے ،منزل ابھی بہت دور ہے جہاں پہونچنے کے لئے بہت کچھ کرناباقی ہے ،کیونکہ ان کے رہنماؤں کو جس ایوان سے پھانسی دینے کے فیصلے صادر ہواکرتے تھے آج اس ایوان میں اسی برادری کا ایک باوقارفردہے اور لا دین حکمرانوں کی سختیوں کی سب سے زیاد شکار بھی اسی گروہ کو ہونا پڑا تھا۔اللہ کاارشادبھی ہے ا حسب الناس ان یترکوا ان یقولوا آمنا وہم لا یفتنون اللہ نے وہ دن دکھلایا کہ اسی گروپ کے رہنماکو صدارتی محل میں بھیجا۔ اللہ فرماتاہے إن مع العسر یسرا ، ایک دوسری جگہ فرماتاہے إن اللہ مع الصابرین اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ سابق صدر مصر حسنی مبارک کے دور میں سیاسی قیدی رہنے والاشخص آج ملک کا صدر بنتاہے اور صدر قیدی کی زندگی گزارنے پر مجبور ولاچارہے۔

قیدوبند :سابق صدر مصر حسنی مبارک کے دور حکومت میںڈاکٹرمرسی کو کئی مرتبہ گرفتارکیا گیا۔2006ءمیں وہ سات ماہ تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے۔ آخری مرتبہ انہیں 28 جنوری 2011ءمیں جمعہ کے روز اخوان کے دیگر قائدین کے ساتھ گرفتارکیاگیاتھا۔

 تحریر اسکوائر میںحلف برداری کے بعدڈاکٹرمحمد مرسی کے بیانات:

٭اسلام ہی تمام مسائل کا حل ہے ۔

٭میں کسی فرقے یا طبقے کانمائندہ نہیں بلکہ پوری قوم کا بلاامتیاز صدر ہوں۔

٭شہداءانقلاب کا پاکیزہ خون رائیگاں نہیں جائے گا،اوران کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مصر ایک نئی تاریخ رقم کررہاہے۔

٭ہماری قوت ، ترقی اور استحکام ہماری قومی وحدت میں مضمر ہے ۔ ہم ایک قوم ہیں اور ہمیں دنیاکے سامنے خود کو ایک متحدہ قوم ثابت کرناہوگا۔

٭عالمی برادری کے ساتھ کئے ہوئے تمام معاہدوں کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔

٭ہم دنیا کے لئے امن کا پیغام لے کر آئے ہیں۔

٭انہوں نے وعدہ کیاکہ فوج کی طرف سے حراست میں لئے گئے تمام شہریوں کو رہاکیاجائے گا اور ان تمام لوگوں کے لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے گاجو حسنی مبارک کے خلاف احتجاج میںجان بحق ہوگئے تھے۔

٭ہم ملک کو مستحکم جدید شہری ریاست بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

٭ دنیا میں امن سے محبت کرنے والوں کے لئے ہم سلامتی کا پیغام لائے ہیں۔

٭انہوںنے مصر اور مصر سے باہر مقیم عیسائی برادری کو اطمینان دلایاکہ وہ ہمارے بھائی ہیں۔میراپیغام مصرکے مسلمانوں اور مصری عیسائیوں دونوں کے لئے ہے ۔

٭میں آپ سب کے ساتھ والد، بھائی ، اور مصری شہری جیسا معاملہ رکھوں گا۔ آپ سب لوگ میرے دوست ، بھائی ، اور خاندان کے فرد ہیں ، ہم کسی سے انتقام نہیں لیناچاہتے بلکہ ہم ملک کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔

٭ہمیں فلسطینیوں کی حمایت اس وقت تک جاری رکھنا ہے جب تک انہیں تمام شہری حقوق نہیں مل جاتے ۔

٭ شام میں خون خرابے کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

٭اندرون ملک اپنے دوروںاور آمدورفت کے دوران ٹریفک کی روانی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیداکرنے کی سختی سے ممانعت کردی ہے نیز سڑکوں پر اپنے حق میں تقریبات اورجلسے اورجلوسوں پر بھی پابندی عائدکردی ہے۔

٭ ہماری حکومت عورتوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کاجائز مقام واحترام دلائے گی ۔ اسلام نے خواتین کو مغرب سے زیاد ہ حقوق دئے ہیں ۔ میں کسی خاتون کو کوئی مخصوص لباس زیب تن کرنے پر مجبور نہیں کروں گا۔باوقار لباس کے معاملے میں تمام خواتین آزاد ہوں گی۔

مسند صدارت پر جلوہ افروز ہونے کے بعد مرسی کے لئے چیلنجز:

٭ملکی معاشی حالات کو سدھارنا۔

٭ملک میں نہ پارلیمنٹ ہے نہ ہی آئین اورملک میں اہم ادارے فوج کے پاس ہے اب دیکھناہے کہ ملک فوج چلاتی ہے یا صدرمرسی ….

٭ مصر کے سبھی لوگوں کے ذہن سے غلط فہمیاں دورکرنااورانہیں اعتماد میں لینا۔

 ڈاکٹرمحمدمرسی کی اہلیہ کا خاتون اول کہلانے سے انکار:

مصر کے نومنتخب صدر ڈاکٹرمحمد مرسی کی اہلیہ نجلاءمحمود نے خاتون اول کا لقب اختیار کرنے سے انکار کردیاہے۔ان کا کہنا ہے کہ”مجھے اپنے ملک میں خاتون اول قرار دینے کا کوئی جوازنہیں ۔ میں مصر کی خادمہ ہوں ، ہم سب ملک کے برابرکے حقوق وفرائض رکھنے والے شہری ہیں۔نجلاءمحمود نے کہا کہ ام احمد میری کنیت ہے،اس کے علاوہ مجھے آپانجلاءیا الحاجة نجلاءبھی کہہ سکتے ہیں۔

ڈاکٹرمحمد مرسی کے ایوان صدر کے دورے میں نجلاءمحمود بھی ہمراہ تھیں، اس دوران انہوں نے چہرے پر مکمل حجاب اوڑھ رکھاتھا۔ مصر میں سابق حکمرانوں کے ادوار میں ان کی بیگمات کی جانب سے اسلام کے شرعی پردے کے اہتمام کی کوئی روایت نہیں رہی ہے ۔ تاہم 25جنوری 2011ءکے انقلاب کے بعد محمد مرسی پہلے انقلابی صدر ہیں جن کی اہلیہ حجاب اور نماز وروزہ کی پابند ہیں۔ڈاکٹرمرسی کے دوران قیام امریکانجلاءبھی ان کے ہمراہ تھیں۔

1 Comment

  1. اللہ انہیں ملک میں امن قائم کرنے والا
    ملک میں اسلامی قوانین نافذ کرنے والا
    ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والا
    عادل فرمانروا بننے کی توفیق عطا فرما

    آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*