دل کا اندھا پن

پروفیسرعبدالرحمن لدھیانوی (پاکستان )

فَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ (45) أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۖ فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ (46) (سورة الحج )
ترجمہ: ” پس کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں ہم نے انہیں تباہ کر دیا تو وہ اپنی چھتوں سمیت گری پڑی ہیں اور کئی ایک بیکار کنویں اور کتنے ہی مضبوط محل ویران پڑے ہیں۔ کیا انہوں نے کبھی زمین میں گھوم پھر کر نہیں دیکھا کہ ان کے دل ان باتوں کو سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان کی باتیں سن لیتے بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوئیں بلکہ وہ دل اندھے ہو چکے ہیں جو سینوں میں پڑے ہیں۔ “
تشریح : اللہ اور اس کے رسولوں کے احکامات کی مخالفت کے نتیجے میں کتنی ہی ایسی اقوام ہیں جنہیں اللہ نے تباہ کر دیا، ان کو ہلاک کرنے کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے ظلم کیا اور اس ظلم کی وجہ سے وہ صفحہ ہستی سے مٹا دئے گئے۔
اللہ نے اہل بستی کے بجائے بستیوں کا ذکر کیا ہے یعنی وہ مقامات جن میں اللہ کے نافرمان آباد تھے، ان کی آبادیاں ملیا میٹ کر دی گئیں،خوبصورت اور مضبوط محلات کھنڈرات کا ڈھیر بن گئے،دیواریں منہدم ہو گئیں۔ چھتیں مکانوں کے اندر گر گئیں اور ان میں بسنے والے ملبے کے نیچے دب کر ہلاک ہو گئے۔ وہ کنویں جو آباد تھے اور کھیتوں کی سرسبزی کے سبب تھے وہ سب بے کار ہو گئے ۔گویا کہ بستیوں کا ذکر فرما کر ان بستیوں میں رہنے والے لوگوں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا تا کہ بعد میں آنے والے لوگ ان سے عبرت حاصل کریں ،ساتھ ہی اعلان فرما دیا کہ کیا یہ لوگ زمین میں گھوم پھر کر نہیں دیکھتے ؟ اگر یہ ان کی حالت کو دیکھ لیں تو اس سے عبرت حاصل کریں، اپنے دلوں میں محسوس کریں کہ یہ سزا کے حقدار کیوں بنے ۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سمجھنا دماغ کا فعل ہے مگر اللہ نے اس آیت میں سمجھ کو دل کے ساتھ بیان کیا ہے، مقصد یہ ہے کہ دل و دماغ کی ہم آہنگی کے ساتھ جاننے کی کوشش کی جائے۔ کسی کام کے کرنے کے لیے دل خواہش کرتا ہے پھر دماغ اس خواہش کی تکمیل کے لیے کام شروع کر دیتا ہے لہٰذا فرمایا کہ دلوں سے سوچیں اور عبرت حاصل کریں۔ اگر ان عذاب والی بستیوں کو دیکھ نہیں سکتے تو ان کے متعلق خبریں تو سن رہے ہیں، ان کے کان تو بہرے نہیں ہو گئے کہ ان کے متعلق سن کر اپنی اصلاح بھی نہ کرسکیں۔ اللہ نے خود ہی وضاحت فرما دی کہ ان کی آنکھیں اندھی نہیںہیں ،انہیں سب کچھ دکھائی دیتا ہے البتہ ان کے دل اندھے ہو چکے ہیں ،ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ بینائی بہت بڑی نعمت ہے لیکن اگر بینائی نہیں تو گزارہ ہو سکتا ہے البتہ اگر دل اندھے ہو جائیں تو آنکھوں کی بصارت بھی کچھ فائدہ نہیں دیتی ، لہٰذا ہر معاملے پر غور و فکر کر کے درست راہ پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*