قرآنی فریاد

 یاسین سامی( کویت یونیورسٹی )

yayp85@yahoo.com

 قرآنِ کریم ہر زمان ومکان میں مسلمانوں کے لیے بہترین منہج اور ضابطہ حیات ہے، نبی آخر الزمان ا کا رہتی دنیاتک کے لیے زندہ وجاویدمعجزہ ہے، یہ وہ کتاب ہے جو لوگوں کو ان کے دینی ودنیاوی تمام امور سے روشناس کراتی ہے، یہ کتاب حق و باطل، سعادت وشقاوت اور تاریکی وروشنی میں فرق کرنے کی کسوٹی اور معیار ہے،یہ کتاب سراسر نور ورحمت اور مشعل ِ راہ ہے جو انسانوں کو جہالت کی تاریکی سے علم کی روشنی کی طرف کھینچ لاتا ہے۔ اس کی عظمت کااندازہ اس آیتِ مبارکہ سے ہوتا ہے لو أنزلنا هذا القرآن علی جبل لرا يتہ خاشعا متصدعا من خشیة اللہ اگراس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارا جاتا تو اس میں موجود بلاغت وفصاحت، قوت واستدلال اور وعظ وتذکیر کے مختلف پہلووں کو سن کر اس کی اتنی سختی وصلابت، وسعت وبلندی کے باوجود بھی خوف الٰہی سے ریزہ ریزہ اور چکناچور ہو جاتا۔

 قرآن پاک کے حرف حرف میں حکمتوں کے جواہرپارے پوشیدہ ہیں، یہ کتاب سائنس اور ٹیکنالوجی کا منبع ومصدر بھی ہے، اسی لیے ایک معروف سائنسدان نے کہا تھا کہ سائنس کی انتہا قرآن کی ابتدا ہے، جن فارمولوں اور علوم کا وہ اس دور میں اکتشاف کر رہے ہیں ان کے متعلق قرآن میں واضح بیان بھی موجود ہے، اسی وجہ سے کئی متبحر سائنسداں حلقہ بگوشِ اسلام بھی ہو چکے ہیں۔

 اسلام کے ابتدائی دور میں جب مسلمان قرآن کو اپنا دستور اور ضابطہ حیات مانتے تھے اور اس کے علاوہ وضعی قوانین کو ہیچ سمجھتے تھے تو تعداد میں کمی اور بے سر وسامانی ان کی فتوحات کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی، جب تعداد صرف 313 تھی تو ان کا تسلط و غلبہ تھا اور اپنی ایمانی قوت وطاقت کا لوہا منوا چکے تھے، یہی وجہ تھی کہ اس وقت کی” سپر پاور” طاقتیں روم وفارس ان کے خوف سے لرزہ بر اندام تھےں۔

 مگر ستم بالائے ستم اس دور میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، تعداد میں کہنے اور شمار کرنے کو توسوا ایک ارب سے بھی تجاوز کر گئی ہے، 56 سے زائد اسلامی ممالک ہیں، تمام قدرتی وسائل ان کے ہاتھوں میں ہیں، پٹرول، گیس، المونیئم، لوہا، نمک …. وغیرہ اور دوسری تمام معدنیات اسلامی ملکوں سے ایکسپورٹ ہوتی ہیں، قدرتی وسائل کی تمام کانیںقدرت نے ان کو ودیعت کی ہوئی ہےں، دھاتی، زمینی، آبی، فضائی ہر وسائل سے مالا مال ہیں، دنیا کی سب سے بڑی کرنسی بھی کویتی دینار ہے۔اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے پہلا ملک بھی مسلم ملک ہے اور وہ کویت ہے  ( راقم سطور بھی ایک عقد سے یہاں مقیم ہے)، لیکن جب مسلمانوں کی تعداد میں کمی اور بے سروسامانی تھی اس وقت وہ معزز تھے، جلالت وشرافت، وقار وعزت، فتح مندی وفتح یابی، تسلط وغلبہ، کامیابی وکامرانی ان ہی کا حصہ تھی، اور جب تعداد ان گنت ہو گئی، تمام وسائل کے مالک بن گئے تو ذلت ورسوائی، شکست وناکامی ان کی مقدر بن گئی جس پر ایک ہی نہیں بلکہ ہزار سوالیہ نشان ہےں۔

ان ایام میں مسلمان ایک کٹھن اور دشوار گزار مراحل سے گزررہے ہیں، جاپان سے لے کر امریکہ تک طولِ بلد میں اور روس سے لے کر ساؤتھ افریقہ تک عرضِ بلد میںاگر ہم دیکھیں اور پرکھیں تو ہر جگہ مسلمان مظلوم، مقہور اور مجبور ہیں، مسلمانوں کی مساجد اور عبادت گاہیں منہدم ہو رہی ہیں، ان کی کتابِ مقدس قرآنِ کریم کی بے حرمتی کی جا رہی ہے، ان کے نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے، ان کے بوڑھوں کے جسموں کو چھلنی کیا جا رہا ہے، انکی ماؤں اور بہنوں کی عزت وآبرو کوتار تار کیا جارہا ہے۔ برما ہو یاشام ، کشمیر ہو یا فلسطین، عراق ہو یا افغانستان، چیچنیا ہو یا فلپائن،تھائی لینڈ ہو یا سویٹزرلینڈ ہر جگہ، ہر سمت مسلمان ہی گوناگوں مصائب ومشکلات کی چکی میں پس رہے ہیں، ان کی عزت وناموس، مال ومنال، جان وجسم، اسباب وجائیداد اور ایمان واسلام تک پر مظالم و شدائد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، جسے وہ چار ونا چار سہنے پر بے بس ومجبور ہیں۔

آخر ان حالات کی وجہ کیا ہے؟ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ اور مسلمانوں کے لیے اتنی رذالت وقباحت کیوں کر راس آتی ہے اور انہیں یہ سب کچھ کیوں منظور و مقبول ہے؟ ان کے اسباب ووجوہات کیا ہیں؟ اور اصل ذمہ دار کون ہیں؟!!

یہ سب کچھ اگر ہو رہا ہے تو اپنی کرتوت کی سزا ہے، بجز اس کے کچھ نہیں ہے: ذلک بما کسبت ایدیکم وان اللہ لیس بظلام للعبید “یہ سب ان کے ہاتھوں کے کئے کی سزا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا ہرگز نہیں ہے۔ جب تلک مسلمانوں نے اپنا ضابطہ ومنشور قرآن کو بنائے رکھا، اس کی تعلیم کو اپنائے رکھا، اور ہر معاملے کو شریعت محمدی  صلى الله عليه وسلم کی کسوٹی پر تولتے رہے ان کی عزت وناموس اور جان ومال سب محفوظ رہے، اور جب ہی انہوں نے قرآنی احکامات کو ترک کیا، وضعی قوانین اور مغربی دساتیر کو اپنا قانونِ زندگی بنانے پر راضی برضا ہوئے تبھی وہ ذلیل وخوار ہو گئے، ان کی عزت وآبرو، جان ومتاع، زر وزن اور زمین سب ارزاں ہو گئیں، کیونکہ ہمارے اسلاف صاحبِ قرآن ہو کر معزز ومکرم تھے، اور ہم تارکِ فرقان ہو کر ذلیل وخوار ہو گئے ہیں، ڈر یہاں تک ہے کہ کہیں ہم پر یہ صادق نہ آجائے کہ “تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے”، جسے علامہ اقبال نے اپنی شاہکار نظم “جواب شکوہ” کے بیسویں بند میں کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے

  وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

 اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

اور یہ بات عیاں ہو گئی کہ ایک صحیح مسلمان بننے اور اللہ کی رضا کے مستحق ٹھہرنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں، بجز اس کے صحیح مسلمان بننا ممکن نہیں ہے۔

حضرت خالد بن ولید رضى الله عنه  جب مصحف کو اٹھاتے تھے تو رونے لگتے تھے اور زبان سے یہ کلمات جاری ہو جاتے تھے کہ جہاد کی وجہ سے ہم آپ سے مشغول رہے، اور کما حقہ حق ادا نہیں ہو سکا، پوری زندگی کو قرآنی قالب میں ڈھالنے کے باوجود بھی ہمارے سلف ِ صالحین اس طرح اپنی تقصیر بیان کرتے تھے، تو ہماری کیا حالت ہونی چاہئے؟ اگر صحابہ کرام کو جہاد فی سبیل اللہ نے قرآن سے مشغول رکھا ہے تو ہم اپنے آپ سے پوچھیں کہ آخر ہمارے لیے کیا عذر ہے کہ ہم قرآن کے لیے کوئی وقت نہیں دے سکتے ہیں، انٹرنیٹ، فیس بک، ٹیویٹر جیسے سوشل نیٹ ورکس پر کئی کئی گھنٹے گزار لیتے ہیں لیکن افسوس کہ تلاوت قرآن کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہے، اکثر مسلمانوں کو ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک مصحف کادیدار تک نصیب نہیں ہوتا، گویا اسے صرف رمضان میں پڑھنے کے لیے اتارا گیا ہو؟جب مسلم دنیا کی یہ حالت ہو تو فتح وکامرانی اور غلبہ وتسلط کی باتیں محض حکایت لگتی ہیں۔

 کئی ماہ قبل راقم سطور کویت یونیورسٹی کے کیمپس سے گزر رہا تھا، ہر طرف خوبصورت بینرز چسپاں تھے، جن پر یہ اعلان تھا کہ امیر الکویت الشیخ صباح الاحمد الصباح کی زیر سر پرستی عالمی سطح پر قرآن پاک کے حفظ اور تلاوت کا مقابلہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ جس میں مختلف ممالک سے حفاظِ کرام اور قرائے عظام شرکت فرمائیں گے، ان سب کی آمد ورفت، قیام وطعام کے انتظام سے لیکر انعامات، اور تمام شرکاءکے لیے اخراجات کا بندوبست حکومت کی طرف سے کیا جاتا ہے۔اس محفل کی افتتاحی اور اختتامی تقریب میں امیر کویت نے بنفسِ نفیس شرکت کرکے اور اسانید وانعامات تقسیم فرما کر نہ صرف شرکاءکی حوصلہ افزائی کی بلکہ یہ باور کرایا کہ اسلامی ممالک کے سربراہان اور اربابِ اقتدار پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے دیہاتوں، قصبوں، شہروں، صوبوں اورملکوں میں ایسی ہی شاندار تقریبات منعقد کریںاور اہل اللہ وخاصتہ کی خدمت کر کے قرآن سے اپنی نسبت کا مظاہرہ کریں، قرآن کریم کے حفظ وتلاوت کے مقابلے کا نام ’مسابقة الکویت الکبری‘ رکھا گیا تھا، اور یہ سابق امیر کویت الشیخ جابر الاحمد الصباح کے دور سے مسلسل ہرسال منعقد ہو رہا ہے۔ یہاں پر گاہے بگاہے بہت سے قرآنی مسابقے اور مقابلے مختلف اداروں، شخصیات اور خصوصاً وزارتِ اوقاف کی طرف سے منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ اسی طرح ہر مسجد میں نمازِ عصر کے بعد قرآنی حلقات کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔

 دوسری جانب قرآن کے تئیں بے حسی کی ایک مثال دیکھیں کہ مملکت خداداد پاکستان کی موجودہ حکومت کے وزیر داخلہ بابا رحمان نے یہ واضح کر کے دنیا کو دکھایا کہ ہماری قیادت کو کلامِ الٰہی کے ساتھ کتنا لگاؤہے۔ جب عبدالرحمان صاحب نے کابینہ کے اجلاس میں تمام وزراءکے سامنے سورہ اخلاص کی تلاوت شروع کی اور کئی بار لقمہ دینے کے باوجودبھی لم یلد سے آگے نہ بڑھ سکے۔ ساتھ ہی بلا جھجک یہ ارشاد فرما کر مزید بے شرمی کا ثبوت پیش کیا کہ (میں حافظ قرآن تھوڑا ہوں کہ سورہ اخلاص کی تلاوت مکمل کروں)۔ گویا اس کے ہاں یہ بالکل مقبول عذر ہے، حالانکہ تین چار سال کے بچوں کو بھی اس جیسی چھوٹی سورتیں ازبر یاد ہوتی ہیں۔

یہاں یہ بات بھی یاد آئی کہ جیسے تمہارے اعمال ہوں گے ویسے ہی تمہارے حکمران ہوںگے۔ ہمیں اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر جب یہ مثل سامنے آئی ” الناس علی دین ملوکھم” عوام اپنے حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں، جیسی لیڈر شپ ہو گی لوگ بھی ویسے ہی ہو جائیں گے تو جسم میں خوف وہراس کی سرسراہٹ سی دوڑ گئی، اور سراپا دست بدعا ہو گیا کہ یا اللہ! ہمارے ایوانِ بالا کے مکینوں کی یہ حالتِ زار ہے، مگر تو ہمارے سفہاءکی کرتوت کی وجہ سے عذابِ عام میں ہم سب کو مبتلا نہ کرنا، ہماری اور ہمارے ارباب حل وعقد کی اصلاح فرما۔

ارباب اقتدارسے قطع نظرخودہمارا مسلم معاشرہ قرآن کریم کے ساتھ نارواسلوک کر رہا ہے ، ہر گھر میں والدین اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت میںہمہ تن مصروف رہتے ہیں اور یہ مستحسن امر ہے، ہر سبجیکٹ کے ٹیویشن کے لیے تجربہ کار معلم کاانتخاب کرتے ہیں اور ان کو منہ مانگی تنخواہیںدیتے ہیں۔ مگر جب کلامِ ربانی کی باری آتی ہے تو اسے پڑھانے کے لیے شیڈول میں ٹائم بھی نکالنا مشکل ہو جاتا ہے، اور اسے پڑھانے والے قاری اور استاد کو دینے کے لیے چند کوڑیاں بھی نا قابلِ برداشت سمجھی جاتی ہیں جوکہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

 آج کل قرآنِ کریم کو اکثر مسلمان ریشمی غلافوں میں پیک کر کے کمرے کی سب سے اونچی جگہ پر رکھتے ہیں، اوربھول کر بھی اس تک ہاتھ نہیں پہنچتا، ہاں!اگرکسی کا انتقال ہو جائے تو فوراًقرآن کی یاد آجاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کل قیامت کے دن اللہ کے رسول ا اپنی امت کے خلاف شکایت کریں گے کہ انہوں نے کتاب مقدس کو چھوڑ رکھا تھا ﴾وقال الرسول یا رب ان قوم¸ اتخذوا ھذا القرآن مھجورا﴿قرآن پر ایمان نہ لانا، اسپر عمل نہ کرنا، اس کو نہ سیکھنا، تلاوت نہ کرنا، اسپر غور وفکر نہ کرنا اور اسکے اوامر و نواہی کی پاسداری نہ کرنا بھی ہجرانِ قرآن میں شامل ہے۔ ماہر القادری نے اپنی شاہکار نظم ” قرآن کی فریاد” میں انہی حالات کی تصویر کشی کی ہے جسکا مطلع ہے

طاقوں میں سجایا جاتا ہوں، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں

تعویذ بنایا جاتا ہوں، دھو دھو کے پلایا جاتا ہوں

 آئیے ہم تجدیدِ عہد کریں کہ کم ازکم ماہ رمضان میں اپنی حیثیت اور طاقت کے مطابق قرآن کی خدمت کریں گے۔ روزانہ تلاوت کو اپنا معمول بنائیںگے، گھروں میں بچوں کے ما بین مقابلہ کرائیںگے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو قرآن وحدیث کی روشنی میں گزارنے اور اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کی توفیق مرحمت فرمائے، آمین۔

٭٭٭

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*