روزہ اور تقویٰ

  مولانا محمد انور محمد قاسم سلفی(کویت)

 تقویٰ ایک مومن اور مسلمان کا اہم ترین وصف ہے ، اس سے بندہ مومن کی دنیوی اور اخروی زندگی سنور جاتی ہے ، وہ اس دنیا میں اﷲ تعالیٰ کا محبوب ترین بندہ بن جاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : ”ﷲ کے نزديک سب سے زےادہ باعزت وہ ہے جو آپ ميں سب سے زيادہ متقی ہے “۔( الحجرات:13)

اوراﷲ تعالیٰاس کے تمام نیک اعمال کو شرف قبولیت عطا فرماتے ہیں ۔ جیسا کہ فرمان باری ہے :”اﷲ تعالیٰ صرف متقی لوگوں کے اعمال صالحہ قبول کرتا ہے “۔ (المائدہ : 27)

 اور آخرت میں اسے کامیابی عطا کرتے ہیں :”بےشک کامےابی متقی لوگوں کے لیے ہے“ ۔( النباء:31) اورجنت الفردوس میں جگہ عطا فرماتے ہیں ۔ جیساکہ ارشاد باری ہے : ”اور اس جنت کے حصول کی کوشش کرو جس کی چوڑائی آسمان وزمين کے برابر ہے جومتقين کے لیے تےار کی گئی ہے “۔ ( آل عمران133)نیز ارشاد ہے : ”بےشک متقی لوگ باغات اور نہروں مےں راستی اور عزت کی بےٹھک ميں قدرت والے بادشاہ کے پاس ہوں گے “۔(القمر54) غرضیکہ قرآن مجید میں بے شمار جگہوں پر اﷲ تعالیٰ نے متقيوں کو کئی اعزازات سے نوازا ہے اور انہیں اس دنیا میں حاصل ہونے والے روحانی اور مادی فوائد کا تذکرہ کیا ہے اور آخرت میں ان کے بلند مقامات کی منظر کشی کی ہے ۔ قرآن مجید میں ایمان کے بعد سب سے زیادہ زور تقویٰ پر دیا گیا ہے ، اور اسے ہر عبادت کا حاصل اور ہر دینی ریاضت کا مقصد قرار دیا ہے ۔ روزہ کا مقصد بھی یہی ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے۔جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :” اے ايمان والو !تم پر بھی روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہيں جيسا کہ تم سے اگلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی حاصل کرسکو “ ۔ (البقرة :183)

تقویٰ کیا ہے ؟

تقویٰ کا مقام دل ہے جےسا کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے اپنے سےنہ اطہر کی طرف تين مرتبہ اشارہ کرتے ہوئے فرمايا :” تقویٰ ےہاں ہوتا ہے“۔ ( صحےح مسلم )

تقویٰ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو حرام چیزوں سے بچائے اور اس سے حرج محسوس کرے اور یہ تقویٰ کی انتہا ہے کہ انسان مشتبہ چیزوں سے بھی اپنے دامن کو بچائے رکھے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق ا فرماتے تھے کہ :

 ” ہم حلال کے ستر حصے اس خدشہ کی بناپر چھوڑ دیتے تھے کہ کہیں ہم حرام کے ایک حصے میں نہ پھنس جائیں “۔

 رسول اکرم اصلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے کہ :” حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کئی ایسے امورہیں جو شبہ میں مبتلا کرنے والے ہیں، جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، جو شبہات سے بچتا ہے وہ اپنے دین اور اپنی عزت کا دامن بچا لے جاتا ہے ، اور جو شبہ میں پڑگیا وہ حرام میں پڑگیا، اس کی مثال ایسے شخص کی ہے جو اپنے ریوڑ کو کھیتی کے باڑھ کے قریب چراتا ہوا کھیتی میں گھس جاتا ہے ،یاد رکھو اﷲ کی باڑھ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں “۔(بخاری ومسلم )

نیز آپ صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے :” شک وشبہ میں ڈالنے والی چیز کو چھوڑ دو اور شبہات سے پاک چیز کو لے لو “۔( ترمذی )

حضرت عطیہ بن عروہ السعدی رضى الله عنه سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :” بندے کا شمار متقیوں میں اس وقت تک نہیں ہوسکتا ، جب تک کہ وہ ان چیزوں کو جن میں کوئی حرج نہیں ، صرف اس خدشہ کی وجہ سے نہ چھوڑ دے کہ کہیں اس میں کوئی حرج ہو “۔ ( ترمذی )

حضرت وابصہ بن معبد  رضى الله عنه کہتے ہیں کہ میں رسول اﷲ  صلى الله عليه وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا :

” تم نیکی کے متعلق دریافت کرنے کے لیے آئے ہو ؟“ میں نے کہا : ہاں! آپ نے فرمایا : تم اپنے دل سے استفسار کرو ، نیکی وہ ہے جس پر دل وضمیر کو اطمینان ہو ، گناہ وہ ہے جو دل میں خلش پیدا کرے ، اور سینے میں ہیجان برپا کردے ، اگرچہ لوگ تمہیں اس کے حلال وجائز ہونے کا فتویٰ بھی دیں “۔ ( احمد ، دارمی ) ایک روایت میں ہے : ” گناہ وہ ہے جو دل میں خلش پیدا کرے ، اور تم اسے لوگوں کی نظروں سے چھپانا چاہو “۔( مسلم )

 حضرت عمر بن خطاب  رضى الله عنه نے حضرت بی بن کعب رضى الله عنه  سے تقویٰ کا مفہوم دريافت کيا تو انہوں نے جواب ديا کہ آپ کبھی خار دار وادی سے نہيں گذرے ؟ تو حضرت عمر رضى الله عنه نے فرمايا: کيوں نہيں ضرور گذرا ہوں ۔ حضرت أبی بن کعب رضى الله عنه  نے پوچھا : وہاں کےسے گذرنا ہوا ؟ حضرت عمر بن خطاب  رضى الله عنه   فرمانے لگے : دامن کوبالکل سميٹ کر گزرا، انہوں نے فرمايا : ےہی تقویٰ کا مفہوم ہے يعنی گناہ وسيئات کی واديوں سے دامن بچا کر گذر جانے کا نام تقویٰ ہے ۔ ( تفسير ابن کثير : 1/43)

 متقیوں کے واقعات

اتنا قے کیا کہ خون آنے لگا :

انسان کے دل میں جب تقویٰ پیدا ہوجاتا ہے تو وہ نہ صرف ہر حرام بلکہ مشتبہ چیزوں سے بھی اپنے دامن کو پاک رکھتا ہے ، اگر غلطی سے کوئی چیز اس کے پیٹ میں چلی جائے تو اس وقت تک اسے قرار نہیں آتا جب تک کہ وہ اسے باہر نہ نکال دے ۔ اس کے بعد بھی وہ اﷲ تعالیٰ سے لرزاں ترساں رہتا ہے کہ کہیں قیامت کے دن اس کے پیٹ میں باقی رہ جانے والے ذرات کے متعلق سوال نہ ہوجائے ۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق ص کا ایک غلام تھا جو انہیں خراج کی رقم دیا کرتا تھا ،اور آپ اس کی کمائی کی رقم سے بھی کھاتے تھے ، ایک دن وہ کوئی چیز ( دودھ ) لے کر آیا ، آپ نے اسے نوش فرمالیا ، جب آپ پی چکے تو اس نے کہا : کیا آپ کو پتہ ہے کہ یہ کونسی کمائی کا ہے ؟ آپ نے فرمایا : بتاو کس کمائی کا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے اسلام لانے سے قبل ایک شخص کے لیے کہانت ( غیب کی خبر دینا ) کی تھی ، حالانکہ میں اس فن کو اچھی طرح جانتا نہیں تھا ، سچی بات تو یہ ہے کہ میں نے اسے دھوکہ دےا تھا ۔ آج وہ شخص مجھے ملا،اس نے مجھے کچھ پیسے دئیے ، اور جو آپ نے نوش کیا ہے وہ اسی کمائی کاہے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق ص نے اپنے منہ میں انگلیاں ڈالیں اور پیٹ میں جو کچھ تھا قے کردیا ۔ ( بخاری ) ایک روایت میں ہے کہ : اتنا قے کیا کہ خون آنے لگا پھر فرمایا : اے اﷲ میرے بس میں جتنا تھا وہ میں نے کردیا ، اور جو میرے بس میں نہیں اس پر میرا مواخذہ نہ فرما“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اگر یہ غذا میری جان کے ساتھ ہی باہر نکل سکتی تو بھی میں اسے باہر نکال دیتا “۔

 

 ﷲ کہاں ہے ؟

صاحب تقویٰ شخص کو ہر جگہ اﷲ تعالیٰ کی مراقبت اور نگرانی کا احساس رہتا ہے ، وہ آبادی ہو کہ بیابان ہر جگہ اپنے رب کو اپنے ساتھ دیکھتا اور سنتا ہوا تصور کرتا ہے ۔

 حضرت عبد اﷲ بن دےنار کہتے ہےں :” مےں حضرت عمر صکے ہمراہ مکہ کے لیے روانہ ہوا، راستے مےں اےک چرواہا اےک پہاڑ ی کی ڈھلوان سے اترتا ہوا نظر آےا، حضرت عمر ص نے اسے آزمانے کےلئے کہا : ”اے چرواہے ! ان بکریوںمےں سے اےک مجھے فروخت کردے “ اس نے کہا : ”مےں مالک نہےں غلام ہوں ، مجھے فروخت کرنے کا اختیار نہیں ہے “ حضرت عمر صنے فرماےا : ” کوئی بات نہےں، مجھے فروخت کرکے اپنے مالک سے کہہ دے کہ اس بکری کو بھےڑیئے نے کھا لےا “اس پر چرواہے نے کہا : ”حضرت! تو پھر اﷲ کہاں ہے ؟“ حضرت عمرصروپڑے ، اور اس کے ساتھ چل کر اس کے مالک سے بات کی اور اسے خرےد کر آزاد کردےا اور فرماےا :”تےرے اےک لفظ نے تجھے دنےا مےں غلامی سے نجات دلاےا ہے اور مجھے امےد ہے کہ ےہی لفظ آخرت مےں بھی تجھے دوزخ کے عذاب سے نجات دلائے گا“

 مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی نہیں کرتے:

 امام غزالی رحمہ اﷲ ’احیاءالعلوم ‘ میں لکھتے ہیں :” امام یونس بن عبید رحمہ اﷲ کپڑوں کا کاروبار کرتے تھے ، آپ کی دوکان مےں مختلف قسم کے لباس، چادریں اور جوڑے تھے، ان میں سے کچھ کی قیمت چار سودرہم اور کچھ کی دوسو درہم تھی ۔ آپ نے نماز پڑھنے کے لیے مسجد جاتے ہوئے دوکان مےں اپنے بھتیجے کو چھوڑا اور اسے تمام کی قیمتےں بھی سمجھادیں ، اس دوران ایک بدو شخص آیا، اس نے چار سو درہم کا ایک جوڑا مانگا ، لڑکا چالاک تھا، اس نے اسے دوسودرہم والا جوڑا دکھایا اس نے اسے پسند کرلیا اور خوشی خوشی چار سو درہم ادا کرکے چلا گیا ، راستے مےں اسے یونس بن عبید ؒ مل گئے ، انہوں نے اس کپڑے کو پہچان لیا جو ان کی دوکان سے خریدا گےا تھا ، آپ نے اس بدو سے پوچھا : ” تم نے اسے کتنے میں خریدا “ کہا : ”چار سو درہم مےں “ آپ نے فرماےا : ” یہ دوسو درہم سے زیادہ کا نہیںہے ، اس لیے تم اسے واپس کر آؤ “اس نے کہا :  ” حضرت ! یہ ہمارے ہاں پانچ سو درہم کا ملتا ہے اور مےں نے اسے اپنی خوشی سے خریدا ہے “ آپ نے فرماےا : ” مےرے ساتھ واپس چلو ، اس لیے کہ دین میں خیر خواہی کا مقام دنیا اور اس مےں جوکچھ ہے اس سے بہتر ہے “پھر آپ اپنی دوکان پر آئے اور اسے دو سو درہم واپس کےا، بھتےجے کو خوب ڈانٹا پھٹکارا، اور فرمایا : کےا تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آئی ؟ کےا تم میں کچھ بھی اﷲ کا خوف نہیں ؟ اصل قیمت کے برابر فائدہ کھاتے ہو اور مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی نہیں کرتے ؟۔

 متقی شخص چاہے وہ مرد ہو یا عورت ، اس پر اﷲ کا خوف ہر وقت طاری رہتا ہے ، دن کا اجالا ہو یا رات کا اندھیرا وہ کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتا ۔

عمر کا رب تو ضرور دیکھ رہا ہے :

حضرت عمر بن خطاب کے متعلق آتا ہے کہ آپ ایک رات مدینہ منورہ میں گشت لگا رہے تھے کہ لوگوں کے حالات سے باخبر ہوں ، سنا کہ ایک گھر سے کچھ آوازیں آرہی ہیں ، گھر کی دیوار سے کان لگا کر کھڑے ہوگئے ، سنتے ہیں کہ ایک ماں اپنی جوان لڑکی سے کہہ رہی ہے : ”بیٹی! آج رات اونٹنیوں نے دودھ کم دیا ہے اس لیے تم تھوڑا سا پانی ملادو تاکہ گاہکوںکو دودھ برابر مل جائے “ بیٹی نے جواب دیا :

” امّی جان ! امیر المومنین کا حکم ہے کہ فروخت کرنے کے دودھ میں پانی نہ ملایا جائے “ ماں نے کہا : ” اس رات کے اندھیرے میں کونسا امیر المومنين ہے جو تجھے دیکھ رہا  ہے ؟بیٹی اللہ والی تھی، اس نے جواب دیا : ” اگر امیر المومنین عمر بن خطاب نہیں دیکھ رہا ہے تو عمر کا رب تو ضرور دیکھ رہا ہے ، میں یہ جرم ہرگز نہیں کرسکتی “ ۔ آپ نے جب اس لڑکی کی یہ بات سنی تو روپڑے ، دوسرے دن اس لڑکی کے متعلق معلومات جمع کیں ،پتہ چلا کہ لڑکی غیر شادی شدہ ہے ، پھر اپنے لڑکوں کو اکٹھا کیا اور فرمایا :” میرے بچو! گذشتہ رات میں نے ایک دین دار لڑکی کی یہ باتیں سنیں ، اللہ کی قسم! اگر مجھ میں جوانی ہوتی تو ضرور میں اسے اپنے گھر میں بیوی بنا کر لاتا ، لیکن میں بوڑھا ہو چکا ہوں، میری ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں ، اب مجھ میں یہ صلاحیت نہیں کہ میں کسی جوان لڑکی سے شادی کروں ، لیکن میں نہیں چاہتا کہ وہ لڑکی ضائع جائے ، میری خواہش ہے کہ وہ میری بہو بن کر میرے گھر میں آئے“ آپ کی یہ باتیں سن کر حضرت عاصم بن عمرصنے کہا :” ابّا جان ! اس لڑکی سے میں شادی کروں گا “ آپ نے اس نیک لڑکی کا بیاہ اپنے بیٹے سے کردیا ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس لڑکی سے ایک بچی ہوئی ، اور پھر اس لڑکی سے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ پیدا ہوئے ، جنہیں امت اسلامےہ نے بالاتفاق پانچواں خلیفہ راشد تسلیم کیا ، جنہوں نے اپنے دو ڈھائی سال کے مختصر دور حکومت میں حضرت عمر بن خطاب صکے دورِ حکومت کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ ( تربیة الاولاد فی الاسلام )

 میں خیانت میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا :

حضرت امام محمد بن سیرین رحمة اللہ علیہ کا شمار زمرہ تابعین میں ان برگزیدہ ہستیوں میں ہوتا ہے جنہیں سید التابعین کہا جاتا ہے ، آپ کو اﷲ تعالیٰ نے خواب کی تعبیر کا علم عطا فرمایا تھا آپ کی لکھی ہوئی کتاب ” تفسیر الا

حلام “ساری دنیا کے علم رویا کے ماہرین کا مرجع ہے ۔ آپ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور علم رویا کے امام تھے ، گذر معاش کے لیے زیتون کے تیل کا کاروبار کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ نے اسّی ہزار درہم کا روغن زیتون خریدا ، جب تیل کا ایک مشک کھولا تو اس سے ایک مری ہوئی چوہیا برآمد ہوئی ، آپ کو یہ شبہ لاحق ہوگیا کہ ہوسکتا ہے کہ چوہیا تیل کے بھنڈار میں گر کر مری ہو ، اور اسی سے سارا تیل مشکوں میں بھرا گیا ہو ۔ اس شک وشبہ کی وجہ سے آپ نے یہ گوارہ نہیں کیا کہ اس تیل کو بیچاجائے ، آپ نے غلاموں کو حکم دیا کہ سارا تیل بہا دیا جائے ۔ حسب حکم تیل بہادیا گیا ، لیکن جہاں سے تیل خریدا گیا تھا وہاں بر وقت ادائیگی نہیں ہوسکی ، اس نے حاکم وقت کے دربار میں شکایت کردی ، جس کی وجہ سے آپ کو ادائیگی تک قید کردیا ، داروغہ نے آپ سے کہا کہ :” مجھے پتہ ہے کہ آپ بے قصور ہیں ، میری جانب سے آپ کو اجازت ہے کہ ہر رات گھر چلے جائیں ،اور صبح کے وقت قید خانہ پہنچ جائیں“ آپ نے فرمایا : ” میں تمہاری اس خیانت میں ، تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا “آپ نے قید خانے کی سختیاں گوارہ کرلیا، قاضی کے سامنے مجرموں کے کٹھرے میں کھڑا ہونا برداشت کیا لیکن یہ گوارہ نہیں کیا کہ غلط مال بیچ کرفائدہ حاصل کیا جائے“۔(امام محمدبن سیرین )

 آمدم برسرمطلب : اﷲ تعالیٰ روزہ سے تقویٰ کی جو صفت مسلمانوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں ، وہ یہی ہے ۔ جب مسلمانوں کی زندگی میں یہ صفت پیدا ہوجائے گی تو پھر معاشرے سے دھوکہ ، جھوٹ ، بے ایمانی ، دغا اور اس طرح کی بے شمار اخلاقی برائیوں کا خاتمہ ہوجائے گا ۔اور جس معاشرے کی بنیادیں تقویٰ ، للہیت ، سچائی ،بے لوثی پر استوار ہوں یقینا وہ معاشرہ دنیا کا سب سے بہترین معاشرہ ہوگا۔ افسوس کہ تقویٰ، اےمانداری کی ےہ تابناک مثالےں آج مسلم معاشرے میں عنقا ہوچکی ہیں، بلکہ اس کے برعکس جھوٹ ، دھوکہ دہی ، فراڈ، غصب وغیرہ آج مسلم معاشرے کا جزءلا ینفک بن چکی ہیں، یہود ونصاریٰ کے پاس تو کچھ دنیوی اصول ہیں لیکن ہم روزہ دار مسلمانوں کے پاس وہ بھی باقی نہیں ہیں ۔ یہ ساری خرابیاں اس بات کی علامت ہیں کہ روزہ کو ہم نے بھوک وپیاس برداشت کرنے اور ویٹ کم کرنے کا ایک تیر بہدف نسخہ تو سمجھ رکھا ہے ، لیکن روزہ کا جو مقصود ہے افسوس کہ اکثر مسلمانوں کی نگاہوں سے غائب ہے۔ اﷲ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو روزے کا مقصد حاصل کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین

      ٭٭٭

۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*