مطالعہ کیوں….کیا …. اور کیسے؟

  فاروق اعظم عاجز قاسمی

علم انسان کا امتیاز ہی نہیں؛بلکہ اس کی بنیادی ضرورت بھی ہے، جس کی تکمیل کا واحد ذریعہ مطالعہ ہے، ایک پڑھے لکھے شخص کے لیے معاشرہ کی تعمیر و ترقی کا فریضہ بھی اہم ہے؛ اس لیے مطالعہ ہماری سماجی ضرورت بھی ہے۔ اگرانسان اپنے اسکول و مدرسہ کی تعلیم مکمل کرکے اسی پر اکتفا کرکے بیٹھ جائے تو اس کی فکر و نظر کا دائرہ بالکل تنگ ہوکر رہ جائے گا۔ مطالعہ استعداد کی کنجی اور صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا بہترین آلہ ہے۔ یہ مطالعہ ہی کا کرشمہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اپنی معلومات میں وسعت پیدا کرتا رہتا ہے۔ اور زاویہ فکر ونظر کو وسیع سے وسیع تر کرتا رہتا ہے۔

مطالعہ ایک ایسا دوربین ہے جس کے ذریعے انسان دنیا کے گوشہ گوشہ کو دیکھتا رہتا ہے، مطالعہ ایک طیارے کی مانند ہے جس پرسوار ہوکر ایک مطالعہ کرنے والا دنیا کے چپہ چپہ کی سیر کرتا رہتا ہے اور وہاں کی تعلیمی، تہذیبی، سیاسی اور اقتصادی احوال سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔

عربی کا ایک مشہور محاورہ ہے: ”زمانے کا بہترین دوست کتاب ہے“ اسی کو شورش مرحوم نے اس طرح کہا ہے: ”کتاب سا مخلص دوست کوئی نہیں“۔ اسی طرح ایک مفکر کہتا ہے: ”کتابوں کا مطالعہ انسان کی شخصیت کو ارتقاءکی بلندمنزلوں تک پہنچانے کا اہم ذریعہ، حصول علم ومعلومات کا وسیلہ اور عملی تجرباتی سرمایہ کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے اور ذہن وفکر کو روشنی فراہم کرنے کا معروف ذریعہ ہے۔“۔کتابوں سے جہاں معلومات میں اضافہ اور راہ عمل کی جستجو ہوتی ہے وہیں اس کا مطالعہ ذوق میں بالیدگی، طبیعت میں نشاط، نگاہوں میں تیزی اور ذہن ودماغ کو تازگی بھی بخشتا ہے۔

مطالعہ کن کتابوں کا ہو؟:مطالعہ ایسی کتابوں کاہو جو نگاہوں کو بلند، سخن کو دل نواز اور جاں کو پرسوز بنادے، اگر مطالعہ فکر کی سلامت روی، علم میں گیرائی اور عزائم میں پختگی کے ساتھ ساتھ فرحت بخش اور بہار آفریں بھی ہوتو اسے صحیح معنوں میں مطالعہ کہا جائے گا۔

آج کے اس ترقی پذیر اور مسابقہ کے دور میںجہاںذرائع ابلاغ و ترسیل کی بہتات ہے،اورہرطرح کے اخبارات و رسائل اور کتابوں کی بھی فراوانیاں ہیں‘ ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کن کا مطالعہ کیاجائے اور کن کو چھوڑا جائے؟ اس کا سیدھا سا جواب ممکن نہیں، انتہائی چھان پھٹک کر کتابوں کا انتخاب ہونا چاہیے۔ یہ بات بھی انتہائی ضروری ہے کہ کتاب ایمان سوز اوراخلاق سوز نہ ہو؛ اس لیے کہ مطالعہ ہی کے غلط رخ نے عبدالماجد کو ارتداد کے گڈھے میں دھکیل دیا تھا؛ لیکن بعد میں اسی شخص کے مطالعہ کی سمت جب درست ہوئی تو عبدالماجد مولانا عبدالماجد ہوگئے اور مفسر قرآن اس شخص کے نام کا جزولاینفک بن گیا؛ اسلیے معتبر و مستند مصنّفین ہی کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

اس سلسلے میں اساتذہ کی رہنمائی بھی بڑی کارآمد ہوتی ہے، مفکراسلام مولانا علی میاں ندوی  رحمه الله  فرماتے ہیں: ”مطالعہ وسیع کیجئے! اور اس کے لیے…. ان اساتذہ سے جن سے آپ کا رابطہ ہے، مشورہ لیجئے ….یہ ایک پل صراط ہے اس پر سبک روی اور بہت احتیاط کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے“۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمرص جیسے عظیم شخص کو حضور انے توریت کے مطالعہ سے منع فرمادیا تھا۔

 نعیم صدیقی صاحب رقم طراز ہیں: ”بنیادی طور پر قرآن و حدیث اور ان سے متعلق علوم پر جس حد تک ممکن ہونگاہ ہونی چاہئے… پھر حضور نبی اکرم اکی سیرت اور صحابہ کرام ث کے سیر پر نظر ہونی چاہئے… ضروری ہے مطالعہ کا سفر کرنے والا ہر شخص کم از کم اپنے ملک اوراپنی قوم؛ بلکہ اپنی تہذیب کے ادبیات سے واقف ہو“۔

 جس طرح کتابوں کے انتخاب کا مرحلہ بڑا نازک ہے اسی طرح مطالعہ میں ترتیب کی رعایت بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے، اس لیے مطالعہ کے معیار کو بتدریج بڑھایا جائے، ایسا نہ ہو کہ نورانی قاعدہ تو پڑھی نہیں اور قرآن شریف ہی پڑھنا شروع کردیا۔

طریقہ کار:ایک طرف جہاں کتابوںکا انتخاب بہت ضروری ہے اسی طرح مطالعہ کے طریقہ کار سے بھی واقفیت بہت ہی ضروری ہے؛ اس لیے کہ کسی بھی کام کو اگر اس کے اصول وضابطہ سے کیا جائے تو وہ کارآمد ثابت ہوتا ہے؛ ورنہ نفع تو درکنار نقصان ضرور ہاتھ آتا ہے، فرض کیجئے! آپ کے پاس وقت بھی ہے، کتابیں بھی اچھی ہیں؛ لیکن ذہن پریشان، آنکھوں میں درد اور روشنی بھی مدہم تو آپ مطالعہ نہیں کرسکتے، اگر اسی صورت حال میں مطالعہ کی کوشش کریں گے تو صحت پر اس کا بہت بُرا اثر پڑے گا۔ اس لیے صحت کا خیال بھی بہت ضروری ہے، بطور خاص آنکھوں کا خیال۔یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ اس خیال سے مطالعہ کو ہرگز ترک نہیں کرنا چاہئے کہ یاد نہیں رہتا؛ بلکہ مطالعہ ضرور کرے کہیں نہ کہیں اس کافائدہ ضرور ظاہر ہوتا ہے؛ اس لیے کہ مہندی میں سرخی پتھر پر بار بار گھسنے کے بعد ہی آتی ہے۔ مولانا عبدالسلام خاں لکھتے ہیں: ”مطالعہ جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی جلد محفوظ ہوگا اور تیز ہوگا؛ اس لیے کتب بینی کو سست روی یا یاد نہ رہنے کی وجہ سے ترک نہ کرنا چاہئے۔“

حاصل مطالعہ:مطالعہ کے ساتھ ساتھ حاصل مطالعہ کو ذہن نشین کرنے کی تدبیر بھی ضروری ہے۔ علم ومعلومات کی مثال ایک شکار کی سی ہے؛ لہٰذا اسے فوراً قابو میں کرنا چاہیے۔ امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں: ”علم ایک شکار کی مانند ہے کتابت کے ذریعے اسے قید کرلو“۔ اس لیے مطالعہ کے دوران قلم کاپی لے کر خاص خاص باتوں کو نوٹ کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے؛ ورنہ بعد میں ایک چیز کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور وہ نہیں ملتی ہے۔ اب یا تو سرے سے بات ہی ذہن سے نکل جاتی ہے یا یادتو رہتی ہے لیکن حوالہ دماغ سے غائب ہوجاتا ہے۔ یاد رکھنے کے قابل باتیں ہمیں دوران مطالعہ کتاب کے اہم مقامات پر نشان لگاکر ، کتاب کی پشت پر سادہ اوراق میں اہم نکات نوٹ کرکے یا کاپی پر نوٹ کرکے محفوظ کرلینی چاہیے۔

 حاصل مطالعہ کیسے ذہن نشین ہو یہ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اس سلسلے میں نعیم صدیقی رقم طراز ہیں: ”میری ذہنی ساخت یوں بنی کہ میں حاصل مطالعہ کو دماغ میں ڈال دیتا اور میرے اندراس پر غور و بحث کا ایک سلسلہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھانا کھاتے جاری رہتا یہاں تک کہ اس کا مثبت یا منفی اثر میرے عالم خیال پر رہ جاتا“۔

معلوم ہوا کہ مطالعہ کے بعد حاصل مطالعہ کی بھی بڑی اہمیت ہے؛ ورنہ تو بات لاحاصل ہی رہے گی۔ مطالعہ کے دوران جہاں اچھی کتابوں، خوشگوار فضا، مناسب مقام، موزوں روشنی اور وقت کی تنظیم ضروری ہے وہیں صحت کا بھی خاص خیال رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔

 

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*