مبارک ہو مسلمانو!مہ رمضان آیا ہے

 سیف الرحمن حفظ الرحمن تیمی

saiffatmi@gmail.com

مبارک ہو مسلمانو! مہ رمضان آیا ہے

خدائے پاک کا بھیجا ہوا مہمان آیا ہے

خدا نے مرتبہ کتنا دیا اس ماہ اقدس کو

ہدایت کے لیے اس ماہ میں قرآن آیا ہے

 ایک بارپھر ماہ رمضان، ماہ رضوان وغفران ،ماہ تلاوت قرآن، ماہ رحمت رحمان اور نیکیوں کا سراپا چمنستان ہمارے اوپر جلوہ فگن ہوچکا ہے ،کہ جس کے آتے ہی نیکیوں کا بہار آجاتا ہے ، تقوی وپرہیزگاری ،زہد وقناعت ، خشیت و انابت،عبادت و تلاوت ،شب بیداری و تہجد گزاری ، رب کی اطاعت وتابعداری ،رب کے حضور گناہوں پر شرمندگی اور الحاح وزاری ،باہمی تعلقات میں استواری اور صدقات وخیرات کی مارا ماری کا ایسا سماں بنتا ہے کہ یہ زمین جنت نشان بن جاتا ہے ، انسان کے اندر ملکوتی صفات کے مناظر جھلکنے لگتے ہیں ، ماہ رمضان صبح وشام روحانی ماحول پیش کرتا ہے ،راتوں کی حالت مزید دیدنی ہوتی ہے، بالخصوص قدر کی راتوں میں آسمانی قمقے، ربانی جلوے اور روحانی جلوہ طرازی کی ایسی روح افزا فضا قائم ہوتی ہے کہ ہر لب کا تبسم ہیرا اور ہر آنکھ کا آنسو موتیبن جاتا ہے۔

ماہ رمضان رحمت و مغفرت اور رب کی قربت کا ابر باراں لیے ہمارے سروں پہ سایہ فگن ہے، ہر قلب پریشاں اب شاداں ہے کہ ماہ رمضان مبارک ہر غم وہم سے نجات دلانے اور خالق حقیقی سے رشتہ استوار کرانے کے لیے ہمارے سامنے ہے،اس کے دن ا طاعت الہی سے منور اور رات ذکر الہی سے معطر ہوتے ہیں،کیوں نہ ہو کہ اس ماہ کا ہر دن مرد مومن کے صلوة وصیام سے مشرف ہوتا اور ہر رات تہجدوقیام سے سر فراز ہوتی ہے،صحابی رسول عبداللہ بن مسعود ؓ سے دریافت کیا گیا: آپ لوگ ماہ رمضان کا استقبال کیسے کیا کرتے تھے؟آپ نے جواب دیا ہم میں سے کوئی آدمی یہ جراء ت نہیں کرتا تھا کہ وہ ہلال رمضان کو دیکھے او ر اس کے دل میں اپنے مسلمان بھائی کے تئیں ذرہ برابر بھی حقد وحسد ہو ۔

 

اس ماہ مبارک آتے ہی نارو نیران کے دروازے بند اور بہشت و جنان کے دروازے وا ہوجاتے ہیں، حدیث رسول ہے:” جب ما ہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا، جہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا،شیاطین جکڑ دئے جاتے ہیں، منا دی یہ نداءلگاتا ہے کہ اے خیر کے خواہاں آگے آ، اور اے بدی کے طلب گار باز آجا،اور اس ماہ کی ہر شب کو اللہ (کچھ بندوں ) کو جہنم سے نجات کا پروانہ عطا کر تا ہے۔“

ہماری خوش قسمتی کہیے کہ ہمیں وہ با بر کت ماہ پھر نصیب ہورہا ہے جس کے گزر جانے پر سال گذشتہ ہمیں سخت صدمہ پہنچا تھا، ہم افسردہ و غمگین اور نالاں وحزیں تھے کہ خدا جانے پھر یہ ذریں موقع نصیب ہوپائے یا نہیں۔

چنانچہ اس بار ہمیں اپنی کو تا ہیوں سے دامن جھاڑ کر مکمل عزم کے ساتھ اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم سال رواں اس ماہ غنیمت کو اپنے نیک اعمال کا ذخیرہ بنا ئیں گے یا پھر اس بار بھی بدستور اسے رائیگاں جانے دیں گے اور پھر حسرت و ندامت کرنے پر مجبور ہوں گے۔

رحمت و برکت ، احسان و مغفرت اور انعام و نعمت والے اس مہینہ کی ایک عظیم ترین خصوصیت یہ کہ ہر ماہ کے بالمقابل اس ماہ میں روزہ ایک ایسی مشروع عبادت ہے جس کا ثواب اللہ نے بے حساب دینے کا وعدہ کیا ہے:”الا الصوم فانہ لی و انا اجزی بہ یدع شھوتہ وطعامہ من اجلی“گویا روزہ کا ثواب بے حساب اس لئے ہے کہ انسان روزہ محض اللہ کی خوشنودی اور اسی کی رضا جوئی کے لئے رکھتا ہے ، کھانا پینا تج دیتا ہے، شہوت و عشرت سے باز رہتا ہے اور صرف رضائے الہی کے لئے صبح تا شام بھوک وپیاس کی شدت وحرارت برضا ورغبت برداشت کرتا ہے۔

  اس ما ہ مبارک کے پس منظر میں ہر مسلمان کوافراط و تفریط سے بچتے ہوئے اعتدال و مداومت کی راہ اپناتے ہوئے ہر پل نیکی اور رضا جوئی کے کام میں صرف کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، اور اس راہ میں باہم مسابقت کا جذبہ بھی کار فرما ہونا چاہئے ، اللہ کے اس قول کا یہی مطلوب ہے، ”وفی ذلک فلیتنافس المتنافسون“ باہم سبقت کرنے والوں کو اس راہ میں سبقت کرنا چاہیے۔

حدیث رسول ہے :” بھلائی تو ہمیشہ کرو تاہم رحمت الہی کے حصول کے لئے کوشاں رہو، اس لئے کہ رحمت الہی کے بعض ایسے جھونکے ہیں جن سے اللہ اپنے چنیدہ بندوں کو سرفراز کرتا ہے ،اللہ سے دعا کرو کہ اللہ تیرے گناہوں کی پردہ پوشی کرے اور تمہیں مامون ومحفوظ رکھے۔“

ہم رمضان کا استقبال کرتے ہوئے اپنے دل میں یہ عزم وارادہ رکھیں کہ معاصی سے ہم اجتناب کریںگے، ہر قسم کے گناہوں سے توبہ کر کے دوبارہ ان کے ارتکاب کی جرأ ت نہیں کریں گے ، اس لئے کہ یہ مہینہ ہی توبہ وانابت اور عفو ومغفرت کا مہینہ ہے اگر اس میں بھی ہم تائب نہیں ہوئے تو بھلا توبہ کا اور کون ذریں موقع ہوسکتا ہے : ”وتوبوالی اللہ جمیعا ایھا المؤمنون لعلکم تفلحون“اے مومنوں تم سب ملکر اللہ سے توبہ کروشاید کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔”إن اللہ یحب التوابین ویحب المتطھرین“گویا محبوب الہی بننے کے لئے توبہ وانابت اور قربت وعبادت از بس ضروری ہے ۔

 

مختصر یہ کہ اخلاص نیت کے بعداللہ کی رضا جوئی کی خاطر عبادت و ریاضت،تہجدوتلاوت اور دیگر نیک اعمال وحسنات کے دست بدست مسلمانوں کے ساتھ شرح صدر،بشاشت طبع، خوش روئی اور نرم مزاجی کے ساتھ حسن معاملات کرنا ہے، ان کی ضروریات میں انکا شریک ہونا اور عبادت خالق کے ہمراہ خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہو کر مبارک مہینہ کے مبارک ساعات کو گزار لینا ہی مردمومن کی کامیابی ہے۔

وہ دیکھ چراغوں کے شعلے منزل سے اشارہ کرتے ہیں

تو ہمت ہارے جاتا ہے ہمت کہیں ہارے جاتے ہیں

      ٭٭٭

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*