فرضیت صیام

یشخ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ

يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ، أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَأَن تَصُومُواْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ،شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ (سورة البقرة 183۔185)

ترجمہ: ”اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیاگیاجس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیاتھا،تاکہ تم تقوی اختیار کرو،گنتی کے چند ہی دن ہیں ،لیکن تم میں سے جوشخص بیمار ہویا سفرمیں ہو تووہ اور دنوںمیں گنتی کو پورا کرلے ، اوراس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، پھر جوشخص نیکی میں سبقت کرے وہ اس کے لیے بہتر ہے ،لیکن تمہارے حق میں بہترکام روزے رکھنا ہی ہے اگرتم باعلم ہو۔ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اُتاراگیاجو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اورجس میں ہدایت کی اورحق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں ….“

تشریح:

# صیام صوم (روزہ) مصدرہے جس کے شرعی معنی ہیں : صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اوربیوی سے ہمبستری کرنے سے، صرف اللہ کی عبادت کی نیت سے اسی کی رضا کے لیے رکا رہنا، یہ عبادت چونکہ نفس کی طہارت اورتزکیہ کے لیے بہت اہم ہے، اس لیے اسے تم سے پہلی امتوںپربھی فرض کیاگیاتھا۔ اِس کا سب سے بڑا مقصد تقوی کا حصول ہے اورتقوی انسان کے اخلاق وکردار کو سنوارنے میں بنیادی کردار اداکرتا ہے ۔

# بیمار اور مسافرکو رخصت دی گئی ہے کہ وہ بیماری یا سفرکی وجہ سے رمضان المبارک میں جتنے روزے نہ رکھ سکے ہوں وہ بعد میں رکھ کر گنتی پوری کرلیں ۔

# یطیقونہ کا ترجمہ یتجشمونہ “نہایت مشقت سے روزہ رکھ سکیں” کیا گیا ہے (یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، امام بخاری رحمه الله نے بھی اسے پسند کیا ہے) یعنی جو شخص زیادہ بڑھاپے یا ایسی بیماری کی وجہ سے، جس سے شفایابی کی امید نہ ہو، روزہ رکھنے میں مشقت محسوس کرے، وہ ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے دے، لیکن جمہور مفسرین نے اس کا ترجمہ “طاقت رکھتے ہیں” ہی کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں روزے کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے طاقت رکھنے والوں کو بھی رخصت دے دی گئی تھی کہ اگر وہ روزہ نہ رکھیں تواس کے بدلے ایک مسکین کو کھانا دے دیا کریں- لیکن بعد میں } فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ{ کے ذریعے اُسے منسوخ کرکے ہر صاحب طاقت کے لیے روزہ فرض کردیا گیا، تاہم زیادہ بوڑھے، دائمی مریض کے لیے اب بھی یہی حکم ہے کہ وہ فدیہ دے دیں اور رحاملتہ (حمل والی) اور مرضعتہ (دودھ پلانے والی) عورتیں اگر مشقت محسوس کریں تو وہ مریض کے حکم میں ہوں گی یعنی وہ روزہ نہ رکھیں اور بعد میں روزے کی قضا دیں۔ (تحفة الاحوذی شرح ترمذی)

# جوخوشی سے ایک مسکین کی بجائے دو یاتین مسکینوںکو کھانا کھلادے تو اس کے لیے زیادہ بہترہے

# رمضان میں نزولِ قرآن کا یہ مطلب نہیں کہ مکمل قرآن کسی ایک رمضان میں نازل ہوگیا بلکہ یہ ہے کہ رمضان کی شبِ قدرمیں لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیاپر اُتاردیاگیا اوروہاں بیت العزة میں رکھ دیاگیا ۔ وہاں سے حسبِ حالات 23سالوں تک اُترتا رہا (ابن کثیر)

 اس لیے یہ کہنا کہ قرآن‘ رمضان میں یا لیلة القدریالیلہ مبارکہ میں اُترا۔ یہ سب صحیح ہے کیونکہ لوح محفوظ سے تورمضان میں ہی اُترا ہے اورلیلة القدراورلیلہ مبارکہ یہ ایک ہی رات ہے ،یعنی قدرکی رات جو رمضان میں ہی آتی ہے ۔بعض کے نزدیک اس کا مفہوم یہ بھی ہے کہ نبی ا کی طرف بھی رمضان ہی میں نزولِ قرآن کا آغاز ہوا اورپہلی وحی جو غارِحرامیںآئی وہ رمضان میں آئی ۔ بہرصورت قرآن مجید اوررمضان المبارک کا آپس میںنہایت گہرا تعلق ہے ۔اسی وجہ سے نبی کریم ا اس ماہ مبارک میں حضرت جبریل ںسے قرآن کا دورہ کیاکرتے تھے اورجس سال آپ کی وفات ہوئی آپ نے رمضان میں جبریل ں کے ساتھ دومرتبہ دورہ کیا ۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*