وقت کی قدر

وقت کی قدر

توفیق ایک چھوٹا سا لڑکا تھا ، اچھے خاصے گھر میں رہتا تھا اسے گھر کے افراد بہت چاہتے تھے، پڑوس کے لوگ بھی اس سے حد سے زیادہ پیار کرتے تھے،لیکن تھا وہ وقت کو برباد کرنے والا ….گھر سے نکلتا سکول کے لیے اور راستے میں ادھر ادھر کھیلنے لگتا ، جب گھر کے افراد اور ٹولہ محلہ کے لوگوں کوتوفیق کی عادت معلوم ہوگئی تو اس سے سب کا پیار کم ہونے لگا …. کئی بار امتحان میں بھی وہ فیل ہوگیا ۔
ایک دن وہ سکول سے گھر جارہا تھا کہ راستے میں اسے احساس ہوا کہ آخر احمد سے سارے بچے کیوں محبت کرتے ہیں، استاد بھی اس کو زیادہ کیوں چاہتا ہے ، اس کے امی ابو بھی اس سے بہت پیار کرتے ہیں …. اسی لیے نا کہ وہ محنت سے پڑھتا ہے ، اچھے نمبرات حاصل کرتا ہے …. آج سے میرا وعدہ ہے کہ میں بھی وقت کی پابندی کروں گا ، وقت پر سکول    جا ؤں گا،محنت سے پڑھوں گا اور اول درجہ حاصل کروں گا ۔
ایک سال ایک چٹکی کی طرح بیت گیا ،توفیق سدھر چکا تھا ، محنت سے پڑھتا تھا اس لیے اس کے سارے امتحانات ٹھیک سے گزرے ، وہ او ل درجہ پر ہی آیا ۔
بچو! آپ بھی وقت کی قدر کرو، بڑے لوگوں کی کامیابی کا رازیہی ہے کہ وہ وقت کی قدر کرتے تھے ،تو آو ¿ اور عہد کرو کہ ع    دل سے ہر کام کروں گا سمئے نہ کچھ برباد کروں گا ۔
m4s0n501

أضف تعليقك