تذکرة النبی

ہرایک بزم حسیں میں خوب ترکی بات کرتا ہوں
ادب سے خوبیوںکے تاجورکی بات کرتا ہوں
سنواری شانہ فطرت کی جس نے زلف ژولیدہ
دیارِحسن میں اس دیدہ ورکی بات کرتا ہوں
ضلالت کی شب تاریک میں جس سے مچی ہلچل
حق افروز ایسے خورشیدسحر کی بات کرتا ہوں
ہے سرگرم عمل ہردم سعادت جس کی راہوںپر
گزرتا ہوںجدھر اُس راہبر کی بات کرتا ہوں
پسینہ جس کا بہترتھا گلاب ومشک وعنبر سے
رسول پاک خو‘ والا گہر کی بات کرتا ہوں
پڑھا کلمہ شجر نے جس کے ارشادگرامی پر
خدا کے اس حسیں پیغامبر کی بات کرتا ہوں
سناو¿ںکیا مہ ومریخ تک جانے کے افسانے
خرد کی بزم میں شق القمر کی بات کرتا ہوں
ہوابازوں،خلابازوںکی سیاحی میں ندرت کیا
شب معراج کے سیروسفرکی بات کرتا ہوں
جہازوں،راکٹوں کی سرعتِ پرواز کیا سوچوں؟
براق ورفرف وذوق نظر کی بات کرتا ہوں
نہ پوچھوبات حیرت کی گھٹا چھائی ہے رحمت کی
محمد مصطفی خیرالبشر کی بات کرتا ہوں
حیرت بستوی

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*