ایک تا زہ غزل

د ور وطن سے کرتا ہوں د ن بھرمزد وری اپنوں کی
لیکن خون رلا د یتی ہے رات کو د وری ‘ اپنوں کی
خود ہی رخصت کرتے ہیں وہ خود ہی پاس بلاتے ہیں
اک مجبوری گھر داری کی اک مجبوری اپنوں کی
اپنے ہاتھوں ہانڈی روٹی کرتے ہوے یاد آتی ہے
د یسی گھی اور شکر والی میٹھی چوری اپنوں کی
ہم پرد یسی لوگ توکاشف ایک ہی دھن میں رہتے ہیں
جیسے تیسے ہو جاے ہر خواہش پوری اپنوں کی
کاشف کمال، کویت

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*