عید ملن مشاعرہ

جمعیت ابنائے قدیم جامعہ دار السلام عمرآباد ،شاخ کویت کا عید ملن مشاعرہ
اردوادب کی ترویج واشاعت میں مشاعروں کا اہم رول ہے : محمد ہوشدار خان
رپورٹ : محمد خالد اعظمی

جمعیت ابنائے قدیم جامعہ دار السلام عمرآباد۔شاخ کویت کے زیراہتمام لجنة التعریف بالاسلام شاخ خیطان کے ہال میں ایک خوبصورت مشاعرہ منعقد ہوا، جس میں فارغین جامعہ کے علاوہ کویت کے مشہور شعرائے کرام نے شرکت کی ، پروگرام کا آغاز جناب عبد اللہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔جناب فاروق خان نے حمد اور برادر ریاض نے نعت اچھی آواز میں پڑھ کرسامعین کادل جیت لیا، مولانا ثناءاللہ عمری نے کویت میں جمعیت کی تاسیس سے اب تک کا سفر اور مولاناسید عبدالسلام عمری سکریٹری جمعیت نے جامعہ دار السلام ماضی سے حال تک کا تعارف بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ مشاعرہ آپسی تال میل کا بہت ہی بہترین ذریعہ ہے جس کی ہلکی سی جھلک ہمیں اس مشاعرہ میں ملی جس کا اعتراف تمام شرکائے مشاعرہ نے کیا ۔عام طور پر دیکھنے میں آتاہے کہ سامعین شعراءکے کلام سے گھبرا کر اٹھنا شروع کردیتے ہیں لیکن اس مشاعرہ کا انداز ہی نرالاتھاکہ سامعین سننے کے لیے بیقرار ہیں اور شعراءپریشان ہیں کہ کس طرح مشاعرہ سے گھرروانہ ہوں۔
مشاعرہ کے مہمان ذی وقار جناب محمدہوشدارخان نے فرمایا کہ اردوادب کی ترویج واشاعت میں مشاعروں کا اہم رول ہے،اتنے اچھے مشاعرہ میں اپنی شرکت کوباعث فخرسمجھتاہوں،پھرآپ نے مشاعرہ منعقد کرنے والوں کا شکریہ اداکیا اورآئندہ کے مشاعروں میںشرکت کا وعدہ بھی کیا، جبکہ لجنة التعریف بالاسلام خیطان کے مدیر حمدان النبہان نے کہاکہ جمعیت ابنائے قدیم جامعہ دار السلام عمرآباد کے منتظمین ، شعراء، اور سامعین کو دیکھ کو دل خوشی سے ابل اٹھا کہ ہماری آفس میں کویت کے چیدہ چیدہ لوگ حاضر ہوئے، انہوں نے کہاکہ آئندہ اگراس سے بڑا بھی مشاعرہ ہوا تو میرا اس میں ہرطرح کا تعاون رہے گا۔
مولاناشیخ عبد السلام عمری صدرجمعیت ابنائے قدیم نے تمام شرکاءکا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، اپنے صدارتی کلمات میں جناب مولانا یونس عمری انجم نے عنقریب پروقارمشاعرہ کے انعقاد کا عندیہ دیا ۔ سامعین، شعرائے کرام اور تمام ذمہ داروںکادل کی گہرائیوں سے اظہار تشکراداکیا۔ مشاعرہ کی کاروائی محمد خالد اعظمی نے چلائی مشاعرہ کے کچھ پسندیدہ اشعار قارئین مصباح کے لیے پیش خدمت ہیں:

سنائیں شہر میں کس کو صداقت اپنے شعروں کی
صدائیں تیز تھیں لیکن وہاں کے لوگ بہرے تھے
صابر کاسیگر
دیکھ کر رکھ نظر قدم ان پر
یہ زمین ا پنی آسما ں اپنا
نظر کڈپوی
دل کی بستی ہے مری شہر خموشاں کی طرح
اب تو تنہائی میں تہوار گزرجاتاہے
افروزعالم
وہ چھوٹ جائے گاجرم کرے
مگر میں سچا بیان دونگا
طارق محمود
اجاڑی جاتی ہے بستی امیروں کے اشاروں پر
یہ منظر دیکھ کر ہر دم میرے آنسو نکلتے ہیں
ابراہیم سنگی راجہ
اس جہاں غم واندوہ میں بھی
مسکرانا بھی آزمائش ہے
عماد بخاری
تلاش کرتی ہے ہرسمت اس کو میری نگاہ
ہے دل میں جلوہ نما لا الہ الا اللہ
اقبال سعیدی
اے اہل ستم اہل جفاکیا تونے کبھی سوچا
یہ درد جودیتاہے ہمیں کیا تونے کبھی سوچا
ثناءاللہ عمری

اس موقع پر جناب شیخ فیض اللہ مدنی ،شیخ عبدالحفیظ مدنی ، سید شبیہ گیاوی ، شیخ عارف جامعی ، شیخ حبیب الرحمن جامعی ،شیخ مستان ، سید عزیز قادری کے علاوہ بڑی تعداد میں مشاعرہ کے شائقین موجودتھے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*