عبادت

عبادت کے معنی دراصل بندگی کے ہیں۔ آپ عبد (بندہ) ہیں اور اللہ آپ کا معبود ہے۔ عبد اپنے معبود کی اطاعت میںجو کچھ کرے وہ عبادت ہے۔ مثلاًآپ لوگوں سے باتیں کرتے ہیں۔ ان باتوں کے دوران میں اگر آپ نے جھوٹ سے، غیبت سے، فحش گوئی سے اس لیے پرہیز کیا کہ اللہ نے ان چیزوں سے منع کیا ہے اور ہمیشہ سچائی، انصاف، نیکی اور پاکیزگی کی باتیں کیں، اس لیے کہ اللہ ان کو پسند کرتا ہے۔ تو آپ کی یہ سب باتیں عبادت ہوں گی۔ خواہ وہ سب دنیا کے معاملات ہی میں کیوں نہ ہوں۔ آپ لوگوں سے لین دین کرتے ہیں۔ بازار میں خرید و فروخت کرتے ہیں۔ اپنے گھر میں ماں باپ اور بھائی بہنوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ اپنے دوستوں اور عزیزوں سے ملتے جلتے ہیں اگر اپنی زندگی کے ان سارے معاملات میں آپ اللہ کے احکام کو اور اس کے قوانین کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ ہر ایک کے حقوق ادا کرتے ہیں یہ سمجھ کر کہ اللہ نے حکم دیا ہے اور کسی کی حق تلفی نہ کی، یہ سمجھ کر کہ اللہ نے اس سے روکا ہے تو گویا آپ کی یہ زندگی اللہ کی عبادت ہی میں گذری۔ آپ نے کسی غریب کی مدد کی، کسی بھوکے کو کھانا کھلایا یا کسی بیمار کی خدمت کی اور ان سب کاموں میں آپ نے اپنے کسی ذاتی فائدے یا عزت یا ناموری کو نہیں بلکہ اللہ کی خوشنودی کو پیشِ نظر رکھا تو یہ سب کچھ عباد ت میں شمار ہوگا۔ غرضیکہ دنیا کی زندگی میں ہر وقت ہر معاملہ میں اللہ سے خوف کرنا، اس کی خوشنودی کو پیشِ نظر رکھنا، اس کے قانون کی پیروی کرنا، ہر ایسے فائدے کو ٹھکرا دینا جو اسکی نافرمانی سے حاصل ہوتا ہو اور ہر ایسے نقصان کو گوارا کرلینا جو اسکی فرمانبرداری میں پہنچے یا پہنچنے کا خوف ہو۔ یہ اللہ کی عبادت ہے اس طریقہ کی زندگی سراسر عبادت ہی عبادت ہے حتی کہ ایسی زندگی میں کھانا ، پینا، چلنا، سونا ، جاگنا، بات چیت کرنا سب کچھ عبادت میں داخل ہے۔
عبادت تین چیزوں پر مشتمل ہے۔ ایک آقا کی وفاداری، دوسرے آقا کی اطاعت اور تیسرے اس کا ادب اور اسکی تعظیم۔ اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون(سورة الذاریات 56) جس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے جن اور انسان کو اس کے سوا اور کسی غرض کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہماری پیدائش اور زندگی کا مقصد اللہ کی عبادت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اور ہم ہر حال میں اللہ سے وفاداری ، اس کی اطاعت اور پرستش کریں۔ عبادت کا یہ مطلب ذہن میں رکھتے ہوئے ذرا ان سوالات کا جواب دیں:
آپ اس نوکر کے متعلق کیا کہیں گے جو آقا کی مقرر کی ہوئی ڈیوٹی پر جانے کی بجائے ہر وقت بس اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا رہے اور لاکھوں مرتبہ اس کا نام جپتا رہے؟ آقا اس سے کہتا ہے کہ جا کر فلاں فلاں آدمیوں کے حق ادا کرو مگر یہ جاتا نہیں بلکہ وہیں کھڑے کھڑے آقا کو جھک جھک کر دس سلام کرتا ہے۔ اور پھر ہاتھ باندھ کرکھڑا ہوجاتا ہے۔ آقا اسے حکم دیتا ہے کہ جا اور فلاں فلاں خرابیوں کو مٹا دے مگر یہ ایک انچ وہاں سے نہیں ہٹتا اور سجدے پر سجدے کئے چلا جاتا ہے۔ آقا حکم دیتا ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دو وہ یہ بات بیسوں مرتبہ پڑھتا ہے مگر ایک دفعہ بھی اس نظام کے قیام کی کوشش نہیں کرتا۔ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخص حقیقت میں آقا کی بندگی کررہا ہے؟ اگر آپ کا کوئی ملازم یہ رویہ اختیار کرے تو میں جانتا ہوں کہ آپ اسے کیا کہیں گے ۔ مگر حیرت ہے کہ اللہ کا جو نوکر ایسا کرتا ہے ہم اسے بڑا عبادت گذار سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیسا زاہد و عابد ہے۔ یہ غلط فہمی صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم عبادت کا صحیح مطلب نہیں جانتے۔
ایک نوکر ہے جو رات دن ڈیوٹی تو غیروں کی انجام دیتا ہے۔ احکام غیروں کے سنتا اور مانتا ہے۔ قانون پر غیروں کے عمل کرتا ہے اور اپنے اصلی آقا کے فرمان کی ہر وقت خلاف وزری کیا کرتا ہے۔ مگر سلامی کے وقت آقا کے سامنے حاضر ہو جاتا ہے۔ اور زبان سے آقا ہی کا نام جپتا رہتا ہے۔ اگر ہم میں سے کسی کا ملازم یہ طریقہ اختیار کرے تو ہم کیا کریں گے؟…. ہم اس کی سلامی کو اس کے منہ پر مار دیں گے۔ مگر کیسی حیرت کی بات ہے کہ جو لوگ رات دن اللہ کے قانون کو توڑتے ہیں کفار اور مشرکین کے طریقوں پر چلتے ہیں ۔ ان کے بنائے ہوئے اصولوں اور قوانین پر مطمئن زندگی گزارتے ہیں ۔ ان کی نماز، روزے اور تسبیح اور تلاوتِ قرآن ، حج وزکوٰة کو عبادت سمجھا جاتا ہے ۔یہ غلط فہمی بھی اسی وجہ سے ہے کہ ہم عبادت کے اصل مطلب و معنی سے نا واقف ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہاتھ باندھ کر قبلہ رو کھڑے ہونا، گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھکنا، زمین پر ہاتھ ٹیک کر سجدہ کرنا اور چند مقررہ الفاظ زبان سے ادا کرنا بس یہی چند افعال اور حرکات عبادت ہیں۔ غرضیکہ جب کوئی شخص ان چند افعال کو ظاہری شکلوں کے ساتھ ادا کرتا ہے تو ہم خیال کرتے ہیں کہ اس نے اللہ کی عبادت کی اور وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون کا مقصد پورا ہوگیا۔ اب وہ اپنی باقی زندگی اور اس کے معاملات میں بالکل آزاد ہے جس طرح چاہے گذارے۔ (جاری ہے )
(اقتباس: خطبات۔ سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*