حدیثِ معاذ بن جبل ص کیا صحیح سندوں سے مروی حدیث ہے ؟

شیخ عبدالرووف بن عبدالحنان حفظہ اللہ نے ماہنامہ مصباح کے کالم ”صدائے عرش“کے تحت چھپے ایک مضمون میںواردحدیث ’حدیث معاذ‘ پراستدراک فرمایااور تفصیل سے اس کاحکم قلمبندکرکے ہمیںارسال کیاہے،ذیل کے سطورمیں ہم یہ استدراک پیش کرتے ہوئے شیخ موصوف کے شکرگذار ہیں اورآئندہ بھی ہم ان کے اور دیگر قارئین کے استدراک کا خیرمقدم کریں گے ۔(ادارہ)

ماہنامہ مصباح شمارہ 41جون 2012ءبمطابق رجب شعبان1433ھ میںتقریباً دوہفتہ قبل ایک کالم بعنوان ”رسول اللہ ا کا فیصلہ حرف آخر ہے“نظر سے گذرا ۔ اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ ا کا فیصلہ حرف آخر ہے ،جس طرح آپ کا فیصلہ حرف آخر ہے اسی طرح آپ کے فیصلے کو قبول کرنا بھی ہر مسلمان کا فرض ہے ۔
اللہ عزوجل کا فرمان ہے :(ترجمہ)”تمہا رے رب کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک ایمان والے نہیں بن سکتے جب تک اپنے اختلافات میںآپ کو حکم تسلیم نہ کرلیں، پھر آپ جو فیصلہ صادر کریںاس کے بارے میں اپنے دلوںمیں کسی قسم کی تنگی بھی محسوس نہ کریں اوراس کے سامنے پوری طرح سرتسلیم خم نہ کریں ۔ “
مذکورہ کالم میں جو بات قابل ملاحظہ ہے وہ یہ کہ فاضل کالم نگار نے اس میں حدیثِ معاذ بن جبل ص جس میں ہے کہ رسول اللہ ا جب ان کو یمن کا حاکم بناکر بھیج رہے تھے تو پوچھا کہ تم کس چیز کے مطابق فیصلے کرو گے ….الی آخر الحدیث کے بارے میں کہا ہے کہ”مسند احمد، ابوداو¿د، ترمذی اورابن ماجہ میں یہ روایت صحیح سندوںکے ساتھ منقول ہے “
فاضل کالم نگار کے اس کلام پر درج ذیل ملاحظات ہیں :
و¿¿ انہوںنے اس حدیث کوابن ماجہ کی طرف بھی منسوب کیا ہے جبکہ جس سیاق سے انہوںنے اس حدیث کو ذکر کیا ہے اس سیاق سے یہ حدیث ابن ماجہ میں نہیں ہے بلکہ اس میں اس سیاق سے ہے : لا تقضین ولا تفصلن الا بما تعلم ، وان ا¿شکل علیک ا¿مر فقف حتی تبینہ ا¿وتکتب الی فیہ (ابن ماجہ حدیث 55، المقدمة)
یعنی اسی چیز کے بارے میں فیصلہ کروجس کا تم کو علم ہو اوراگر کسی چیز کے بارے میں کوئی اشکال ہوتو توقف اختیار کرو،یہاں تک کہ وہ تمہارے لےے واضح ہوجائے یا اس کے بارے میں مجھے لکھو “۔
یہ ہے ابن ماجہ کا سیاق اور اس کی سندانتہائی ضعیف ہے ،اس میں ایک راوی محمدبن سعید بن حسان المصلوب ہے ، حافظ ابن حجر نے تقریب میں اس کے بارے میں کہا ہے : ”کذبوہ “محدثین نے اس کو کذاب کہا ہے ۔ امام بوصیری اس سند کے بارے میں لکھتے ہیں : ھذا اسناد ضعیف محمدبن سعید ھو المصلوب اتھم بوضع الحدیث مصباح الزجاجةفی زوائد ابن ماجہ (حدیث20) ”یہ سند ضعیف ہے ،محمد بن سعید جوکہ مصلوب کے لقب سے مشہور ہے اس پر احادیث گھڑنے کی تہمت لگائی گئی ہے “۔
و¿¿ ان کا یہ کہنا کہ مسند احمد ،ابوداو¿د اورترمذی میں یہ روایت صحیح سندوں کے ساتھ منقول ہے دواعتبار سے محل نظر ہے :
الف: ان کتب میں اس کی ایک ہی سند ہے اوروہ ہے شعبہ بن حجاج کی سند ۔
ب: مسند احمد، ابوداو¿د،اورترمذی کی ایک روایت میں بعض راویوںنے اس حدیث کوشعبہ سے مرسل سند سے روایت کیا ہے اورمرسل سند ضعیف ہوتی ہے۔ اسی طرح شعبہ کے علاوہ ابواسحاق شیبانی کی سند سے بھی یہ حدیث مرسلاً ہی آئی ہے بلکہ معضل سند سے آئی ہے ( مرسل اس حدیث کو کہاجاتا ہے جس کو تابعی صحابی کے واسطے کے بغیر روایت کرے ۔اورمعضل اس سند کو کہاجاتا ہے جس میں دو راوی حذف ہوجائیں ۔
) اوراس سند سے اس کو ابن ابی شیبہ نے مصنف (4/543/22989)میں اورابن حزم نے الاحکام (6/35) میں روایت کیاہے ۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے ’احادیث ضعیفہ ‘(حدیث881) میں اس حدیث کی مفصل تخریج کی ہے مگر شیبانی والی سند ان پر مخفی رہی ہے ،اس سند کا ذکر راقم نے ”روضة الناظر“لابن قدامہ “(2/338/259) کی تخریج میں کیاہے جو شرکہ غراس کویت میں زیرطبع ہے ۔
بعض علماءاگرچہ اس حدیث کے ثبوت کی طرف گئے ہیں لیکن دلائل کے اعتبار سے درست یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے ، کبارائمہ ومحدثین نے اس کوضعیف کہا ہے ان کا ذکر ہم خوف طوالت کے باعث احادیث ضعیفہ کے حوالے سے کرتے ہیں : 1۔ بخاری 2۔ ترمذی 3۔ عقیلی 4۔ دارقطنی 5۔ ابن حزم 6۔ ابن طاہر 7۔ ابن جوزی 8۔ ذہبی 9۔ سبکی 10۔ ابن حجر (ملاحظہ ہو احادیث ضعیفہ2/285)
قلت : اما عبدالحق اشبیلی (متوفی ۲۸۵ھ) نے بھی اس حدیث کو ضعیف کہا ہے ،چنانچہ وہ الاحکام الوسطی (3/342) میں لکھتے ہیں : ھذا الحدیث لایسند ،ولایوجد من وجہ یصح ”یہ حدیث مسند نہیں ۔یعنی مرسل ہے ۔اورنہ یہ صحیح سند سے پائی جاتی ہے “۔
اس حدیث کی سند سے قطع نظر اس پر معنوی اعتبار سے بھی کلام کیاگیا ہے وہ یہ کہ یہ حدیث کتاب وسنت میں تفریق کرتی ہے جبکہ واجب یہ ہے کہ بیک وقت کسی مسئلہ کو کتاب وسنت دونوں میں دیکھا جائے ،کیونکہ سنت قرآن کی تفسیر ہے ،اس کے لیے سورہ نحل کی آیت (44) اورسورہ قیامہ کی آیت (18۔19) کودیکھاجائے ۔

(تحریر:ابوعبدالسلام عبدالرووف بن عبدالحنان ۔کویت)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*