اسلام پر غیرمسلموں کے اعتراضات اوران کے جوابات

ڈاکٹر ذاکرعبدالکریم نائک

اسلام اورمسلمانوں کے عمل میں واضح فرق 
سوال:اگر اسلام بہترین مذہب ہے تو بہت سے مسلمان بے ایمان کیوں ہیں اوردھوکے بازی ، رشوت اور منشیات فروشی میں کیوں ملوث ہیں ؟
جواب:اسلام بلاشبہ بہترین مذہب ہے لیکن میڈیا مغرب کے ہاتھ میں ہے جو اسلام سے خوفزدہ ہے ۔ میڈیا مسلسل اسلام کے خلاف خبریں نشر کرتاہے اور غلط معلومات پہنچاتا ہے، وہ اسلام کے بارے میں غلط تاثر پیش کرتا ہے ،غلط حوالے دیتا ہے اورواقعات کو بڑھا چڑھاکر بیان کرتا ہے۔جب کسی جگہ کوئی بم پھٹتا ہے تو بغیر کسی ثبوت کے سب سے پہلے مسلمانوںپر الزام لگادیاجاتا ہے ، وہ الزام خبروںمیں سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے ۔لیکن بعد میں جب یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کے ذمہ دار غیرمسلم تھے تو یہ ایک غیراہم اور غیرنمایاں خبربن کر رہ جاتی ہے، اسی طرح اگر کوئی پچاس برس کا مسلمان کسی پندرہ سالہ لڑکی سے اس کی اجازت سے شادی کرتا ہے تو مغربی اخبارات میں وہ پہلے صفحے کی خبر بنتی ہے ۔ لیکن جب کوئی پچاس سالہ غیرمسلم ۶سالہ لڑکی کی عصمت دری کرتا ہے تو یہ سانحہ اندر کے صفحات میں ایک معمولی سی خبر کے طورپر شائع ہوتا ہے ۔مریکہ میں روزانہ عصمت دری کے 2713واقعات پیش آتے ہیں لیکن یہ خبروںمیں جگہ نہیں پاتے کیونکہ یہ امریکیوں کی طرززندگی کا ایک حصہ ہے ۔

ہرمعاشرے میں ناکارہ لوگ ہوتے ہیں:
میںاس بات سے باخبر ہوںکہ ایسے مسلمان یقیناً موجود ہیں جو دیانتدار نہیں اوردھوکے بازی اور دوسری مجرمانہ سرگرمیوںمیں ملوث ہیں ۔ لیکن میڈیایہ ثابت کرتا ہے کہ صرف مسلمان ہی ان کا ارتکاب کرتے ہیں ،حالانکہ ایسے افراد اورجرائم دنیاکے ہرملک اورہر معاشرے میں ہوتے ہیں اورمیں یہ بھی جانتا ہوں کہ بہت سے مسلمان بلانوش ہیں اورغیرمسلموںکے ساتھ مل کر شراب نوشی کرتے ہیں ۔

مسلم معاشرے کی مجموعی حالت بہتر ہے ۔
اگرچہ مسلمان معاشرے میں بھی کالی بھیڑیں موجودہیں مگر مجموعی طورپر مسلمانوںکا معاشرہ دنیاکا بہترین معاشرہ ہے ،ہمارا معاشرہ دنیا کا وہ سب سے بڑا معاشرہ ہے جو شراب نوشی کے خلاف ہے، ہمارے ہاں عام مسلمان شراب نہیں پیتے ۔ مجموعی طورپر ہمارا ہی معاشرہ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرتا ہے اور جہاں تک حیا ، متانت ،انسانی اقدار اور اخلاقیات کا تعلق ہے دنیا کا کوئی معاشرہ ان کی مثال پیش نہیں کرسکتا ۔ بوسنیا،عراق اورافغانستان میں مسلمان قیدیوںسے عیسائیوںکا سلوک اوربرطانوی صحافی کے ساتھ طالبان کے برتاو¿ میں واضح فرق صاف ظاہر ہوتا ہے ۔

کارکو ڈرائیور سے نہ پرکھئے :
اگرآپ جاننا چاہیں کہ مرسیڈیز کار کا نیاماڈل کیسا ہے اورایک ایسا شخص جو ڈرائیونگ نہیں جانتا سٹیرنگ پربیٹھ جائے اورگاڑی کہیں دے مارے توآپ کس کو الزام دیں گے ؟ کار کو یا ڈرائیورکو ؟ فطری بات ہے کہ آپ ڈرائیورکو الزام دیں گے ۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ کار کتنی اچھی ہے، ڈرائیورکو نہیں بلکہ کارکی صلاحیت اوراس کے مختلف پہلوو¿ں کو دیکھنا چاہیے کہ یہ کتنی تیز چلتی ہے ،ایندھن کتنا استعمال کرتی ہے ،کتنی محفوظ ہے وغیرہ وغیرہ ۔
اسی طرح اگر یہ بات محض دلیل کے طورپر مان بھی لی جائے کہ مسلمان خراب ہیں توبھی ہم اسلام کو اس کے پیروکاروںسے نہیں جانچ سکتے ۔ اگر آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اسلام کتنااچھاہے تو اسے اس کے مستند ذرائع سے پرکھیں ۔یعنی قرآن مجید اورصحیح احادیث سے !

اسلام کو محمد صلى الله عليه وسلم کی ذات گرامی سے پرکھیں :
اگر آپ عملی طورپر دیکھنا چاہیں کہ کار کتنی اچھی ہے تو اس کے سٹیرنگ وہیل پر کسی ماہر ڈرائیورکو بٹھائیں ،اسی طرح یہ دیکھنے کے لیے کہ اسلام کتنا اچھا دین ہے تواس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے آخری پیغمبر محمد ا کو سامنے رکھ کر دیکھیں ۔ مسلمانوںکے علاوہ بہت سے دیانتدار اور غیرمتعصب غیرمسلم مو¿رخوںنے علانیہ کہا ہے کہ حضرت محمد ا بہترین انسان تھے ۔ مائیکل ایچ ہارٹ نے ”تاریخ پر اثرانداز ہونے والے” سو انسان “کے عنوان سے کتاب لکھی جس میں سرفہرست پیغمبراسلام محمدا کا اسم گرامی ہے ۔ غیرمسلموںکی اوربہت سی مثالیں ہیں جن میں انہوںنے نبی ا کی بہت زیادہ تعریف کی ہے ، مثلاً تھامس کارلائل ،لامارٹن وغیرہ ۔

اسلام میں ذبح کرنے کا طریقہ ظالمانہ ہے

سوال:مسلمان جانوروں کو ظالمانہ طریقے سے دھیرے دھیرے کیوں ذبح کرتے ہیں ؟
جواب:جانورذبح کرنے کا اسلامی طریقہ ”ذبیحہ “ غیرمسلموں کی اکثریت کے نزدیک تنقید کا باعث ہے ۔ اگر کوئی مندرجہ ذیل نکات کو سمجھ لے تو وہ جان سکتا ہے کہ ذبح کرنے کا یہ طریقہ نہ صرف رحمدلانہ ہے بلکہ سائنسی لحاظ سے بھی بہترین ہے ۔

ذبح کرنے کا اسلامی طریقہ :
اسلامی طریقے سے جانورذبح کرنے کے لیے مندرجہ ذیل شرائط کا خیال رکھناچاہیے :
جانورکو تیز دھارچاقو یاچھری سے تیزی سے ذبح کرنا چاہیے تاکہ جانورکو کم سے کم تکلیف ہو۔
ذبیحہ عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے : ”ذبح کیاگیا“ جانورکو ذبح کرنے کا عمل اس کا گلا ،سانس کی نالی اورگردن میں موجودخون کی نلیاں کاٹ کر انجام دینا چاہیے ۔
سراُتارنے سے پہلے خون کو مکمل طورپر بہہ جانے دینا چاہیے ۔ خون کی بیشتر مقدار نکالنے کی وجہ یہ ہے کہ خون میں جراثیم نشوونما پاسکتے ہیں ۔ حرام مغز کو نہیں کاٹنا چاہیے کیونکہ دل کو جانے والے اعصاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے اوریوں دل کی دھڑکن رک جانے کی وجہ سے خون مختلف نالیوںمیں منجمدہوجاتا ہے ۔

خون میں جراثیم اوربیکٹیریا :
خون مختلف قسم کے جراثیم ،بیکٹیریا اور زہروں (Toxins) کی منتقلی کا ذریعہ ہے ،اس لیے مسلمانوںکے ذبح کرنے کا طریقہ زیادہ صحتمند اورمحفوظ ہے کیونکہ خون میں تمام قسم کے جراثیم ہوتے ہیں جو مختلف بیماریوں کا باعث بنتے ہیں ،لہذا زیادہ سے زیادہ خون جسم سے نکل جانے دینا چاہیے۔
ذبیحہ گوشت کی تازگی :جانور اسلامی طریقے سے ذبح کیاجائے توخون کے ممکنہ حد تک شریانوںسے نکل جانے کی بدولت گوشت ذبح کرنے کے دوسرے طریقوںکی نسبت زیادہ دیر تک تازہ رہتا ہے
جانورکو تکلیف نہیں ہوتی :گردن کی شریانیں تیزی کے ساتھ کاٹنے سے دماغ کے عصب (Nerve ) کی طرف خون کا بہاو رک جاتا ہے جو احساسِ درد کا ذمہ دار ہے ۔ یوں جانورکو درد محسوس نہیں ہوتا ۔ جانور جب مرتے وقت تڑپتا ہے یا ٹانگیں ہلاتا اورمارتا ہے تو یہ درد کی وجہ سے نہیں بلکہ خون کی کمی کے باعث عضلات کے پھیلنے اورسکڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے اور خون کی کمی کا سبب خون کا جسم سے باہر کی طرف بہاو¿ ہوتا ہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*