خوشگوارزندگی کے رہنما اصول (4)

 ڈاکٹر حافظ محمداسحاق زاہد (کویت )
hmishaq68@gmail.com

شکر

کامیاب وخوشحال زندگی کے حصول اور پریشانیوں سے نجات کا ساتواں اصول ہے اللہ تعالی کی بے شمار وان گنت نعمتوں پر شکر گذار ہونا کیونکہ جب ہم اس کی نعمتوں پر شکربجا لائیں گے تو اللہ تعالی ہمیں اور زیادہ نعمتوں سے نوازے گا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے :
” اور یاد رکھو ! تمھارے رب نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکر گذار بنو گے تو میں تمھیں اور زیادہ نوازوں گا ۔ اور اگر ناشکری کروگے تو پھر میری سزا بھی بہت سخت ہے ۔ “ [ ابراہیم : 7]
اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے شکر گذار بندوں کو اور زیادہ نعمتوں سے نوازنے کا وعدہ فرمایا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر موجودہ نعمتوں پر اللہ تعالی کا شکریہ ادا کیا جائے اور انہیں اس کی اطاعت میں کھپایا جائے تو نہ صرف وہ نعمتیں بحال رہتی ہیں بلکہ اللہ تعالی مزید نعمتیں عطا کرتا ہے اور اپنے شکرگذار بندوں کی زندگی کو خوشحال بنا دیتا ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے ناشکری کرنے والوں کو سخت تنبیہ بھی کی ہے کہ وہ ان کی ناشکری کی بناءپر ان سے موجودہ نعمتوں کو چھین کر انہیں مصائب وآفات میں بھی مبتلا کر سکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ،اسی طرح اللہ تعالی فرماتے ہیں :
”اگر تم لوگ ( اللہ کا ) شکر ادا کرو اور ( خلوص نیت سے ) ایمان لے آو¿ تو اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ تمھیں عذاب دے ؟ جبکہ اللہ تو بڑا قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔ “ [ النساء: 147]
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندہ اگر سچا مومن اور اللہ تعالی کا شکر گذار ہو تو اللہ تعالی خواہ مخواہ اسے آزمائش میں مبتلا نہیں کرتا ۔ بلکہ وہ تو قدر دان ہے اور اپنے بندوں کے جذباتِ تشکرکو دیکھ کر انہیں اور زیادہ عطا کرتا ہے ۔
یادر ہے کہ شکر دل اور زبان سے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی بجا لانا ضروری ہے ۔ اور سچا شاکر وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالی احسانات کرتا ہے تو وہ اس کی اور زیادہ اطاعت وفرمانبرداری کرتا ہے ۔ اور وہ جتنا اسے اپنے فضل سے نوازتا ہے اتنا ہی اس کے جذباتِ محبت واطاعت اور جوش میں آتے ہیں اور وہ ہر طرح سے ان کے شکر کا اظہار کرنے لگتا ہے ۔ جیسا کہ رسول اللہا رات کو اتنا لمبا قیام کرتے کہ آپ کے پاو¿ں پر ورم آجاتا ۔ اور جب حضرت عائشہ ؓنے پوچھاکہ اے اللہ کے رسول ! آپ کی تو اللہ تعالی نے اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دی ہیں ، پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ؟ تو آپ ا نے فرمایا :
” کیا میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اللہ تعالی کا شکر گذار بندہ بنوں ؟ “ [ بخاری : 4873 ، مسلم : 2820]

صبر

کسی بندہ  مومن کو جب کوئی پریشانی یا تکلیف پہنچے تو وہ اسے برداشت کرے ، اس پر صبر وتحمل کا مظاہرہ کرے ، اللہ تعالی کی تقدیر پر اپنی رضامندی کا اظہار کرے اور اس پر اللہ تعالی سے اجر وثواب کا طالب ہو۔ یوں اللہ تعالی اس سے راضی ہو گا اور اس کے گناہوں کو مٹا کر اسے اطمینانِ قلب نصیب کرے گا ۔دنیا میں ہر مومن کے مقدر میں اللہ تعالی نے کوئی نہ کوئی آزمائش لکھ رکھی ہے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں : ’اور ہم تمھیں ضرور آزمائیں گے کچھ خوف و ہراس اور بھوک سے اور مال وجان اور پھلوں میں کمی سے ۔ اور آپ (اے محمدصلى الله عليه وسلم ! ) صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے جنھیں جب کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں : ہم یقینا اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ ایسے ہی لوگوں پر اللہ تعالی کی نوازشیں اور رحمت ہوتی ہے ۔ اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ۔ “ [البقرة : 155 ۔ 157 ] ’
ان آیات میں اللہ تعالی نے آزمائشوں میں صبر کرنے والوں کو خوشخبری دی ہے کہ ان پر اس کی نوازشیں ہوتی ہیں اور وہ رحمتِ الٰہی کے مستحق ہوتے ہیں ۔ گویا صبر وہ چیز ہے کہ جس سے اللہ تعالی صبر کرنے والے کی زندگی کو خوشحال بنا دیتا ہے اور اسے اپنے فضل وکرم سے نوازتا ہے ۔
آزمائش کوئی بھی ہو ، چھوٹی ہو یا بڑی ، جسمانی ہو یا ذہنی ، ہر قسم کی آزمائش مومن کیلئے باعثِ خیر ہی ہوتی ہے ۔ جیسا کہ رسول اکرم اکا ارشاد گرامی ہے : ”مسلمان کو جب تھکاوٹ یا بیماری لاحق ہوتی ہے ، یا وہ حزن وملال اور تکلیف سے دوچار ہوتا ہے حتی کہ اگر ایک کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ “
[ البخاری: 5642 ، مسلم : 2573]
اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضى الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی مسلمان کو کوئی اذیت ( تکلیف ) پہنچتی ہے تو اللہ تعالی اس کے گناہوں کو اس طرح گرا دیتا ہے جس طرح درخت کے پتے گرتے ہیں ۔ “ [ البخاری: 5647 ، مسلم :2571]
ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی تکلیف اور ادنی ترین آزمائش پر حتی کہ ایک کانٹا چبھنے پر بھی اللہ تعالی بندہ ¿ مومن کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ بشرطیکہ وہ صبر وتحمل کا دامن نہ چھوڑے اور ہر آزمائش میں اللہ تعالی کی تقدیر پر راضی ہو جائے ۔
کسی بندہ ¿ مومن میں جب یہ دونوں صفات ( صبر و شکر ) جمع ہو جائیں تو وہ یقین کر لے کہ اسے خیر ِ کثیر نصیب ہو گئی ۔ رسول اکرم اکا ارشاد گرامی ہے :
” مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے اور اس کا ہر معاملہ یقینا اس کیلئے خیر کا باعث ہوتا ہے ۔ یہ خوبی سوائے مومن کے اور کسی کو نصیب نہیں ہوتی ۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچے تو وہ شکر ادا کرتا ہے ، اس طرح وہ اس کیلئے خیر کا باعث بن جاتی ہے ۔ اور اگر اسے کوئی غم پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور یوں وہ بھی اس کیلئے باعث ِ خیر بن جاتی ہے ۔“ [مسلم : 2999]

توکل

وہ لوگ جن پر دشمن کی شرارتوں ، سازشوں اور ان کے ہتھکنڈوں کا خوف طاری رہتا ہو اور اس کی وجہ سے وہ سخت بے چین رہتے ہوں ان کی خوشحالی کیلئے خصوصا اور باقی تمام لوگوں کیلئے عموماً نواں اصول یہ ہے کہ وہ صرف اللہ تعالی پر توکل ( بھروسہ ) کریں کیونکہ اللہ تعالی ہی ہر شر سے بچانے والا ہے اور اس کے حکم کے بغیر بڑے سے بڑا طاقت ور بھی کسی کو کوئی نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہے۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں:  ” آپ کہہ دیجئے کہ ہم پر کوئی مصیبت نہیں آ سکتی سوائے اس کے جو اللہ تعالی نے ہمارے لئے مقدر کر رکھی ہے ۔ وہی ہمارا سرپرست ہے اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے ۔ “[ التوبة : 51]
اور فرمایا : ” اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کر لے تو وہ اسے کافی ہے ۔ اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے ۔ “[ الطلاق : 3 ]
رسول اکرم ا اللہ تعالی پر کامل توکل کرتے تھے جیسا کہ حضرت جابرصبیان کرتے ہیں کہ ہم نجد کی جانب رسول اللہ ا کے ساتھ ایک جنگ کیلئے نکلے ، پھر آپ ا سے ہماری ملاقات اُس مقام پر ہوئی جہاں کانٹے دار درخت بہت زیادہ تھے۔ چنانچہ آپ ا ایک درخت کے نیچے اپنی سواری سے اترے اور اپنی تلوار اس کی ایک ٹہنی سے لٹکا کر سو گئے ۔ صحابہ کرام ث بھی اِدھر اُدھر بکھر گئے اور جہاں جس کو سایہ ملا وہ وہیں آرام کرنے لگا ۔ پھر رسول اللہ ا نے ہمیں بیان فرمایا کہ
” میں جب سویا ہوا تھا تو ایک آدمی میرے پاس آیا ۔ اس نے میری تلوار اٹھائی تو میں بیدار ہو گیا۔میں اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک ننگی تلوار سونتے ہوئے میرے سر پر کھڑا ہے ۔ اس نے مجھ سے کہا : (مَن± یَّم±نَعُکَ مِنِّی± ؟ ) یعنی آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ میں نے کہا : اللہ تعالی بچائے گا ۔ اس نے پھر کہا : یعنی آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ میں نے پھر بھی یہی کہا کہ مجھے اللہ تعالی ہی بچائے گا۔ پھر اس نے تلوار نیام میں کر لی ۔ اور دیکھو ! یہ ہے وہ شخص ۔ “ حضرت جابرصکا بیان ہے کہ آپ انے اسے کچھ بھی نہ کہا ۔[ البخاری : 2913 ، 4139 ۔ مسلم : 843 واللفظ لہ ]
اس واقعہ سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ رسول اللہا کتنے مضبوط ایمان کے مالک تھے اور آپ ا کو اللہ تعالی پر کس قدر اعتماد اور بھروسہ تھا کہ نیند سے بیدار ہونے کے بعد اچانک آپ ا نے جب ایک دشمن کو تلوار بے نیام کئے ہوئے اپنے سر پر کھڑا دیکھا تو آپ امکمل طور پر مطمئن رہے اور کسی خوف کا اظہار نہیں فرمایا ۔ اور جب اس نے پوچھا کہ آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے توآپ ا نے انتہائی اعتماد کے ساتھ جواب دیا کہ مجھے صرف اللہ تعالی ہی بچا سکتا ہے ۔
اسی طرح وہ لوگ جو بے روزگار ہوں یا مالی وکاروباری مشکلات سے دوچار ہوں ، انہیں بھی اللہ ہی پر توکل کرکے رزق حلال کے حصول کیلئے جدو جہد کرنی چاہئے ۔اس طرح اللہ تعالی ان کیلئے رزقِ وافر کے دروازے کھول دے گا اور مالی پریشانیوں سے نکال کر انہیں خوشحال بنا دے گا ۔
رسول اللہ اکا ارشاد گرامی ہے : ” اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ کرو جس طرح بھروسہ کرنے کا حق ہے تو وہ تمھیں ایسے ہی رزق دے گا جیسے وہ پرندوں کو رزق دیتا ہے جو صبح کے وقت خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کے وقت پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔“[احمد والترمذی وابن ماجہ ۔ بحوالہ صحیح الجامع للÉلبانی : 5254]

قناعت

کامیاب وخوشگوار زندگی کا دسواں اصول یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جس کسی کو جتنا رزق عطا کیا ہو وہ اس پر قناعت کرے اور ہرحال میں اس کا شکر ادا کرتا رہے ۔ اور بڑے بڑے مالداروں کو حسرت سے دیکھنے کے بجائے اپنے سے کم مال والے لوگوں کو اپنے مد نظر رکھے ۔ اس طرح اللہ تعالی اسے حقیقی چین وسکون نصیب کرے گا ۔ اور اگر وہ کسی جسمانی بیماری کی وجہ سے پریشان رہتا ہو تو بھی اسے ان لوگوں کی طرف دیکھنا چاہئے جو اس سے زیادہ مہلک اور موذی مرض میں مبتلا ہو کرہسپتالوں میں زیرِ علاج ہوں یا اپنے گھروں میں صاحبِ فراش ہوں۔ جب وہ اپنے سے کم مال والے لوگوں کی حالت اور اسی طرح اپنے سے بڑے مریضوں کی حالت کو دیکھے گا تو یقینا وہ اپنی حالت پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرے گا ۔ اس طرح اللہ تعالی اسے سکونِ قلب جیسی عظیم دولت سے نوازے گا ۔
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد گرامی ہے : ” تم اس شحص کی طرف دیکھو جو ( دنیاوی اعتبار سے ) تم سے کم تر ہو ۔ اور اس شخص کی طرف مت دیکھو جو ( دنیاوی اعتبار سے ) تم سے بڑا ہو کیونکہ اس طرح تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہیں سمجھو گے ۔ “  [ مسلم ۔ الزہد والرقائق : 2963 ]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی نسبت کم تر انسان کی طرف دیکھنے سے انسان اللہ کی ان نعمتوں کو حقیر نہیں سمجھے گا جو اس نے اسے عطا کررکھی ہیں ۔ اور ان میں تین نعمتیں ایسی ہیں جو کسی کے پاس موجود ہوں تو اسے یہ سمجھنا چاہئے کہ گویا اللہ تعالی نے اس کیلئے پوری دنیا جمع کردی ہے اور وہ ہیں : صحت ، امن اور ایک دن کی خوراک ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  کا ارشاد ہے :
” جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ وہ تندرست ہو ، اپنے آپ میں پر امن ہو اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک موجود ہو تو گویا اس کیلئے پوری دنیا کو جمع کردیا گیا ۔ “ [ الترمذی : 2346 ، ابن ماجہ : 4141 ، وحسنہ الالبانی]

فارغ اوقات میں علومِ نافعہ کا مطالعہ

ناخوشگوار اور دکھ بھری زندگی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب زندگی کے فارغ اوقات کو بے مقصد بلکہ نقصان دہ چیزوں میں ضائع کرنا ہے ۔ مثلا ڈائجسٹوں میں عشق ومحبت کی جھوٹی داستانوں یا جاسوسی کی من گھڑت کہانیوں کے پڑھنے ، تاش اور شطرنج وغیرہ کھیلنے اور دن بھر میچ دیکھتے رہنے اور اس طرح کی دیگرفضولیات میں وقت ضائع کرنے سے یقینی طور پر دل مردہ ہوتا ہے اور ناخوشگواری میں اور اضافہ ہوتا ہے ۔ اس لیے اس کی بجائے مفید کتابوں مثلا تفسیر قرآن ، کتبِ حدیث ، کتبِ سیرت نبویہ وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے اور جھوٹی کہانیوں کی بجائے صحابہ¿ کرامثوتابعین عظام ؒ کی سوانح حیات کے سچے واقعات کو پڑھا جائے ۔ اور قرآن مجید کی تلاوت اورفائدہ مند تقاریر ولیکچرز کی کیسٹیں سنی جائیں تو اس سے یقینا اللہ تعالی بندہ¿ مومن کی زندگی کو بابرکت بنادیتا ہے اور اسے پریشانیوں سے نجات دیتا ہے ۔
فارغ وقت اللہ تعالی کی ایک نعمت ہے جس کی قدرو منزلت سے بہت سارے لوگ غافل رہتے ہیں ۔ جیسا کہ رسول اللہ ا کا ارشاد گرامی ہے : ( نِع±مَتَانِ مَغ±بُو±نµ فِی±ہِمَا کَثِی±رµ مِنَ النَّاسِ : اَلصِّحَّةُ وَال±فَرَاغُ )
” دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سارے لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں : تندرستی اور فارغ وقت ۔ “ [ البخاری ۔ الرقاق باب الصحة والفراغ : 6412 ]
یعنی جو لوگ فارغ اوقات کو اللہ تعالی کی اطاعت میں نہیں کھپاتے وہ یقینا گھاٹے میں رہتے ہیں ۔ اس لئے فارغ اوقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسان کو زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانی چاہیے ۔ ورنہ یہ بات یاد رہے کہ قیامت کے دن فارغ اوقات کے بارے میں بھی باز پرس ہو گی کہ انہیں اللہ کی اطاعت میں لگایا تھا یا اس کی نافرمانی میں ضائع کردیا تھا ؟ جیسا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  کا ارشاد گرامی ہے :
” کسی بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہل سکیں گے جب تک اس سے چار سوالات نہیں کر لئے جائیں گے : اس نے اپنی عمر کو کس چیز میں ختم کیا ؟ اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا ؟ اور اس نے اپنا مال کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا ؟ اور اس نے اپنے جسم کو کس چیز میں بوسیدہ کیا ؟ “[الترمذی ۔ بحوالہ صحیح الجامع للÉلبانی : 7300]

مسلمانوں کی پریشانیاں دور کرنا

دنیا میں دکھوں اور پریشانیوں سے نجات پانے کیلئے بارہواں اصول یہ ہے کہ آپ اپنے مسلمان بھائیوں کی پریشانیاں دور کرنے میں ان کی مدد کریں ، اللہ تعالی آپ کی پریشانیاں دور کرے گا اور آپ کو خوشحالی وسعادتمندی نصیب کرے گا ۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور اس کی پریشانی دور کی جائے تو و ہ تنگ دست کی پریشانی کو دور کرے ۔“[ احمد ۔ ج 2 ص23 ، وذکرہ الہیثمی فی مجمع الزوائد ج 4 ص133 وقال : رواہ احمد وابو یعلی ورجال ا¿حمد ثقات ]
یعنی ایک تنگ حال کی تنگی وپریشانی دور کرنے سے اللہ تعالی اس کی دعا کو قبولیت سے نوازتا ہے اور اس کی پریشانیاں دور کردیتا ہے ۔
اخیرمیں ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہم سب کو خوشگوار زندگی نصیب کرے ، ایمان وعمل کی سلامتی دے اور ہمیں تمام پریشانیوں، دکھوں اور صدموں سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین

 

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*