شرک کی مثال

شرک سے بڑا گناہ کوئی نہیں،اس کو ایک مثال سے سمجھو، مثلاً بادشاہ کے یہاں رعیت کے لیے ہرقسم کی سزائیں مقرر ہیں، چوری ،ڈکیتی ،خیانت وغیرہ ان سب جرموںکی سزائیں مقرر ہیں ۔ اب بادشاہ کی مرضی ہے ، چاہے تو سزا دے اورچاہے تومعاف کردے ۔لیکن بعض جرائم ایسے ہوتے ہیں جن سے بغاوت ظاہر ہوتی ہے ، مثلاً کسی وزیر ، کسی چودھری یا بھنگی اورچمارکو بادشاہ کی موجودگی میں بادشاہ بنادیاجائے تو اس قسم کی حرکت بغاوت ہے ۔ یہ جرم تمام جرموں سے بڑا ہے ،جو بادشاہ اس قسم کے جرائم کی سزاو¿ں سے غفلت برتتا ہے اس کی سلطنت کمزورہوتی ہے ،اورارباب دانش اس قسم کے بادشاہ کو نااہل کہتے ہیں۔ اوراللہ تعالی تواعلی درجے کا غیرت والا ہے،بھلا وہ مشرکوںکو سزاکیوںنہ دے گا۔
جس نے اللہ کا حق اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو دے دیا ا س نے بڑے سے بڑے کا حق ذلیل سے ذلیل شخص کو دے دیا ،جیسے کوئی تاج شاہی ایک چمار کے سرپر رکھ دے ۔ بھلا اس سے بڑھ کر اور کیا بے انصافی ہوگی ۔

شرک سند نہیں بن سکتا

اللہ تعالی نے بنی آدم کی پشتوںسے ان کی اولادنکالی اوران سے اقراکروایاکہ کیامیں تیرا رب نہیں ہوں؟ توکہنے لگے کہ کیوںنہیں ہم گواہ ہیں کہ تو ہمارا رب ہے ،یہ ہم نے اقراراس لیے لیا کہ کہیں تم قیامت کے روز کہنے لگو کہ ہم تو اس بات سے غافل تھے ،یاکہنے لگوکہ ہمارے باپ دادا نے پہلے سے شرک کیاتھا اورہم تو ان کی اولاد تھے جو ان کے بعد پیدا ہوئے توکیا جوکام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے ۔ (سورة الاعراف 172۔173)
کوئی یہ خیال کرے کہ دنیامیں آکر ہمیں وہ اقرار یاد نہیں رہا ، اب اگر ہم شرک کریں توہماری پکڑ نہ ہوگی ،کیوںکہ بھول میں پکڑ نہیں ،تواس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو بہت سی باتیں یادنہیں رہتیں ،لیکن معتبر اشخاص کے یاددلانے پر یقین آجاتا ہے ۔ مثلاً کسی کو اپنی تاریخ ولادت یادنہیں ، پھر لوگوںسے سن کر کہتا ہے کہ میری تاریخ ولادت فلاں سن فلاں دن اورفلاں ساعت ہے ۔ لوگوںسے سن کرہی ماں باپ کو پہچانتا ہے ،کسی اورکو ماں نہیں سمجھتا۔ اگرکوئی اپنی ماں کا حق ادا نہ کرے اورکسی اورکوماں بتادے تو دنیا اس پر تھوکے گی ،اوراگر وہ یہ جواب دے کہ بھلے آدمیو! مجھے تو اپنا پیدا ہونا یاد نہیں کہ میں اس کو ماں سمجھوں، تم بلاوجہ مجھے بُرا کہہ رہے ہو تو لوگ اسے پرلے درجے کا بیوقوف اور بڑاہی بے ادب سمجھیں گے ۔ معلوم ہوا کہ جب عوام کے کہنے سے انسان کو بہت سی باتوںکا یقین ہوجاتا ہے تو نبیوںکی تو شان ہی بڑی ہے ،ان کے بتانے سے کس طرح یقین نہیں آسکتا ؟۔

(افادات : شاہ اسماعیل شہیدؒ)

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*