محمد عبد الکریم عرفان

دل جلاو کہ روشنی کم ہے
محمد انور محمد قاسم سلفی (کویت)

غالباً 2001 ءکی بات ہے، دسمبر کے ماہ کی کوئی تاریخ تھی ، میرے درس میں ایک صاحب تشریف لائے ، رنگ سرخی مائل سفید ، بال سیاہ ، بڑی اور روشن آنکھیں ،خوب صورت کتابی چہرہ ، کشادہ پیشانی ، بلند ناک ، بھرا ہوا جسم ، سر پر دوپلی سفید ٹوپی ، سفید بغیر کالر کا کرتا ، چوڑی دار پاجامہ ، پیروں میں سفید سلیم شاہی جوتے ، پر وقار انداز، سنجیدہ طبع اور مردانہ حسن کا ایک شاہ کار انہوں نے بڑی متانت اور سنجیدگی سے درس سنا ، درس کے بعد پروقار انداز میں ایک دو سوالات کئے ، پھر درس کے بعد رخصت ہوگئے تعارف میں اپنا نام ” کریم عرفان “ بتلایا ، انکی خاموشی نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ہو نہ ہو یہ کوئی اعلیٰ ظرف انسان ہے بقول کیف بھوپالی :

کہہ رہا ہے موج دریا سے سمندر کا سکون
جس میں جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

یہ جناب محمد عبد الکریم عرفان صاحب سے میری پہلی ملاقات تھی ، پھر اس درس کی برکت سے موصوف سے خلوص ومحبت کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو تا حین حیات جاری رہے گا ۔ ان شاءاﷲ۔
جناب محمد عبد الکریم عرفان صاحب سے میری دوستی اور محبت کا تعلق صرف اﷲ تعالیٰ کی ذات ہے،جب ان سے میری ملاقاتیں بڑھیں اور مجھے قوم وملت اور انسانیت کی فلاح وبہبودکے لیے ان کی تڑپ اور امت اسلامیہ کی علمی وعملی پستی اور انہیں ہرمیدان میںتمام اقوام سے آگے دیکھنے کی انکی شدید خواہش اور پھر اس کے لیے انکی اپنی بساط بھر کوشش اور جد وجہد نے مجھے کافی متا¿ثر کیا فیڈریشن آف انڈین مسلم اسوسی ا شنس (فیما)کے پلیٹ فارم سے ہندوستانی مسلمانوں کو اختلاف فکر ونظر کے باوجود آپس میں متحد رکھنے کے لیے ان کی لازوال کاوشیں، تلاش روزگار کے سلسلے میں کویت آئے ہوئے بے روزگار مسلمانوں کے حصول روزگار کے لیے ان کی کوششیں، کویت میں مقیم ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے ارباب حکومت ہند کو آگاہ کرنا اور اس سلسلے میں مرکزی حکومت کے وزراءسے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا، آفات ارضی وسماوی کا شکار ہونے والے انسانوں کی باز آبادکاری اور ان کے تعاون کے لیے ان کی قربانیاں ، ہندوستان میں مسلمانوں کی علمی پستی کو دور کرنے کے لئے “Êقرا¿ فاونڈیشن” کا قیام ، اور سرکاری ملازمتوں کے حصول کے سلسلے میں انکے گائیڈیشن پروگرامس ، غریب اور مستحق طلباءاور نادار افراد کا مالی تعاون ، غریب ، بیوہ اور معذور لوگوں کی دست گیری،سینکڑوںنادار اور یتیم بچیوں کی شادیوںمیںبیش بہاتعاون، اسلامی مدارس وجامعات کی دامے درمے قدمے سخنے ہر طرح سے مدد ، ہر سال پچاسوں علماءکو اپنے ویزے پر کویت میں بلانا اور ان کے ہوٹلوں کے اخراجات برداشت کرنا، غرضیکہ اس طرح کی لاتعداد ان کی خاموش خدمات، گرم دمِ جستجو ، نرم دمِ گفتگو اورشہرت وریاکاری سے دوری وہ صفتیں ہیں کہ کونسا ایسا شخص ہے جو میری طرح ان سے متا¿ثر نہیں ہوسکتا ؟
میرا خود اپنا ذاتی تجربہ ہے کہ میں نے جناب محمد عبد الکریم عرفان سے کسی کار خیر میں تعاون چاہا تو کبھی اس اﷲ کے بندے کی زبان سے انکار کا لفظ نہیں سنا جب میں نے اپنی لجنة القارة الہندیة کی جانب سے اپنے شہر پردوٹور ضلع کڑپہ میں نادار مسلم خواتین کے لیے ”فاطمہ میٹرنٹی ہسپتال“ بنوایا تو آپ نے نہ صرف اس سلسلے میں بیش قیمت مشورے دئے بلکہ ہر طرح کا خود سے تعاون کیا اور اپنے احباب سے کروایا
ایک مرتبہ ہماری لجنہ کے ایک سری لنکن ساتھی کو ایک بڑی رقم کی ضرورت پیش آئی، اس نے مجھ سے تقریبا پندرہ سو دینار بطور قرض مانگے میں نے اس سے کہا کہ کیا تومجھ سے مذاق کرتا ہے ؟ اس نے بتلایا کہ اس کی بہن کے لیے سری لنکا میں ایک اچھا رشتہ آیا ہوا ہے ، لڑکا بر سر روزگار ہے ، وہ لوگ شادی کے لئے جلدی کررہے ہیں اور میرے گھر والوں کی ساری امیدیں مجھ ہی سے وابستہ ہیں اس نے مجھ سے کہا کہ اگر تو مجھے دے نہیں سکتا تو مجھے امیدہے کہ کہیں سے ضرور دلا دے گا میں نے اس سے کہا : میرے ایک دوست ہیں جن کا نام عبد الکریم ہے ، یہ صرف نام کے ہی نہیںبلکہ دل کے کریم ہیں ، تو میرے ساتھ چل شاید اﷲ تعالیٰ تیرا کام بنادے وہ میرے ساتھ جناب کریم عرفان کے دولت کدے پر آیا ، میں نے ان سے اس کی مجبوری کا تذکرہ کرکے ان سے اس کے لیے قرض مانگا آپ نے جب اس کی پریشانی سنی تو بغیر کسی تردد کے فورا کہا : ” آپ کل اسی وقت تشریف لائیں اور مطلوبہ رقم لے جائیں“ جس وقت ہم دونوں رقم لینے کے لیے ان کے در دولت کدہ پہنچے تو نہ صرف مطلوبہ رقم دی ، بلکہ اس میں سے ایک بڑا مبلغ اس کی بہن کی شادی میں بطور تعاون کے دیا اور فرمایا کہ آپ اس رقم میں سے صرف اتنی ہی رقم مجھے واپس کریں جب یہ رقم اس ساتھی نے لی تو وہ پر نم آنکھوں سے مجھ سے گویا ہوا :” واﷲ ! میں نے اپنی زندگی میں اس طرح کا آدمی نہیں دیکھا “

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

علم ، دولت ، شرافت اور اخلاق کا کسی ایک شخص میں جمع ہونا بڑا ہی مشکل ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان چاروں چیزوں کو شکل عطا کی جائے تو اس سے عبد الکریم عرفان بنیں گے بارہ سال کی رفاقت میں میں نے موصوف سے سوائے اخلاق وشرافت کے کچھ نہیں پایا ، علماءاور اہل علم کی قدر دانی کی انتہاءمیں نے اس شخص میں دیکھی ،علماءکے سامنے لب کشائی موصوف کمال درجے کی گستاخی اور بے ادبی سمجھتے ہیں، اگر کسی مسئلے کی بابت کچھ دریافت کرنا بھی ہو انتہائی ادب واحترام کے ساتھ، حالانکہ انہیں کئی غلط قسم بلکہ چیٹر قسم کے مولویوں سے بھی واسطہ پڑا ، لیکن کبھی کسی سے اس کاتذکرہ تک نہیں کیا ۔
جہاں تک کریم عرفان صاحب کو میں نے دیکھا ، انہوں نے طلب شہرت کو نہیں بلکہ رب کی رضا کو اپنا مقصود ومطلوب بنایا انہوں نے مختلف دینی موضوعات پر اپنے گھر کے وسیع ہال میں دروس ولیکچرس کا اہتمام کیا ، لیکن کیامجال کہ ا نہوں نے کبھی اپنی ذات کی نمائش کی ایک رمق کو بھی اس میں شامل کیا ہو،بلکہ نہایت ہی ادب وخاموشی کے ساتھ علمائے کرام کے بیانات سنے ، کسی کا کوئی سوال ہو تو اس کو پیش کیا اور شرکائے مجلس کی ضیافت میں تن ومن سے مشغول ہوگئے
میں نے بھی موصوف سے گزارش کی کہ آپ اپنی مصروف اور خاموش خدمات سے بھر پور زندگی کے متعلق راقم کو کچھ بتلائیں تاکہ اس کو میں منظر عام پر لا سکوں، لیکن موصوف نے اپنی خاکساری کا اظہار کرتے ہوئے کئی مرتبہ اسے ٹال دیا ، بہت لیت و لعل کے بعد اپنے متعلق کچھ معلومات مجھے دیں ، جسے میں قارئینِ مصباح کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں ، اس سے قارئین کو بھی اندازہ ہوجائے کہ کہ ایک سات سال کا بچہ، جس نے یتیمی میں پرورش پائی ، علم کی دولت سے بہرہ مند ہوکر کس طرح اﷲ تعالیٰ کے فضل کے بعداپنی کڑی محنت، کام اور ایثار وقربانی سے کویت اور اہل کویت میں اپنی پہچان بنائی اور ملک وملت کے لئے ایک گوہر نایاب بنا ۔

سوال :سب سے پہلے ہم چاہیں گے کہ اپنا تعارف کرادیں۔
جواب : میرا نام محمد عبد الکریم عرفان ، عرفیت عرفان ہے ، لیکن جس نام سے لوگ مجھے جانتے ہیں وہ ” کریم عرفان“ ہے۔ 12-04-1958 کو شہر حیدر آباد کے ایک دین دار گھرانے میری پیدائش ہوئی،میرے دادا محترم حاجی عبد اﷲ عبد الکریم صاحب مرحوم، نہایت متقی اور عابد وزاہد تہجد گزاراور شب زندہ دار بزرگ تھے، تہجد سے لیکر اشراق تک عبادت ، تلاوت اور ذکر واذکار میں مشغول رہتے اور بغیر کسی مہمان کے شام کا کھانا نہیں کھاتے تھے۔ میرے والد جناب عبد الوحید رحمہ اﷲ اپنے والد بزرگوار کی زندگی میں انکے دست وبازو بنے رہے ، انکی وفات کے بعد آپ نے تجارت کو فروغ دیا ، لیکن افسوس کہ صرف 45 سال میںداعی¿ اجل کو لبیک کہاÊنا ﷲ وÊنا Êلیہ راجعون والد مرحوم کے انتقال کے وقت میری عمر صرف سات سال تھی ۔

سوال :والد کی وفات کے بعد آپ کی تعلیم وتربیت کیسے ممکن ہوسکی؟
جواب: والد مرحوم نے اپنے پیچھے ایک بڑا کنبہ چھوڑا تھا، والدہ مرحومہ ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں، میرے نانا جناب غلام احمد صاحب مرحوم نظام آباد میں صدر مدرس تھے ، اورنانی صاحبہ بھی ایک معزز تاجر پیشہ اور زمین دار گھرانے سے متعلق تھیں، آزادی کے بعد 1962ءمیں ہندوستان کی شہریت ترک کردی اور کراچی ہجرت کرگئے اور وہیں وفات پائی ۔
میری والدہ ماجدہ ایک باہمت وحوصلہ مند خاتون تھیں ، انہوں نے اپنے تمام بچوں کو پڑھانے لکھانے کی ٹھانی اور مجھے بھی مدرسہ انوار العلوم میں داخل کردیا ، جہاں ابتدائی سے لیکر بارہویں تک میں نے تعلیم حاصل کی گریجویشن کے لئے ممتاز کالج ملک پیٹ میں داخلہ لیا ، اس کے بعد پوسٹ گریجویشن مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے کیا پھر تعلیم کی تکمیل کے فوری بعد کویت میں مقیم اپنے دو بڑے بھائیوں کی رہنمائی میں اس ملک میں میری آمد ہوئی

سوال :آپ کی شادی کب ہوئی اور کتنی اولاد ہے ؟
جواب : میری شادی 1988 میں ہوئی ، اﷲ تعالیٰ نے مجھے تین اولاد عطا فرمایا ہے ، جن میں ایک لڑکا اور دو لڑکیاں ہیں، لڑکا محمد عبد اﷲ سعد امریکہ میں کیمیکل انجینیرنگ کررہا ہے ، جب کہ بڑی نورچشمی بھی امریکہ میں ہی Bio Medical کے ماسٹر کورس میں انجینیرنگ اور چھوٹی بیٹی امریکی ریاست ٹیکساس میں Archtecture انجینیرنگ میں زیر تعلیم ہے۔
میں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے امریکہ میں گھر خریدا میرے بچے اپنی ماں اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ اپنے ہی گھر میں مقیم ہیںاور میں ہر ماہ دو ماہ میں بچوں سے ملاقات کے لیے امریکہ جاتا رہتا ہوں ، یا وہ خود اپنی چھٹیوں کے شیڈول کے مطابق آتے جاتے رہتے ہیں والحمد ﷲ علی ذلک

سوال:کویت آنے کے بعد آپ کی مصروفیت کیارہی ؟

جواب :”1983ءمیں میری ابتدائی ملازمت ہالی بٹن (HALLIBURTON) نامی ایک امریکی کمپنی میںہوئی جو کہ کویت آئل کمپنی کی ٹھیکے دار تھی ، اس کمپنی میں سال دوسال کے عرصے میں ہی اچھی خاصی ترقی کے مواقع ملے ، جس کی وجہ سے میں نے سولہ سال تک اس کمپنی میں خدمات انجام دیں پھر روزگار کے بہتر مواقع سامنے آئے ، کویت کی ہی ایک مقامی آئل سروس کمپنی (3B TREADING COMPANY) میں ریجنل مینجر کے عہدے کی پیشکش ہوئی ، جس کی وجہ سے ہالی بٹن کمپنی سے مستعفی ہوکر مذکورہ کمپنی سے وابستہ ہوگیا اور ابھی تک اسی میں برسر خدمت ہوں
دوران ملازمت ہی میں نے 1986ءمیں اپنی ایک ذاتی کمپنی ( MEHWA INTERNATANOL) کے نام سے شروع کی ، جس کے تحت صنعتی کیمیائی مادوں اور آئل فیلڈ کے مخصوص اشیاءکی تجارت شروع کی پھر اسی تجارت کو مزید وسعت دیتے ہوئے 2003 ءمیں اس کا نام میٹرکس ( METRIX) جنرل ٹریڈنگ کمپنی رکھ دیا ۔
اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھائیوں کے تعاون سے اراضیات کی تجارت اور تعمیراتی کاروبار بھی( MEHWA CONTRACTION) کے نام سے جاری ہے اسی طرح 1998ءمیں(CYBER METRIX HARDWERE) پرائیویٹ لمیٹیڈ کی بنیاد رکھی جس کا سلسلہ اب بھی رواں دواں ہے ، جس کے تحت ہارڈویر ، CAD اوراس سے متعلقہ کاروبار اب بھی جاری ہے۔

سوال :کویت اور ہندوستان میں اپنی رفاہی خدمات کی بابت کچھ عرض کریں گے ؟
جواب :”1983ءمیں کویت میں آمد کے ساتھ ہی میں ’حیدر آباد مسلم ویلفیر اسوسیشن‘ کے ساتھ وابستہ ہوگیااور1993ءمیں’ Êقرا¿ کیریر گائیڈینس‘ (IQRA CAREER GUIDANCE) کا حیدر آباد میں سنگ بنیاد رکھا ، اس انسٹی ٹیوٹ کا مقصد قوم کے نوجوانوں کو علمی اور روزگار کے میدان میں مکمل رہبری مفت فراہم کرنا ہے قوم میں موجود کیریر گائیڈینس کی عدم دستیابی کا مجھے ہمیشہ ہی شدت سے احساس رہا ، جس کی وجہ خود میری اپنی تعلیمی زندگی میں صحیح اور مو¿ثر رہبری کا عدم حصول تھا ، اس طرح میں نے تہیہ کیا کہ اﷲ کی مدد سے اپنی بساط کے مطابق قوم کو ان بے لوث خدمات سے مستفید کروں جس کی ملت میں شدید ترین کمی نظر آرہی ہے چنانچہ اس منظم تنظیم کے تحت پچھلے پندرہ سالوں میںاندازًا چار لاکھ سے زیادہ طلباءوطالبات مستفید ہوئیں اور یہ ساری خدمات امت کےلئے بالکل مفت فراہم ہوتی رہیں
اس کے علاوہ مسلم تعلیمی اداروں کا دورہ کرکے ان کے تعلیمی معیار میں استحکام پیدا کرنا اور طلباءوطالبات کو سرکاری ملازمتوں کی جانب رغبت دلانا دینی مدارس میں عصری تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور تمام مسلم تعلیمی اداروں کے معیار کو بلند کرنے کی کاوشوں میں مشغول رہا ساتھ ہی ساتھ ریاست آندھر پردیش کی تلگو زبان سے تعلق رکھنے والی نو کروڑ کی آبادی کےلئے وقتا فوقتا دین کی منتخب بنیادی کتابوں کا تلگو میں ترجمہ کرواکرہزاروں کی تعداد میں انہیں مفت تقسیم کیا گیا جن میں حدیث کی کتاب ” اللو¿ لو¿ والمرجان ، اولاد کی اسلامی تربیت ، آسان فقہ ، کتاب التوحید ، سود کی لعنت اور پردہ ،، جیسی اہم کتابیں بھی ہیں،عنقریب تاریخ اسلام کاترجمہ بھی تلگو میں شائع کرکے مفت تقسیم کرنے کا ارادہ ہے ۔ان شاءاﷲ

سوال :” آپ ایک عرصے تک فیما کے صدر رہ چکے ہیں ، اس ضمن میں آپ کی کیا کارکردگی ہے ؟
جواب : میں اور ڈاکٹر مسعود صاحب ، مختار معروف صاحب اور صدیق لیاقت صاحب وغیرہ فیڈریشن آف انڈین مسلم ایسوسی ایشنس ( FEDRETION OF INDIAN MUSLIMS ASSOSATIONS) کے بانیوں میں سے ہیں فیما کے پلیٹ فارم سے میرا مقصد ہندوستانی مسلمانوں کے بین الا¿قوامی مسائل کی یکسوئی اور کویت میں انہیں ایک مو¿ثر فیڈریشن کے ماتحت متحد رکھنا تھا۔الحمد ﷲ! مختلف مکتب فکر کی تقریبا پندرہ مسلم اسو سیشنس کو متحد رکھتے ہوئے بے شمار قومی ، ملی، جماعتی اور صوبائی مسائل کی یکسوئی کی گئی، اور دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے میڈیا سے تعلق رکھنے والے ایسے غیر مسلم جنرلٹس، سوشل ورکرس اور سیاسی حضرات کو جنہوں نے ہر معاملے میں مسلمانوں کے حق میں بے باک بیانات دئے اور مسلمانوں پر ظلم وستم کے خلاف ، چاہے وہ بمبئی فسادات ہوں یا گجرات کے انسانیت سوز جرائم ، بھر پور آواز بلند کی ، اس کے لیے حکومت وقت سے ٹکر لیا ، بلکہ اس سلسلے میںاپنی بڑی بڑی سرکاری نوکریوں کی قربانی دی ، فیما نے انہیں کویت بلایا اور انکے اعزاز میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد کی اور انہیں طلائی تمغات سے نوازا ۔ جن میں مشہور سماجی کارکن اور ہندوستانی فلم انڈسٹری کے ایک اہم رکن جناب مھیش بھٹ صاحب ، بمبئی سے کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ اور مرکزی وزیرجناب سنیل دت صاحب، ہندوستان کے مشہور انگریزی اخبار ( THE HINDU DAILY )کے چیف ایڈیٹر جناب این رام صاحب ، حکومت گجرات کے سابق IPS آفیسرجناب ہرش مندر صاحب قابل ذکر ہیں،موخر الذکر نے گجرات فسادات کے دوران مسلمانوں کو ختم کرنے کے سرکاری احکامات کوماننے سے انکار کردیا، جب دباو¿ زیادہ بڑھا تو نوکری سے استعفی دیکر حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع ہوئے۔اسی طرح بمبئی کی مشہور سوشل ورکر محترمہ تیستا سیتلواد صاحبہ کوبھی اعزازی تمغہ سے نوازاگیا جنکی خدمت ناقابل فراموش ہیں ، اس خاتون ِ آہن نے گجراتی فرعون نریندر مودی اور اس کے تمام حواریوںکے خلاف ہائی کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک فاتحانہ قانونی جنگ لڑی ، اور بے شمار ظالموں کو انکے کیفر کردار تک پہنچایا۔
اس کے علاوہ فیما کے زیراہتمام ہندو مسلم یکجہتی کے نام پر سالانہ افطار پارٹی مرتب کی جاتی ہے جس میں چیدہ چیدہ غیر مسلم دانشوروں کو مدعو کیا جاتا ہے اور انگریزی زبان میں ان کے سامنے لیکچرس دئے جاتے ہیں ، جن میں اسلامی امن کے پیغام اور تعلیمات کو خصوصیت سے اجاگر کیا جاتا ہے ۔نیز این آر آئیز (NRI ) کے تعلیمی مسائل کو حل کرنا، کویت میں مسلم سکول اور انسٹیوٹ کے قیام کی تجویز کو عملی جامہ پہنانااور ہندوستان میں بھی اعلیٰ معیار کے اسلامی مدرسوں کے قیام کے لیے جد وجہد جاری ہے۔

یہ جناب کریم عرفان صاحب کی خاموش خدمات کا ایک پرتو ہے جو قارئین کی خدمت میں اس امید کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ وہ بھی اپنے دل میں امت کا درد اور ملت کا سوز رکھیں گے اور اپنی زندگی کو دوسروں کےلئے مفید اور کار آمد بنائیں گے

قمرانسانیت کا ہے تقاضہ دہر فانی میں
کسی کے کام آجائے تو اپنی زندگی دیدو

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*