اپنی آمدنی کی بچت کیسے کریں ؟

ڈاکٹر سعدبن صالح رویتع الشریف

ایک شخص جب محنت ومشقت کرتااورکماتا ہے تو اس کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی کمائی کا ثمرہ بھی دیکھے ، اگر کمائے اور اس کی محنت کا کوئی پھل ظاہر نہ ہو تو ایک دن وہ تھک ہارکربیٹھ جائے گا، دنیامیںآپ کوکتنے ایسے لوگ ملیں گے جو کماتے توہیں لیکن اپنی کمائی کا کوئی خاص اثراپنی زندگی میں نہیں دیکھ پاتے، چنانچہ ان کی شکایت ہوتی ہے کہ ہماری روزی میں برکت نہیں ہورہی ہے ،وہ ہمیشہ پریشان رہتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ زندگی میں بد نظمی اوربے ضابطگی ہے ، اگر زندگی سے بدنظمی ختم ہوجائے اورآمدنی کے تئیں منظم پلاننگ کرلیں توہم خاطر خواہ طریقے سے اپنی آمدنی کی بچت کرسکتے ہیں، ذیل کے سطورمیںہم اس قبیل کے دس نکات بیان کررہے ہیں :

(۱)صدقہ کریں: اللہ کے رسول  صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا:
مانقصت صدقة من مال ”صدقہ کرنے سے مال میں کمی نہیں آتی “۔ جی ہاں ! صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے ،ماہانہ تنخواہ میں سے ڈھائی فیصد یا دوفیصد جتنا ہوسکتا ہو،اپنے غریب رشتے دار کے لیے وقف کردیں،اگر رشتے دار محتاج نہ ہوں تو کسی بھی یتیم اور بیوہ کویہ رقم بھیجنا شروع کردیں،اس کا اثر آپ کے مال میں برکت کی شکل میں ظاہر ہوگا، صدقہ ایسی بہت ساری بیماریوں اورآفتوں سے بچاتاہے جس میں غیرشعوری طور پر آپ کا بے تحاشہ مال خرچ ہوجاتا ہے ۔ اسی لیے اللہ کے رسول انے فرمایا : داووا مرضاکم بالصدقة (رواہ ابوداو¿دفی المراسیل عن الحسن البصری) ” اپنے مریضوں کا صدقہ کے ذریعہ علاج کرو“۔

(2) قرض کے بوجھ سے چھٹکارا حاصل کریں:
اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے قرض کے بوجھ سے اللہ کی جناب میں پناہ مانگی ہے ،اس لیے قرض سے بالکل دور رہیں،اور اگر ناگزیر ضرورت کی وجہ سے اس میں پھنس بھی جائیں تو فوری طور پر اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں ، اوراس کی ادائیگی میں ٹال مٹول ہرگز نہ کریں ،قرض کا معاملہ بڑا سخت اور ہولناک ہے ،قرض کی وجہ سے شہید تک کی مغفرت نہیں ہوتی ،حدیث ہے:یغفر للشھید کل شیءالا الدین (مسلم) ”شہید کے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں سوائے قرض کے ۔ “

(3)تنخواہ کا آدھا حصہ خرچ کریں اورآدھا حصہ پس اندازکریں:بنک میں اپنا اکاو¿نٹ کھول کر رکھیں اور ہر ماہ تنخواہ کا آدھا حصہ بنک میں جمع کرادیں۔ اگر گھر کے تقاضوں کی وجہ سے ایسا کرنا مشکل ہورہا ہوتو تدریج کے ساتھ یہ کام شروع کریں ،مثلاً دس فیصد یا پندرہ فیصد سے شروع کردیں اوراس تناسب میں اضافہ کرتے رہیں یہاں تک کہ آدھی تنخواہ جمع کرنے کے قابل ہوجائیں ۔
(4)اگر کچھ خریدنے کی خواہش ہو تو اس عمل کو دو تین ہفتے تک مو خر کر یں: دوتین ہفتے کے لیے موخر کرنے کی وجہ سے خواہش خودبخود کم ہوجائے گی یا جاتی رہے گی ۔
 (5)اہل خانہ اوربچوںکے اخراجات کے لیے ماہانہ رقم متعین کردیں: اس لیے کہ اخراجات کو کھلا رکھنے سے بے تحاشاپیسے خرچ ہوں گے ،اس لیے اہل خانہ کوہرماہ بقدرضرورت پیسے دیں ، ان کو بچت اور میانہ روی کی تعلیم دیتے رہیں، اور فضول خرچی سے منع کریں، لیکن معاملہ بخالت اور کنجوسی کی حد تک بھی نہیں پہنچنا چاہئے کہ اہل خانہ کی جائز ضروریات کی تکمیل ضروری ہے اور اللہ کے رسول انے فرمایا:خیرکم خیرکم لا¿ھلہ وا¿نا خیرکم لا¿ھلی(ترمذی) ”تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے اہل خانہ کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں“۔

(6)ایسی رہائش گاہ اختیار کریں جو آپ کی آمدنی کے مطابق ہو:اگر زیادہ قیمت کا فلیٹ لیا تو تنخواہ کا زیادہ تر حصہ اس پر خرچ ہوگا ،اس لیے اپنی تنخواہ اور معیار کے مطابق رہائش گاہ کا انتخاب کریں کہ چادر دیکھ کر ہی پیر پھیلانا چاہیے ،کیونکہ زندگی کے دوسرے تقاضے بھی ہیں جن کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔ دوسروں کی ٹھاٹ باٹ کی زندگی اورعمدہ طرز رہائش سے ہمیں مرعوب نہیں ہونا چاہیے کہ ہرشخص اپنی ذات کا خود مالک ہے ۔

(7)نئی گاڑی خریدنے کی بجائے استعمال شدہ گاڑی خریدیں: دوسال استعمال کرنے کی وجہ سے گاڑی کی تیس اور چالیس فیصد قیمت کم ہوجاتی ہے ، نئی گاڑی خریدکر قیمت میں اس قدر کمی کا فائدہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ اس لیے پہلے یادوسرے موڈیل کے جانے کے بعد اگرگاڑی خریدیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ نے اچھے خاصے مال کی بچت کرلی ہے ۔اوراس سلسلے میں عام لوگوںکے نظریے کی بالکل پرواہ نہ کریں کہ وہ اس وقت آپ کے کچھ کام نہ آئیں گے جب آپ ایک کوڑی کے محتاج ہوںگے ۔

(8)سوپر مارکٹ میں خریداری کے لیے جائیں تو ضروریاتی اشیاءکی لسٹ بنالیں :اہل خانہ سے گھر کی ضروریات معلوم کرکے اس کی پوری لسٹ تیار کرلیں پھر خریداری کے لیے سوپر مارکٹ جائیں ،لسٹ سے باہر کی اشیاءخریدنے سے بالکل گریز کریںکہ اس کی فوری ضرورت نہیں ہے ۔

(9)ہرچیز نقد خریدنے کی عادت ڈالیں: قسطوں پر سامان کی خریداری سے بال بال بچیں اور تجارتی کمپنیوں کے پرفریب جھانسے میں نہ آئیں کہ وہ آپ کے خیرخواہ نہیں بلکہ مہذب اندازمیںآپ کے جیب سے پیسے اینٹھنا چاہتے ہیں۔اس لیے ناگزیر ضرورت کے بغیر قسطوں پر سامان کی خریداری نہیں ہونی چاہیے ۔

(10) ڈیوٹی کے علاوہ بھی پارٹ ٹائم کام کرکے آمدنی میں اضافہ کرسکتے ہوں تو ایساکوئی وظیفہ ضرور تلاش کرلیں:لیکن سودی بنکوںاور سودپر مبنی تجارتی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے سے بچیں کہ اس سے مال میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ کمی ہی آئے کی، ایسی کمی کہ اندازہ بھی نہ ہوگا ، اللہ تعالی کا فرمان ہے : ویمحق اللہ الربا ”اللہ تعالی سود کو مٹاتا ہے “۔
ہمیں پوری امید کہ یہ چند نکات ایسے لوگوں کے لیے مفید ثابت ہوں گے جو مالی منصوبہ بندی اورآمدنی کی بچت کے خواہشمند ہیں۔

1 Comment

  1. اچھی خبر
    غلط استعمال کی اطلاع sure.wayfinancial@gmail.com: 3٪ سود کی شرح کے لئے قرض کی درخواست (سنگین درخواست گزار کے لئے صرف) اگر دلچسپی پر ہم سے رابطہ.

    نام:
    ملک:
    ایڈریس:
    قرض کی رقم:
    دورانیہ:
    فون:
    ڈاک ٹکٹ کا نام:
    ملازمت:
    قریب رشتہ داروں کے نام:
    ماہانہ آمدن:
    قرض کا مقصد:

    تم سے سننے کے لئے امید ہے کہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*