کیا یہی مسلمانی ہے؟

رمضان المبارک آتا ہے اور مسجدیں تنگ پڑنے لگتی ہیں ، نچلی اور بالائی منزل بھر کر چھتوں پر اور سڑکوں پر نمازی ہوتے ہیں ، نمازیوں کی کثرت کے لحاظ سے ہر نماز میں نمازِ جمعہ کا گمان ہوتا ہے ، لیکن ادھر رمضان گذرا اور ادھر مسجدیں ویران ہوئیں ، اب ایک دو صفیں بھی مشکل سے نظر آتی ہیں ، یہ کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ رمضان المبارک میں اپنے مالک و خالق کی ذات کا جو استحضار تھا اور اس کی خوشنودی و رضا جوئی کا جو جذبہ کارفرما تھا اب وہ ختم ہو چکا ہے ، محبت کی آگ بجھ گئی ہے اور خشیت کے شعلے خاکستر ہوگئے ہیں ، اس لیے اس بات کا عزم کیجئے کہ آج بھی آپ اس سے بے نیاز اور مستغنی نہیں ہو سکتے ، اورجس خدا کے خوف نے کل آپ کا سر جھکایا تھا ، آج بھی اس کی ذات پوری جلال و قدرت کے ساتھ موجود ہے۔
دوسرا جو گناہ سماج میں دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے ، وہ ہے کسب ِمعاش میں حلال و حرام کے احکام سے بے اعتنائی کا ، حالانکہ حرام ذرائع سے حاصل ہونے والی چیزوں کو کھانا اور استعمال کرنا عبادتوں کو بھی بے اثر کردیتا ہے ،اور انسان کی دعائیں بھی اس کی وجہ سے رد کردی جاتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام قرار دیا ہے ، رسول اللہ انے ارشاد فرمایا : کہ سود کے گناہ کے ستردرجات ہیں اوران میں سب سے کم تر درجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ برائی کرے ، بینک میں جو رقم ڈپازٹ کی جاتی ہے اور جمع کی ہوئی رقم سے زیادہ رقم بینک ادا کرتاہے ، وہ بھی سود ہی ہے ، اور کتنے ہی لوگ ہیں جو ایسے سود کو اپنی خوراک بنارہے ہیں ، نیز کس قدر شرم اور افسوس کی بات ہے کہ جب پولیس فینانسروں پر دھاوا کرتی ہے تو ان میں زیادہ تر مسلمان ہی نکلتے ہیں ، جو غریبوں کو معمولی قرض دے کر بہت زیادہ تناسب کے ساتھ سود وصول کیا کرتے ہیں ، یہ سودی قرضے متعدد لوگوں کی خود کشی اور سر براہانِ خاندان کی خود کشی کی وجہ سے پورے خاندان کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔
قمار خانوں میں بھی اچھی خاصی تعداد مسلمان جوئے بازوں کی ہوتی ہے ، مسلمان محلوں میں شطرنج اور تاش کی لعنت عام ہے ، بہت سے مسلمان مزدور اونچے انعامات کی حرص میں لاٹری پر لاٹری خرید تے جاتے ہیں اور اس طرح ان کی گاڑھی کمائی جوئے بازوں کی نذر ہو جاتی ہے ، تجارت میں دھوکہ دہی، عیب پوشی اور جھوٹ کی وبا عام ہو چکی ہے ، یہ سب کمانے اور پیسے حاصل کرنے کے ایسے طریقے ہیں جن سے اللہ ناراض ہوتا ہے ، سود سے ، جوئے سے ، اور تجارت میں بد دیانتی اور دھوکہ دہی سے بچنے کا عزم مصمم کر لیجئے ، اس سے آپ کی آخرت بھی سنور جائے گی اوردنیا میں بھی آپ باعزت اور نیک نام ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اسراف اور فضول خرچی سے منع فرمایا ہے ، رسول اللہ ا نے وضو اور غسل میں بھی ضرورت سے زیادہ پانی کے استعمال کو منع فرمایا ہے ، چہ جائے کہ بلا ضرورت اور بے مقصد پیسے خرچ کیے جائیں ، لیکن اس وقت فضول خرچی ہمارے سماج کاکینسر بن چکا ہے اور ہر چیز میں فضول خرچی کا رجحان عام ہوچکا ہے ، مکانات کی تزئین و آرائش پر اتنا خرچ کیا جاتا ہے کہ اس میں کئی مکانات بن سکتے ہیں ، فرنیچرخرید نے اورمختصر عرصہ کے بعد فرنیچر کی تبدیلی پر بے تحاشا رقمیں خرچ کی جاتی ہیں ، معمولی دعوتوں میں بھی حد سے زیادہ تکلف کیا جاتا ہے ، انواع و اقسام کے سالن اور میٹھے اور زیادہ مقدار میں کھانے بنائے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ کھانے کی اچھی خاصی مقدار پھینک دی جاتی ہے ، شادی کی دعوتوں میں جو فضول خرچیاں ہوتی ہیں وہ تو سب سے سوا ہیں ، حالانکہ ہمارے معاشرہ میں اللہ کے کتنے ہی محتاج بندے ہیں ، جن کے پاس سر چھپانے کے لیے جھونپڑی تک نہیں ہے ، اور جنھیں کھانے کے لیے دو روٹی بھی میسر نہیں ہے ،کیا قیامت کے دن اس کے بارے میں پوچھ نہیں ہوگی ؟
طے کر لیجئے کہ ایسے اسراف اور فضول خرچی سے بچیں گے اور ان ہی پیسوں کو اچھے کاموں میں خرچ کریں گے ، اگر دین اور قوم کے لیے خرچ کرنے کی توفیق میسر آجائے تو کیا کہنا ہے ! لیکن اگر دل اس کے لیے تیار نہ ہو تو کم سے کم اس کو اپنے اور اپنے بال بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے خرچ کیجئے ، بچوں کو اعلی تعلیم دلائیے ، صنعتیں لگائیے ، دوکانیں کھولیے اور کار خانے قائم کیجئے ، تاکہ ان پیسوں سے آپ کا مستقبل سنور سکے ، کچھ غریبوں کے لیے روزی روٹی کا سامان میسر آئے اور ذلت و پستی کا طعنہ کھانے والی امت کا سر بھی بلند ہو۔
انسانوں کے ساتھ ظلم کی جو صورتیں مروّج ہیں ، ان میں دو باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں ، ایک تو شادی بیاہ کے موقع سے لین دین ، صرف حیدرآباد شہر میں ہی ہزاروں لڑکیاں ایسی موجود ہیں جن کی عمریں 30سال سے زیادہ ہو چکی ہیں ، اور ان کی شادی نہیں ہوئی ہے ، وہ تعلیم یافتہ بھی ہیں ، ہنر مند اور سلیقہ شعار بھی ہیں ، شکل و صورت کی بھی بری نہیں ہیں ، ان کا صرف ایک قصور ہے کہ وہ غریب ہیں ، دولت مند نہیں ، ان کا دامن مال سے خالی ہے ، اس جرمِ بے گناہی کی سزا انھیں اس طرح مل رہی ہے کہ ان کی جوانیاں گذر گئیں یا گذرنے کو ہیں اور ان کے ہاتھ پیلے نہیں ہو سکے۔
جب قحبہ گری کے خلاف چھاپے پڑتے ہیں اور جوان لڑکیاں پکڑی جاتی ہیں تو ایسے واقعات پر لعن و طعن کی جاتی ہے ، جب بیرونِ ملک کے معمر شہریوں سے کمسن لڑکیوں کے نکاح کا واقعہ پیش آتا ہے تو یہ میڈیا کا موضوع بن جاتا ہے اور کبھی ان معمر مردوں کو اور کبھی ان کمسن بچیوں کے والدین کو کوسا جاتا ہے ، لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ یہ واقعات کیوں ظہور میں آتے ہیں ؟ اس میں جتنا قصور ان لڑکیوں کا یا ان کے والدین کا ہوتا ہے ، اس سے زیادہ قصور ظالم سماج کا ہے ، جس نے لڑکی والوں سے بے جا مطالبات کی رسم کو تقویت پہنچائی ، ور نہ کون ماں باپ اپنی پھول جیسی بچیوں کو بے رحم مستقبل کے حوالہ کرنے کو تیار ہو سکتا ہے اور کون شریف لڑکی ہے جو باعزت اور آبرو مندانہ زندگی کی خواہش مند نہیں ہوتی ؟ اس لیے نوجوان اس بات کا ارادہ کریں کہ وہ اپنا نکاح سنت کے مطابق انجام دیں گے ، گھوڑے جوڑے اور جہیز کی بھیک لینے کے بجائے اپنی قوتِ بازو پر بھروسہ کریں گے ، اور اپنی محنت سے اسبابِ زندگی حاصل کریں گے ، عمر رسیدہ اور بوڑھے سر پرستان بھی اس بات کا عزم کریں کہ وہ اپنے بچوں کا نکاح سنت کے مطابق انجام دیں گے اور عمر کے اس مرحلہ میں ظلم و جور کے اس گناہ سے اپنے دامن کو بچا کر رکھیں گے ، جس سے ان کی آخرت تباہ ہوگی اور جس سے خود ان کی ذات کو کوئی نفع حاصل نہیں ہو گا۔
دوسرا ظلم جو ہمارے معاشرہ میں عام ہے ، وہ لڑکیوں کو میراث سے محروم کرنا ہے ، ہمارے معاشرہ میں یہ بات بھی عام ہو چکی ہے کہ بھائی ، بہنوں کو میراث میں حصہ دینے سے محروم رکھتے ہیں ، یہاں تک کہ خود باپ بھی لڑکیوں کو اپنی جائیداد میں کچھ دینا نہیں چاہتے اور خیال کرتے ہیں کہ شادی میں جو کچھ ان کو دے دیا ہے ، وہی کافی ہے ، یہ قرآن کے حکم کی کھلی خلاف ورزی ہے ، قرآن مجید نے عورت کو بحیثیت ماں ، بحیثیت ِبیٹی ، اور بحیثیت ِبیوی میراث کا لازمی حقدار قرار دیا ہے اور بعض صورتوں میں بہنیں اور دوسری رشتہ دار خواتین بھی وارث بنتی ہیں ، یہ حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے میراث کا قانون بیان کرنے کے بعد ’فریضة من اللہ‘ کی تعبیر اختیار فرمائی ہے۔
جو لوگ حقیقی وارث ہوں ان کو حق نہیں دینا اور ان کے حصے کو بھی اپنے تصرف میں لے آنا کھلے طریقہ پر حرام مال کو کھانا اور اپنے مال میں حرام کو شامل کرلینا ہے ، افسوس کہ بظاہر دیندار نظر آنے والے حضرات بھی ان گناہوں میں مبتلا ہیں۔(مولاناخالدسیف اللہ رحمانی کی تحریرسے اقتباس)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*