کیسا آئے پیسہ ؟

مولانا مقصود الحسن فیضی (سعودی عرب )

عن ابی ھریرة ص عن النبی صلى الله عليه وسلم  یا تی علی الناس زمان لایبالی المرأ ما أخذ أمن الحلال ام من الحرام ۔( صحیح البخاری :2083 ، البیوع )

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ  رضى الله عنه سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : ”لوگوں پر ایک زمانہ ایسا ضرور آئے گا کہ آدمی کو اس کی پرواہ نہیں رہے گی کہ وہ مال کہاں سے لے رہا ہے ، ایا حلال ذریعہ سے یا حرام ذریعہ سے۔“

تشریح :مال انسانی زندگی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، انسان کی معاشیات و معاشرت کے سارے امور وجود مال کے مرہون منت ہیں، آدمی مال ہی سے اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہے ۔ جس کے پاس مال نہیں اس کی زندگی مشکل بلکہ مشکل ترین ہوجاتی ہے ، اسی لیے اسلام نے مال کمانے پر ابھارا ہے ، ارشاد نبوی ہے : ” نیک مال مرد صالح کے لیے کیا ہی خوب ہے “(مسند احمد ) ” لیکن اس کے لیے اسلام نے شرط یہ لگائی ہے کہ وہ مال حلال ہو اور حلال ذریعہ سے حاصل کیا گیا ہو کیونکہ اللہ تعالی پاک ہے ، اور پاک ہی چیز کو قبول فرماتا ہے ۔
[ صحیح مسلم ]۔لیکن بدقسمتی سے شیطان کے ورغلانے کی وجہ سے طیب اور حلال ذرائع کسب کو چھوڑ کر انسان نے متعدد حرام اور ناجائز ذرائع اختیار کر رکھے ہیں ، حتی کہ مسلمانوں نے بھی اس بارے میں کافروں کی ہم نوائی کرلی ہے ، آج ان کے درمیان حرام کمائی کے نت نئے ذرائع ظاہر ہورہے ہیں ، اور وہ ذرائع اس قدر عام ہوچکے ہیں کہ اپنے دین و ایمان پر حریص مسلمان کے لیے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا مشکل ہوچکا ہے ، جیسے سود ، رشوت ، جوا ، جھوٹ بول کر سودا بیچنا ، سامان کے عیب کو چھپانا ، امانت داری سے ڈیوٹی نہ دینا ، مزدور کا حق مارنا ، مال عام سے چوری کرنا اور اس میں خیانت کرنا بلکہ ایک عام طریقہ یہ رائج ہے کہ کسی دکان یا کمپنی سے سامان سو ریال کا لینا اور بل سو سے زیادہ کا بنوانا، اسی طرح خریدار کو کمیشن دینا تاکہ سودا اسی کے یہاں سے خرید ے خواہ وہ دوسروں کے مقابلے میں مہنگا ہی بیچ رہا ہو ، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے سینکڑوں غیر شرعی اور حرام ذرائع معاشرے میں عام ہیں اور صورت حال یہاں تک پہنچی ہے کہ عام لوگوں کے نزدیک حرام و حلال کی تمیز ختم ہوچکی ہے ،لوگوں کا تصوریہ ہوگیا ہے کہ ہمارے جیب میں مال آنا چاہئے ، ہماری تجارت چلنی چاہئے ، ہمیں مزدوری پوری ملنی چاہئے خواہ اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے ، ایسے ہی حالات کا ذکر زیر بحث حدیث میں وارد ہے کہ ایک وقت ایسا ضرور آنے والا ہے کہ انسان کی روح ایمانی ختم ہوجائے گی ،وہ یہ نہ دیکھے گا اور نہ تلاش کرے گا کہ یہ مال جو ہمیں مل رہا ہے کیا یہ حلال ہے یا حرام ہے بلکہ اس کی کوشش یہ ہوگی کہ اسے مال ملے اور اس کے اکاونٹ میں اضافہ ہو خواہ اس کا ذریعہ کوئی بھی ہو۔
واضح رہے کہ نبی کریم اکا یہ فرمان بطور خبر کے نہیں ہے بلکہ بطور تنبیہ کے ہے کہ قیامت سے پہلے ایسا ضرور ہوگا البتہ ایک مسلمان کو چاہئے کہ اس سے پرہیز کرے اور اس سے بچتا رہے ، اور اپنے پاس آنے والے روپیہ پیسہ اور کھانے پینے کی چیزوں کے بارے میں سوچے اور تحقیق کرے ، کیونکہ اللہ تعالی نے حلال کمائی کے اتنے ذریعے رکھے ہیں جو انسان کو حرام ذرائع سے بے نیاز کرتے ہیں۔
فوائد :
٭ حرام ذریعہ سے کمایا ہوا مال حرام اور عذاب الہی کا سبب ہے ۔
٭ کسی بھی زمانے میں حلال ذرائع کسب مفقود نہ ہوں گے لہذا مسلمان پر واجب ہے کہ انہیں
ڈھونڈے اور تلاش کرے۔
٭نبی کریم اکا معجزہ ہے کہ آپ نے جیسا فرمایا آج وہی صورت حال درپیش ہے۔
٭حرام ذرائع کمائی کا عام ہونا قیامت کی ایک نشانی ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*