جس نے گلوں کو نوچ کے پھینکا وہ گلشن کا مالی ہے

اعجازالدین عمری (کویت)
amagz@ymail.com

اللہ رکھی کا تعلق سرزمین پاکستان سے ہے۔ وہ ایک قبول صورت خاتون ہے، کسی زمانے میں اسے پورے خاندان میں خوبصورت لڑکی مانا جاتا تھا ۔ مگر پچھلے بتیس سالوں سے وہ غیرتو غیر ، اپنوں سے بھی اپنا چہرہ چھپاتی رہی ہے ۔ کیونکہ بتیس سال قبل اس کے شوہر غلام عباس نے اس کی ناک کاٹ ڈالی تھی۔ پچھلے دنوں کسی پاکستانی ڈاکٹر نے ایک کامیاب آپریشن کے ذریعہ اس کی کٹی ہوی ناک درست کردی ہے ۔مگرمسلسل بتیس سال تک جسمانی اور ذہنی اذیتوںکی یاد اس کے دل میں انمٹ نقوش بنا چکی ہے ۔
پچھلے دنوں ایک عورت ہندوستان سے کویت آئی ۔ اس کی ایک سے زائد بیٹیاں اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ یہاں سکونت پذیر ہیں۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ تھی جب وہ اپنی ایک بیٹی کے گھر گئی۔ اس کی پھول سی جوانی مرجھا چکی ہے ۔اس کے بکھرے بال ، دھنسی ہوی آنکھیں اوربوسیدہ کپڑے اس کی حالت زار کی کہانی سنارہے تھے ۔ گھر میں قبرستان کا سناٹا تھا ۔ خانہ¿ خراب میں نہ بستر کا کوئی اہتمام تھا اور نہ دستر کا کوئی سلیقہ۔ حیرت تو اس بات پر ہوی کہ میاں صاحب کے’ حرم ‘ میں اس مجبور عورت کوکھانے پینے کی بھی مکمل آزادی حاصل نہیں ہے ۔ شوہر کی لاپرواہی نے اسے تنہائی کے غار میں دھکیل دیا تھا۔وہ اندر سے پوری طرح ٹوٹ چکی ہے ۔ اس پر ستم یہ کہ وہ کسی سے اپنے سوز دروں کا اظہار بھی نہیں کر سکتی۔ اس کے لب سی دئے گئے ہیں

ان کی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پر ہنسی
قصہ¿ غم کہتے کہتے ہم یہاں تک آ گئے

یہ دونوں واقعات محض دو مثالیں ہیں ورنہ ہمارے سماج میں ہزاروں اللہ کی بندیاں ہیں جن کی زندگیاں کرب و الم کی داستان سناتی ہیں ۔ وہ اپنے شوہروں کے گھروں میں گھٹ گھٹ کر جی رہی ہیں ۔ ان کی آنکھوں کے سامنے سدا کی تاریکی چھائی رہتی ہے ۔ ان کے چہروں پر ہر دم خوف ووحشت کی پرچھائی رہتی ہے ۔ لاچاری و بے بسی ایسی کہ کسی کی بیوی بن کر بھی وہ خود کو بے آسرا اور بے سہارا سمجھتی ہیں ۔
ہمارے سماج میں بہت سے ایسے ”مرد“ بھی ہیں جو سماج میں محترم و مکرم مانے جاتے ہیں ۔ ہر کس و ناکس کی زبان پر ان کی شرافت کا چرچا سنا جاسکتا ہے ۔ لوگ ان کی ملنساری اور انکساری ، خوش گوئی و خوش مزاجی کو مورد داد و تحسین سمجھتے ہیں۔وہ اپنے خوبصورت و بیش قیمت لباس سے لوگوں کے درمیان اپنی شخصیت کے عیوب کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مگر یہی محترم و مکرم جب گھر کے دہلیز پر قدم رکھتے ہےں تو وہ بد ترین سماجی جانور کا روپ دھار لیتے ہےں ۔ وہ انسانی شکل میں چھپے بھیڑیے بن جاتے ہیں ۔اور وہ اپنی بیویوں کی عزت نفس پرچوٹ کرتے ہیں ۔ ان کے ارمانوں کا خون کرتے ہےں۔ اور ان کے حقوق کو نوچ نوچ کر کھاجاتے ہےں ۔ شاید سچ یہی ہے کہ یہی ان کا اصل چہرہ ہے جسے وہ گھر کے باہر لوگوں کے درمیان اپنے لباس عزت و شرافت سے چھپا رکھتے ہیں اور گھر کا دروازہ بند ہوتے ہی وہ اس لباس ظاہر کو اتار پھینکتے ہیں۔ وہ اپنی بیویوں کو ہمیشہ جسمانی اور نفسیاتی عذاب میں مبتلا رکھتے ہیں ۔اور زندگی کی کال کوٹھریوں میں بند یہ نسوانی وجود لذت حیات سے محروم ہوا جاتا ہے ۔ ان عورتوں کی نگاہیں ”رعنائی حیات “ کو ترستی رہتی ہیں ۔ وہ جن کی زندگیاں آنسووں کی نذر ہوچکی ہو وہ جائیں تو کدھر جائیں اور کریں تو کیا کریں

یہ کتنے پھول ٹوٹ کر بکھر گئے یہ کیا ہوا
یہ کتنے پھول شاخچوں پہ مر گئے وہ کیا ہوے

ایک لڑکی نہ جانے انہیں اپنے پلکوںپرکیسے کیسے حسین خواب سجاتی ہے،نہ جانے دل میں ارمانوں کے کتنے پھول کھلاتی ہے جب اس کا ہاتھ کسی اجنبی کے ہاتھ میں عمر بھر کی رفاقت کے لیے تھمادیا جاتا ہے ۔
انہوں نے اپنے شریک حیات کا ہاتھ تھاماتھا کہ ان کے پہلو بہ پہلو قدم سے قدم ملاکر چلیں اور زندگی کی خوش بختیوں کو اپنے دامن میں سمیٹیں ۔ ان کے کاندھوں پر سر رکھ کرزندگی کی رنگا رنگیوں کا نظارہ کرنے کی تمنا لے کر وہ میکے سے رخصت ہوتی ہیں ۔ اپنوں کی جدائی کو برداشت کرتی ہیں کہ انہیں باہوں میں لینے والا ان کا رفیق سفرجولانگاہ حیات میں منزل تک ان کا سہارا بنے گا مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
میاں بیوی کا رشتہ یہ دنیا کا واحد رشتہ ہے جو قانون کے نازک دھاگے سے بندھا ہوتا ہے ۔ وہ جتنا نازک ہوتا ہے اتنا ہی جذباتی بھی ہوتاہے ۔اور شاید دنیا کا یہی وہ واحد قانونی رشتہ ہے جس پر محبت اور الفت غالب آتی ہے تو بسا اوقات اس کی قانونی حیثیت نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ اس رشتہ کی استواری پر ایک خاندان اپنے نظام کی کاملیت اور کامیابی کی ضمانت حاصل کرتا ہے ۔ میاں بیوی کی باہمی الفت و محبت ہی اس رشتے کو پائداری عطا کرتی ہے ۔

جو مرحلوں میں ساتھ تھے وہ منزلوں پہ چھٹ گئے
جو رات میں لٹے نہ تھے وہ دوپہر میں لٹ گئے
مگن تھا میں کہ پیار کے بہت سے گیت گاوں گا
زبان گنگ ہوگئی گلے میں گیت گھٹ گئے

دو اجنبی مرد اور عورت اس رشتہ کے ذریعہ آپس میں ایک دوسرے پر جان چھڑکنے والے بن جاتے ہیں ۔ زندگی کی نئی راہوں اور نئی سمتوں کا سفر یہاں سے آغاز پاتاہے ۔ حیات بشر کی معنویت میں جدت آتی ہے اور سکون و راحت کا ایک نیا احساس وجود پاتا ہے ۔
قرآن مجید میں کتنے خوبصورت پیرائے میں شادی کے مقصد کو اجاگر کیا گیا ہے
”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی “ ( (الروم :21 ترجمہ از تفہیم القرآن)
یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ مسلم گھرانوں میں یہ محبت اور رحمت ناپید ہوتی جارہی ہے ۔ ہمیں تو اس بات کی تعلیم دی گئی تھی کہ ”وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو“ ۔ (البقرة)
آخر اس جسم اور لباس کے درمیان اتنا فاصلہ کیونکر آگیا ہے کہ رشتہ¿ زوجیت کا مطلب ہی غیر ہوکر رہ گیا
ہم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی میں شامل ہیں ۔ آپ کی تعلیمات ہمیں دل اور جان سے زیادہ عزیز ہیں ۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم (معاذاللہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے روگردانی کریں اور ہماری مسلمانی بھی باقی رہے ؟ آپ فرمایا کرتے تھے :” تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہے ۔ (مجھے دیکھو) میں اپنے گھر والوں کے لیے (سب سے )بہتر (سلوک کرنے والا) ہوں۔“ (ترمذی کی روایت سے ماخوذ)
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کامل ایمان والے تو وہی ہیں جو بہترین اخلاق کے مالک ہیں۔ اور تم میں سب سے بہتر وہی ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں ۔“ (ترمذی کی روایت سے ماخوذ)
اپنے آخری تاریخی خطبہ میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ” عورتوں کے(حقوق کے ) سلسلے میں اللہ سے ڈرو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تم نے انہیں اللہ کے امان میں حاصل کیا ہے ۔ اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی وضاحت بھی کردی ہے کہ اگر وہ کسی فحش کی مرتکب ہوتی ہیں تو انہیں مارا بھی جاسکتا ہے مگر اس طرح کہ ان کے جسم پر سخت چوٹ نہ آئے ۔
سورة النساءمیں اللہ تعالی فرماتا ہے :” مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاو¿۔ خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہواور مارو۔پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو۔ یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجودہے جو بڑا بالا اور برتر ہے “(34)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں یہ بھی فرمایا تھا کہ عرف کے مطابق بیویوں کو کھلانا اور ان کے لباس کا اہتمام کرنا مردوں کی ذمہ داری ہے ۔
ایک مرتبہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحا بہث کو تعلیم دیتے ہوے فرمایا تھا کہ ” اللہ کی بندیوں کو مت مارو “
دوسرے روز حضرت عمرص آپ کے حضور تشریف لائے اور شکایت کی کہ ” عورتیں اپنے شوہروں پر بیباک ہوگئی ہیں“ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایسی عورتوںکو) سرزنش کرنے کی چھوٹ دے دی ۔ پھر یہ ہواکہ حرم نبوی میں اپنے شوہروں کی زیادتی کی شکایت لے کر پہنچنے والی خواتین کا تانتا لگ گیا ۔ یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی جماعت کو خطاب کرکے فرمایا ”کل رات ایک بڑی تعداد میں خواتین نے اپنے اپنے شوہروں کی شکایت لے کر آلِ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے درپر دستک دی ہے ، (یقین رکھوکہ ) وہ (اپنی بیویوںپر زیادتی کرنے والے) اچھے لوگ نہیںہیں ۔ (ابو داود، ابن ماجہ اور نسائی کی روایت سے ماخوذ )
عورت اس لیے بھی مردوں کی شفقت و رحمت کی محتاج ہے کہ وہ بناوٹ اور تخلیقی اعتبار سے بھی کمزور ہے ۔ مردوں کی سنگدلی اور زور زبردستی کی وہ تاب نہیں لا سکتی ۔ وہ نرمی اور پیار کی مستحق ہے ۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوے فرمایا ہے ” عورت کو پسلی سے بنایا گیا ہے ، کسی ایک طریقہ پر اس کا رویہ درست نہیں رہ سکتا۔ اگر تمہیں اس سے فائدہ اُٹھاناہے تو اس کی اس کجی کے ساتھ ہی ممکن ہے ۔ اگر اس کجی کو درست کرنے جاو¿گے تو اسے توڑدو گے ۔ اور اس کو توڑنے کا عمل طلاق پر ختم ہوگا“ (مسلم کی روایت سے ماخوذ)
ایک روایت میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کوئی مومن مرد کسی ایمان والی (بیوی) سے نفرت نہ کرے ، اگر ا س کی کوئی عادت اس کو ناپسند ہو تو اس کی دوسری کوئی عادت پسند آجائے گی“ (مسلم کی روایت سے)
صحیحین کی ایک روایت میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر دست درازی پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوے فرمایا ” کیا (یہ کوئی اچھی بات ہے کہ) تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو زد و کوب کرے جس طرح (زمانہ¿ جاہلیت میں) غلام کو پیٹاجاتا ہے ۔ تم اول النہار میں انہیں مارتے ہو اور دن ختم ہوتے ہوتے انہیں سے ہمبستری کرتے ہو( کیا یہ سوچ کر تمہیں شرم نہیں آتی؟)
یہ مردوں پر ان کی بیویوں کا حق ہے کہ وہ جب کھائیں تو انہیں بھی کھلائیں اور وہ جب پہنیں تو انہیں بھی پہنائیں، ان کے چہرے پر نہ ماریں ، ان کو برا نہ کہیں، (اگر کبھی ان سے دوری اختیار کرنا ضروری سمجھتے ہیںتو ) گھر کے اندر ہی دوری رکھیں ، کہیں اور نہیں (ابو داودکی روایت سے ماخوذ)
یہ جان لیں کہ آپ کی بیوی آپ کے بھروسے اپنوںکو اور خون کے رشتوں کو چھوڑ کر آئی ہے ۔اب اللہ تعالی کے بعد صرف آپ ان کا سہارا ہیں۔ وہ آپ کی محبت ، اپنائیت اور انسیت کی محتاج ہے۔ آپ ہی اس کی تنہائی کے دوست ہیں۔ اس نے آپ سے وفا کی امید باندھی ہے ۔ خدارا اسے مایوس نہ کریں ۔ اس پر رحم کھائیں کہ اسے اس کی ضرورت ہے ۔ اگر آپ ان کے دل کی دھڑکنیں سن سکتے ہیں تو آپ کو یہی آواز آئے گی کہ

تم ہاتھ بڑھاکر تو دیکھو ہم ساتھ کہاں تک دیتے ہیں
غمخوار ہو کوئی ساتھ اگر تو مشکل رستے کٹ جاتے ہیں

اس بحث کو ختم کرتے ہوے ایک بات نہایت سنجیدگی کے ساتھ ہم آپ کو بتانا چاہیں گے کہ عزت نفس جس طرح مردوں میں اہمیت رکھتی ہے ،خواتین میں بھی اس کی اسی قدر اہمیت ہوتی ہے ۔ اگر کوئی مرد اپنی عورت کے بدن کو تو اہمیت دیتا ہو مگر اس کی عزت نفس کی اسے کوئی پرواہ نہ ہو تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ اپنی عورت کا اعتماد حاصل کرے ۔گھر یہیں سے جہنم زار بن جاتا ہے ۔ یہ بے چھتوں والا گھر ہوتا ہے جہاں رحمت و راحت کا فقدان ہوتا ہے ۔ کسی بھی شخص کی زندگی میں شاید ہی کوئی چیز ”عزّت نفس“ سے بڑھ کر بیش قیمت ہو۔ اے کاش ہمارے سماج کے سارے مرد و زن اس بات کو جان لیتے اور اسے ازبر کر لیتے۔
جب عورتوں نے اس بارے میں غفلت برتی تو سماج کے مرد بے راہ روی کے شکار ہوگئے ۔ اور مردوں نے اس کے تئیں کوتاہی کی تو ہمارا پورا خاندانی نظام درہم برہم ہوگیا، گھر اجڑگیا اور بچے بے یقینی کے شکار ہوگئے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*