تفسیر آیت الکرسی

 صفات عالم تیمی (کویت)

ترجمہ: ”اللہ ہی معبودبرحق ہے جس کے سوا کوئی معبودنہیں،جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے،جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند،اس کی ملکیت میں زمین وآسمان کی تمام چیزیں ہیں، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے،وہ جانتا ہے جو اس کے سامنے ہے اورجو اس کے پیچھے ہے اوروہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے، مگرجتنا وہ چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے،وہ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا اورنہ اکتاتا ہے، وہ تو بہت بلنداوربہت بڑا ہے۔“

(سورة البقرة255 )

تشریح: قرآن کریم کی ساری آیات میں سب سے بہتر،سب سے عظیم اور سب سے افضل آیت ’آیت الکرسی‘ ہے۔ایک روز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا :”ابوالمنذر! کیاتم جانتے ہو کہ قرآن کریم کی کونسی آیت سب سے عظیم ہے ؟“ کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ اور اسکے رسول زیادہ علم رکھتے ہیں ۔آپ نے پھر پوچھا:”ابوالمنذر!کیاتم جانتے ہو کہ قرآن کریم کی کونسی آیت سب سے عظیم ہے ؟کہتے ہیں ،میں نے کہا: اللّہُ لا اله الا هو الحي القيوم تواللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اورفرمایا: ”ابوالمنذر! تجھے علم مبارک ہو “۔(مسلم)
جوشخص فرض نماز کے بعد اس کی تلاوت کرتاہے وہ دوسری نماز تک اللہ کے حفظ وامان میں آجاتاہے،بلکہ اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہونے کا مستحق بن جاتاہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من قرأ آیة الکرسی دبرکل صلاة مکتوبة لم یمنعہ من دخول الجنة الا ان یموت ”جس نے ہرنماز کے بعد آیت الکرسی پڑھا اسے جنت میں داخل ہونے سے موت ہی روک سکتی ہے“۔
(نسائی ،وصححہ الالبانی فی صحیح الترغیب والترہیب 1595)
یہ آیت جن وشیاطین کے شر کے سامنے ڈھال کی سی حیثیت رکھتی ہے ،شیخ الاسلام ابن تیمیة نے فرمایاکہ ”آیة الکرسی جادوگروںکے جادواور شعبدہ بازوںکی شعبدہ بازی کے ابطال کے لیے مجرب نسخہ ہے “۔جوشخص اس آیت کا اہتمام کرتاہے شیطان کے شرسے دورہوجاتا ہے اور اللہ کے حفظ وامان میں آجاتا ہے ،صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی مشہورروایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کوصدقہ فطر کی نگرانی پر مامورکیاتھا ،ان کے پاس رات میں لگاتار تین روز تک ایک شخص آتا رہا اور صدقہ فطر سے چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا،لیکن ہررات اس نے اپنے فقروفاقہ کی شکایت کی تو ابوہریرہ ؓنے اس پررحم کھاتے ہوئے معاف کر دیا،تیسرے روز اس نے ایک نسخہ بتایاکہ جب تم بستر پرسونے کے لیے جاو¿ توآیت الکرسی پڑھ لو ،صبح تک اللہ کی طرف سے تیری حفاظت ہوتی رہے گی اورشیطان تیرے قریب نہ آسکے گا ۔ ابوہریرہؓ نے جب یہ ماجر ا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اما انہ قدصدقک وھوکذوب ” اس نے تجھ سے سچ کہا لیکن وہ جھوٹاہے“ پھر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تین روزتک تمہارے پاس جوشخص آتارہا وہ دراصل شیطان تھا ۔(بخاری ) گویاشیطان نے اعتراف کیا کہ اللہ کی جناب میںاس کے شر سے پناہ حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ آیت الکرسی ہے۔
اس آیت کریمہ کی اس قدر اہمیت وفضیلت اسی لیے ہے کہ یہ اللہ تعالی کی قدرت وعظمت،اس کی وحدانیت اور صفات جلال پر مبنی نہایت جامع آیت ہے ، شرح صحیح مسلم میں امام نووی ؒنے فرمایا: ”علماءکہتے ہیں کہ آیت الکرسی دوسری آیتوں سے ممتازاس لیے ہے کہ یہ اسماءوصفات کے بنیادی اصول الوہیت ،وحدانیت ،زندگی ،علم ،ملک،قدرت اورارادہ پر مشتمل ہے ،اوریہ سات چیزیں اسماءوصفات کی اساس ہیں۔“ اسی بنیادپر اس کو پڑھنے ،صبح وشام کے اوقات میں اسے اپنا وظیفہ بنانے،سوتے وقت اور پنجوقتہ نمازوںکے بعد اس کا اہتمام کرنے کی بیحد ترغیب دلائی گئی ہے ۔ (جاری)

1 Trackback / Pingback

  1. تفسیر آیت الکرسی (۲) | ماہنامہ مصباح (کویت)

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*