رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم غیرمسلم دانشوروں کی نظر میں

محمدصلی اللہ علیہ وسلم دراصل سالارِ اعظم تھے۔ آپ نے اہلِ عرب کو درسِ اتحاد دیا۔ ان کے آپس کے تنازعات ومناقشات ختم کیے۔ تھوڑ ی ہی مدت میں آپ کی امت نے نصف دنیا کو فتح کر لیا۔15سال کے قلیل عرصے میں لوگوں کی کثیر تعداد نے جھوٹے دیوتاوں کی پرستش سے توبہ کر لی۔ مٹی کی بنی ہوئی دیویاں مٹی میں ملادی گئیں ، بت خانوں میں رکھی ہوئی مورتیوں کو توڑ دیا گیا۔ حیرت انگیز کارنامہ تھا رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلمکی تعلیم کا کہ یہ سب کچھ صرف پندرہ ہی سال کے عرصے میں ہو گیا۔ جبکہ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام پندرہ سوسال میں اپنی امتوں کو صحیح راہ پر لانے میں کامیاب نہ ہوئے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم عظیم انسان تھے۔ جب آپ دنیا میں تشریف لائے اس وقت اہل عرب صدیوں سے خانہ جنگی میں مبتلا تھے۔ دنیا کے اسٹیج پر دیگر قوموں نے جو عظمت وشہرت حاصل کی اس قوم نے بھی اس طرح ابتلاءومصائب کے دور سے گزر کر عظمت حاصل کی اور اس نے اپنی روح اور نفس کو تمام آلائشوں سے پاک کر کے تقدس وپاکیزگی کا جوہر حاصل کیا۔

(فرانس کے عظیم جرنیل نپولین بوناپارٹ )

اسلام نے تمام دنیا سے خراج تحسین وصول کیا جب مغرب پر تاریکی اور جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ اس وقت مشرق سے ایک ستارہ نمودار ہوا۔ ایک روشن ستارہ جس کی روشنی سے ظلمت کدے منور ہوگئے۔ اسلام دین باطل نہیں ہے ، ہندوو¿ں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی میری طرح اس کی تعظیم کرنا سیکھ جائیں میں یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام نے بزورِ شمشیر سرفرازی اور سربلندی حاصل نہیں کی بلکہ اس کی بنیاد نبی کا خلوص ، خودی پر آپ کا غلبہ ، وعدوں کا پاس ، غلام ، دوست اور احباب سے یکساں محبت۔ آپ کی جرا¿ت اور بے خوفی اللہ اور خود پر یقین جیسے اوصاف تھے۔ لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ اس کی فتوحات میں یہی اوصاف حمیدہ شامل ہیں اور یہی وہ اوصاف ہیں جن کی مدد سے مسلمان تمام پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود پیش قدمی کرتے چلے گئے۔

                                            (موہن چند کرم داس گاندھی )

میں نے ان سو آدمیوں کا تذکرہ کیا جنہوں نے تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں سب سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے بعض لوگ حیران ہوں گے لیکن اس کی میرے پاس ایک ٹھوس دلیل موجود ہے۔ کائنات میں جتنی بھی ہستیاں آئیں اگر ان کے حالات پڑ ھتے ہیں تو وہ ہمیں اپنے بچپن سے لڑ کپن میں کسی نہ کسی استاد کے سامنے بیٹھے تعلیم پاتے نظر آتے ہیں ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان تمام ہستیوں نے پہلے مروجہ تعلیم حاصل کی اور پھر اس کو بنیاد بنا کر انہوں نے زندگی میں کچھ اچھے کام کر دکھائے لیکن دنیا میں فقط ایک ہستی ایسی نظر آتی ہے کہ جس کی زندگی کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو پوری زندگی کسی کے سامنے شاگرد بن کر بیٹھی نظر نہیں آتی۔ وہ ہستی محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے دنیا سے علم نہیں پایا بلکہ دنیا کو ایسا علم دیا کہ جیسا علم نہ پہلے کسی نے دیا اور نہ بعد میں کوئی دے گا۔ لہذا اس بات پر میرے دل نے چاہا کہ جس شخصیت نے ایسی علمی خدمات سرانجام دی ہوں میں غیر مذہب کا آدمی ہونے کے باوجود ان کو تاریخ کی سب سے اعلیٰ شخصیات میں پہلا درجہ دوں۔

(ڈاکٹر مائیکل ایچ ہارٹ )

میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ آپ عیسائیوں کے دشمن تھے، میں نے اس حیرت انگیز شخصیت کی سوانح مبارک کا گہرا مطالعہ کیا ہے میری رائے میں آپ پورے بنی نوع انسان کے محافظ تھے۔

(جارج برناڈ شاہ )

رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے کل تک تو پہنچنا مشکل ہے البتہ یہ محمدجرنیل ہیں ، یہ محمد بادشاہ ہیں ، سپہ سالار ہیں ، تاجر ہیں ، داعی ہیں ، فلاسفر ہیں ، مدبر ہیں ، خطیب ہیں ، مصلح ہیں ، یتیموں کی پناہ گاہ ہیں ، عورتوں کے نجات دہندہ ہیں ، جج ہیں ، ولی ہیں۔ یہ تمام اعلیٰ اور عظیم الشان کردار ایک ہی شخصیت کے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت مثالی ہے۔

                                  ہندو پروفیسر راما کرشنا راو

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*