تعلیمات مصطفویہ

٭ دانا وہ ہے جو خودکو چھوٹا سمجھتا ہے اورکام وہ کرتا ہے جو مرنے کے بعد کام آئے ۔ نادان وہ ہے جو نفس کا کہنا مانتا ہے اوراللہ پر امیدیں باندھتا ہے۔

٭ پہلوان وہ نہیں جو لوگوں کوپچھاڑ دیتا ہے ،پہلوان وہ ہے جو نفس کو اپنے بس میں رکھتا ہے ۔
٭ غیرضروری کا م چھوڑدینا عمدہ دینداری ہے ۔
٭ حیاسراپا خیر ہے (شرم وحیا میں نیکی ہی نیکی ہے ) ۔
٭ صحت اور فراغت ایسی نعمتیں ہیں جو ہر ایک کو میسر نہیں ۔
٭ تواضع سے درجہ بلند ہوتا ہے ۔
٭ جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں ۔
٭ خیرات سے مال میں کمی نہیں آتی ۔
٭ اپنے بھائی کو طعنہ نہ دو ،ایسا نہ ہو کہ تم بھی اسی حال میں پھنس جاو¿ ۔
٭ لڑکیوں کی پرورش ایک امتحان ہے جواس میں پورا اُترا دوزخ سے بچا رہے گا ۔
٭ یتیم کی پرورش کرنے والا بہشت میں میرے ساتھ یوںرہے گا،جیسے ہاتھ کی دوانگلیاں۔
٭ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہ کیاجائے ۔
٭ ایک مومن دوسرے کے لیے آئینہ ہے ،اگر کسی بھائی میں کوئی نقص دیکھو تو اسے بتادو۔
٭ آپس کی محبت اورہمدردی میںدیوارسے مثال سیکھ ‘ جس کی ایک اینٹ دوسری کو مضبوط بناتی ہے ۔
٭ یہ مت کہو کہ اگرلوگ ہم سے اچھا برتاو  کریں گے تو ہم بھی اچھا برتاو¿ کریں گے ۔اوراگروہ ظلم کریں گے توہم بھی ظلم کریں گے بلکہ ایسی عادت بناو¿
کہ اگرلوگ تم سے اچھا برتاو¿ کریں توتم ان سے احسان کرو اوراگروہ تم سے برائی کریں توتم ان پر ظلم نہ کرو ۔
٭ جوکوئی علم کی تلاش میں چلتا ہے اس کے لیے بہشت کی راہ آسان ہوجاتی ہے ۔
٭ جو کوئی علم کو چھپاتا ہے اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی ۔

(انتخاب از’مہر نبوت‘ : علامہ قاضی محمد سلیمان منصورپوریؒ )

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*