عالمی خبریں

عظیم الشان مسجد کا افتتاح

اسٹرمبرگ: فرانس کے وزیر داخلہ مینوئیل والس نے شہر اسٹرمبرگ میں ایک عظیم الشان مسجد کا افتتاح کیاہے ، اس مسجد میں بیک وقت ڈیڑھ ہزار مصلی آسکتے ہیں۔فرانس کی تاریخ کی سب سے بڑی مسجد ہے اور اس ملک میں مسلمانوں کی آبادی چالیس لاکھ کے قریب ہے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تعارف کی عالمی مہم

قاہرہ:اخوان المسلمون کے نوجوانوں نے 30زبانوں میں ڈی وی ڈیز کی تقسیم کے ذریعہ دنیا بھر میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف کرانے کی مہم شروع کی ہے ۔ اس مہم کے دوران اسلام اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے پیام کی وضاحت کی جائے گی۔ساتھ ہی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے مختلف گوشوں کو تمام زبانوں میں اجاگرکریںگے،اخوان کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے واقف نہیں ہیں ،پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اچھی طرح پڑھیں ،اس کے بعد بات کریں۔

تاج عربیہ کی تعمیر

دبئی:دبئی اپنے دامن میں ہرانوکھی چیزوں کو پناہ دیناچاہتی ہے تاکہ مستقبل کا م¶رخ دبئی کی تاریخ سنہری حروف سے لکھ سکے۔ دبئی میں تاج محل کی نقل تیار کی جارہی ہے ، جس پر ایک ارب ڈالرکی لاگت آنے کا امکان ہے۔اس عمارت میں 300کمرے ہونگے ، جس میں شادیوں کی تقریبات منعقد کی جاسکیں گی۔ تاج عربیہ 2014ءمیں تیارہوجائے گی اور اس کا نام ”نیوسٹی آف لو “ہوگا۔اس عمارت کے اردگردخوبصورت باغات بنائے جائیں گے۔لیکن تاج عربیہ کے منتظمین کے نام یہ پیغام ہے کہ دنیامیں کروڑوں انسان بھوکوں مررہے ہیں اورلوگوں کوتاج عربیہ جیسی عمارت بنانے کی فکرہے ، کاش وہ قوم وملت اورانسانیت کی فکرکرتے۔

فرانسیسی گلوکارہ کا قبول اسلام

پیرس:فرانس جہاںحجاب پر پابندی عائد ہے ، گزشتہ دنوں فرانس کی ایک گلوکارہ نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیااوراپنے ہی ملک کی مقررہ پابندیوںکو نظر انداز کرتے ہوئے ایک ٹی وی چینل پر اسلامی حجاب میں نمودار ہوئی اوراپنے غیر مسلم مداحوں کو مایوس کردیا۔
ماضی کی معروف گلوکارہ میلنئی جارجیادیس المرعوف دیام سن 2009ءکے بعد سے ٹیلیویژن پرنہیں آرہی تھیں ۔
اس نے بتایاکہ میں نے قرآن پڑھ کر اور سمجھ کر اسلام قبول کیاہے ۔حجاب کے بارے میں اس کی رائے ہے کہ یہ ایک شرعی حکم ہے اور اس کی تعمیل کرتے ہوئے انہیں بے انتہا اطمینان ومسرت حاصل ہورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ اللہ کے آگے سجدہ ریز ہونے سے انہیں جوقلبی سکون حاصل ہوا وہ الفاظ میں بیان نہیں کرسکتیں۔ان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکنا چاہئے ، ویام سن نے کہاکہ اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ نفسیاتی اورذہنی تناکا شکار تھیںاس کے لیے انہوں نے نشہ آور ادویہ کابھی استعمال کیالیکن اب ان کی زندگی پوری طرح تبدیل ہوگئی ہے اوروہ ان عادتوں سے چھٹکارا حاصل کرچکی ہیں۔

پاکستان کی پہلی نابینا پی ایچ ڈی

کراچی:بینائی سے محروم کراچی میں مقیم ڈاکٹر فرزانہ سلیمان پوناوالا کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے، اس خاتون نے ہمت نہ ہاری اور تعلیمی میدان میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے آگے بڑھتی رہی ۔ وہ پیدائشی نابینا نہیں تھی بلکہ جب وہ آٹھویں کلاس میں تھی تو اسے ٹائیفائیڈ ہوااورحادثاتی طور پر نظر جاتی رہی یہاں تک کہ وہ نابیناہوگئی ۔ڈاکٹرفرزانہ فلسفے اوراسلامک اسٹڈیز میں ڈبل ایم اے اور پی ایچ ڈی ہیں ۔ انہیں گزشتہ سال تمغہ حسن کارکردگی مل چکاہے۔ گزشتہ بیس برسوں سے کراچی کے ایک کالج میں اسلامک اسٹڈیز کی لیکچرر ہیں۔ ڈاکٹرفرزانہ سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

جرمنی کا یہ انداز ہی نرالاہے

برلن: جرمنی کی بعض روایات میں سے ایک روایت یہ ہے کہ 3اکتوبرکو مساجد کے دروازے غیرمسلموں کے لیے کھول دئیے جاتے ہیں۔یہ روایت1997ءسے چلی آرہی ہے ۔ جرمنی میں43لاکھ سے زائد مسلمان ہیں ،500 کے قریب مساجد ہیں ، صرف دارالحکومت برلن میں 80 مساجد ہیں جن میں سے 20مساجد نے غیرمسلموں کے لیے اپنے دروازے کھولے تھے۔ اگر اسی بہانے دعوت کا کام کیاجائے تو اسلامی تعلیمات غیرمسلموں تک بآسانی پہونچائی جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹرعبدالحق انصاری کا انتقال

علی گڑھ: تحریک اسلامی ہند کی معروف شخصیت، ایک عظیم محقق، مصنف ، مدرس، اورقائد ڈاکٹرعبد الحق انصاری کاانتقال3 اکتوبر2012ءکو سہ پہر علی گڑھ میں حرکت قلب بند جانے سے ہوگیااور تدفین علی گڑھ ہی میں4 اکتوبرصبح نوبجے عمل میں آئی ،جنازہ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ ان کے انتقال پر سماج کے مختلف طبقات نے اظہار تعزیت کیا۔
مرحوم یوپی کے ضلع دیوریا موجودہ کشی نگرکے ایک غیرمعروف گا¶ںتمکوہی میں یکم ستمبر1931ءمیں پیداہوئے ، ابتدائی تعلیم گا¶ں میں ہی حاصل کی ، ہائی اسکول ، انٹرکی تعلیم گورگھپور، ثانوی درس گاہ رامپورسے عالمیت ،عربی میں بی اے ، ایم اے (فلسفہ )، اور 1962ءمیں پی ایچ ڈی (فلسفہ) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کیا، ڈاکٹریٹ کے حصول کے لیے امریکہ کا سفر کیاجہاں ہارورڈ یونیورسٹی سے 1972 ءمیں MTS کیا۔
تحقیق وتدریس کے فرائض انجام دینے کے لیے مختلف ملکوں میں قیام کیا، مثلاً، سوڈان کی مشہور یونیورسٹی ام درمان اسلامیہ، جامعة الامام محمد بن سعودریاض ،جامعة الملک فہد وغیرہ ۔ شانتی نیکیتن مغربی بنگال ، اور آخر عمرمیں آپ نے کالجزاور یونیورسیٹیز سے تعلیم یافتہ طلباءکو عربی زبان وادب کے ساتھ ساتھ اسلام کی تعلیم سے بہرہ ورکرنے کے لیے اسلامی اکیڈمی قائم کی ہے۔
1952ءمیں جب آپ ہائی اسکول میں تھے تواسی وقت سے جماعت اسلامی ہند کے رکن بنے ۔2003-2007 کے درمیان جماعت اسلامی ہند کے امیر رہے ۔آپ کی کل دودرجن سے زیادہ تصنیفات ہیں، پسماندگان میں: اہلیہ کے علاوہ ، چاربیٹیاں اور ایک بیٹاہے ۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*