خوشگوارزندگی کے رہنما اصول (آخرى قسط )

ڈاکٹر حافظ محمداسحاق زاہد (کویت )
hmishaq68@gmail.com

توکل:

وہ لوگ جن پر دشمن کی شرارتوں ، سازشوں اور ان کے ہتھکنڈوں کا خوف طاری رہتا ہو اور اس کی وجہ سے وہ سخت بے چین رہتے ہوں ان کی خوشحالی کیلئے خصوصا اور باقی تمام لوگوں کیلئے عموماً نواں اصول یہ ہے کہ وہ صرف اللہ تعالی پر توکل ( بھروسہ ) کریں کیونکہ اللہ تعالی ہی ہر شر سے بچانے والا ہے اور اس کے حکم کے بغیر بڑے سے بڑا طاقت ور بھی کسی کو کوئی نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہے۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں: ” آپ کہہ دیجئے کہ ہم پر کوئی مصیبت نہیں آ سکتی سوائے اس کے جو اللہ تعالی نے ہمارے لئے مقدر کر رکھی ہے ۔ وہی ہمارا سرپرست ہے اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے ۔ “[ التوبة : 51]
اور فرمایا : ” اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کر لے تو وہ اسے کافی ہے ۔ اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے ۔ “[ الطلاق : 3 ]
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی پر کامل توکل کرتے تھے جیسا کہ حضرت جابرصبیان کرتے ہیں کہ ہم نجد کی جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ کیلئے نکلے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہماری ملاقات اُس مقام پر ہوئی جہاں کانٹے دار درخت بہت زیادہ تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے اپنی سواری سے اترے اور اپنی تلوار اس کی ایک ٹہنی سے لٹکا کر سو گئے ۔ صحابہ کرام ث بھی اِدھر اُدھر بکھر گئے اور جہاں جس کو سایہ ملا وہ وہیں آرام کرنے لگا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان فرمایا کہ
” میں جب سویا ہوا تھا تو ایک آدمی میرے پاس آیا ۔ اس نے میری تلوار اٹھائی تو میں بیدار ہو گیا۔میں اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک ننگی تلوار سونتے ہوئے میرے سر پر کھڑا ہے ۔ اس نے مجھ سے کہا : یعنی آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ میں نے کہا : اللہ تعالی بچائے گا ۔ اس نے پھر کہا : یعنی آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ میں نے پھر بھی یہی کہا کہ مجھے اللہ تعالی ہی بچائے گا۔ پھر اس نے تلوار نیام میں کر لی ۔ اور دیکھو ! یہ ہے وہ شخص ۔ “ حضرت جابرصکا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ بھی نہ کہا ۔[ البخاری : 2913 ، 4139 ۔ مسلم : 843 واللفظ لہ ]
اس واقعہ سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کتنے مضبوط ایمان کے مالک تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی پر کس قدر اعتماد اور بھروسہ تھاکہ نیند سے بیدار ہونے کے بعد اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک دشمن کو تلوار بے نیام کئے ہوئے اپنے سر پر کھڑا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکمل طور پر مطمئن رہے اور کسی خوف کا اظہار نہیں فرمایا ۔ اور جب اس نے پوچھا کہ آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی اعتماد کے ساتھ جواب دیا کہ مجھے صرف اللہ تعالی ہی بچا سکتا ہے ۔
اسی طرح وہ لوگ جو بے روزگار ہوں یا مالی وکاروباری مشکلات سے دوچار ہوں ، انہیں بھی اللہ ہی پر توکل کرکے رزق حلال کے حصول کیلئے جدو جہد کرنی چاہئے ۔اس طرح اللہ تعالی ان کیلئے رزقِ وافر کے دروازے کھول دے گا اور مالی پریشانیوں سے نکال کر انہیں خوشحال بنا دے گا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : ” اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ کرو جس طرح بھروسہ کرنے کا حق ہے تو وہ تمھیں ایسے ہی رزق دے گا جیسے وہ پرندوں کو رزق دیتا ہے جو صبح کے وقت خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کے وقت پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔“[احمد والترمذی وابن ماجہ ۔ بحوالہ صحیح الجامع للالبانی : 5254]

قناعت :

کامیاب وخوشگوار زندگی کا دسواں اصول یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جس کسی کو جتنا رزق عطا کیا ہو وہ اس پر قناعت کرے اور ہرحال میں اس کا شکر ادا کرتا رہے ۔ اور بڑے بڑے مالداروں کو حسرت سے دیکھنے کے بجائے اپنے سے کم مال والے لوگوں کو اپنے مد نظر رکھے ۔ اس طرح اللہ تعالی اسے حقیقی چین وسکون نصیب کرے گا ۔ اور اگر وہ کسی جسمانی بیماری کی وجہ سے پریشان رہتا ہو تو بھی اسے ان لوگوں کی طرف دیکھنا چاہئے جو اس سے زیادہ مہلک اور موذی مرض میں مبتلا ہو کرہسپتالوں میں زیرِ علاج ہوں یا اپنے گھروں میں صاحبِ فراش ہوں۔ جب وہ اپنے سے کم مال والے لوگوں کی حالت اور اسی طرح اپنے سے بڑے مریضوں کی حالت کو دیکھے گا تو یقینا وہ اپنی حالت پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرے گا ۔ اس طرح اللہ تعالی اسے سکونِ قلب جیسی عظیم دولت سے نوازے گا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : ” تم اس شحص کی طرف دیکھو جو ( دنیاوی اعتبار سے ) تم سے کم تر ہو ۔ اور اس شخص کی طرف مت دیکھو جو ( دنیاوی اعتبار سے ) تم سے بڑا ہو کیونکہ اس طرح تم اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہیں سمجھو گے ۔ “ [ مسلم ۔ الزہد والرقائق : 2963 ]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی نسبت کم تر انسان کی طرف دیکھنے سے انسان اللہ کی ان نعمتوں کو حقیر نہیں سمجھے گا جو اس نے اسے عطا کررکھی ہیں ۔ اور ان میں تین نعمتیں ایسی ہیں جو کسی کے پاس موجود ہوں تو اسے یہ سمجھنا چاہئے کہ گویا اللہ تعالی نے اس کیلئے پوری دنیا جمع کردی ہے اور وہ ہیں : صحت ، امن اور ایک دن کی خوراک ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
” جو شخص اس حالت میں صبح کرے کہ وہ تندرست ہو ، اپنے آپ میں پر امن ہو اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک موجود ہو تو گویا اس کیلئے پوری دنیا کو جمع کردیا گیا ۔ “[ الترمذی : 2346 ، ابن ماجہ : 4141 ، وحسنہ الالبانی]
فارغ اوقات میں علومِ نافعہ کا مطالعہ :ناخوشگوار اور دکھ بھری زندگی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب زندگی کے فارغ اوقات کو بے مقصد بلکہ نقصان دہ چیزوں میں ضائع کرنا ہے ۔ مثلا ڈائجسٹوں میں عشق ومحبت کی جھوٹی داستانوں یا جاسوسی کی من گھڑت کہانیوں کے پڑھنے ، تاش اور شطرنج وغیرہ کھیلنے اور دن بھر میچ دیکھتے رہنے اور اس طرح کی دیگر فضولیات میں وقت ضائع کرنے سے یقینی طور پر دل مردہ ہوتا ہے اور ناخوشگواری میں اور اضافہ ہوتا ہے ۔ اس لیے اس کی بجائے مفید کتابوں مثلا تفسیر قرآن ، کتبِ حدیث ، کتبِ سیرت نبویہ وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے اور جھوٹی کہانیوں کی بجائے صحابہ کرام وتابعین عظام ؒ کی سوانح حیات کے سچے واقعات کو پڑھا جائے ۔ اور قرآن مجید کی تلاوت اورفائدہ مند تقاریر ولیکچرز کی کیسٹیں سنی جائیں تو اس سے یقینا اللہ تعالی بندہ¿ مومن کی زندگی کو بابرکت بنادیتا ہے اور اسے پریشانیوں سے نجات دیتا ہے ۔
فارغ وقت اللہ تعالی کی ایک نعمت ہے جس کی قدرو منزلت سے بہت سارے لوگ غافل رہتے ہیں ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
” دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سارے لوگ گھاٹے میں رہتے ہیں : تندرستی اور فارغ وقت ۔ “ [ البخاری ۔ الرقاق باب الصحة والفراغ : 6412 ]
یعنی جو لوگ فارغ اوقات کو اللہ تعالی کی اطاعت میں نہیں کھپاتے وہ یقینا گھاٹے میں رہتے ہیں ۔ اس لئے فارغ اوقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسان کو زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانی چاہیے ۔ ورنہ یہ بات یاد رہے کہ قیامت کے دن فارغ اوقات کے بارے میں بھی باز پرس ہو گی کہ انہیں اللہ کی اطاعت میں لگایا تھا یا اس کی نافرمانی میں ضائع کردیا تھا ؟ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
” کسی بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہل سکیں گے جب تک اس سے چار سوالات نہیں کر لئے جائیں گے : اس نے اپنی عمر کو کس چیز میں ختم کیا ؟ اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا ؟ اور اس نے اپنا مال کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا ؟ اور اس نے اپنے جسم کو کس چیز میں بوسیدہ کیا ؟ “[الترمذی ۔ بحوالہ صحیح الجامع للالبانی : 7300]

مسلمانوں کی پریشانیاں دور کرنا:

دنیا میں دکھوں اور پریشانیوں سے نجات پانے کیلئے بارہواں اصول یہ ہے کہ آپ اپنے مسلمان بھائیوں کی پریشانیاں دور کرنے میں ان کی مدد کریں ، اللہ تعالی آپ کی پریشانیاں دور کرے گا اور آپ کو خوشحالی وسعادتمندی نصیب کرے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکا ارشاد گرامی ہے :
” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی دعا قبول کی جائے اور اس کی پریشانی دور کی جائے تو و ہ تنگ دست کی پریشانی کو دور کرے ۔“ [ احمد ۔ ج 2 ص23 ، وذکرہ الہیثمی فی مجمع الزوائد ج 4 ص133 ]یعنی ایک تنگ حال کی تنگی وپریشانی دور کرنے سے اللہ تعالی اس کی دعا کو قبولیت سے نوازتا ہے اور اس کی پریشانیاں دور کردیتا ہے ۔
اخیرمیں ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہم سب کو خوشگوار زندگی نصیب کرے ، ایمان وعمل کی سلامتی دے اور ہمیں تمام پریشانیوں، دکھوں اور صدموں سے محفوظ رکھے ۔ آمین

٭٭٭

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*