اسلام پر غیرمسلموں کے اعتراضات اوران کے جوابات

ڈاکٹر ذاکرعبدالکریم نائک

کیا الٹراسونوگرافی قرآنی آیا ت کی نفی کرتا ہے 
سوال: قرآن کریم کہتا ہے کہ کسی ماں کے رحم میں موجود بچے کی جنس صرف اللہ ہی کو معلوم ہوتی ہے لیکن اب سائنس ترقی کرچکی ہے اورہم بآسانی الٹراسونوگرافی کے ذریعے سے جنین کی جنس کا تعین کرسکتے ہیں ۔ کیایہ آیت قرآنی میڈیکل سائنس سے متصادم نہیں ؟
جواب:اللہ تعالی قادر مطلق اورعلیم وخبیرہے ،اس نے بعض چیزوںکا علم انسانوںکوبھی عطافرمایاہے لیکن ہر حاضراورغائب چیز کا علم صرف اللہ ہی کو ہے ۔
علم غیب صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے :
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ قرآن کریم کا یہ دعوی ہے کہ صرف اللہ ہی رحم مادرمیں جنین کی جنس کو جانتا ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن مجید کہتا ہے :
”بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے اوروہی بارش نازل کرتا ہے اوروہی جانتا ہے جوکچھ ماو¿ں کے پیٹوںمیں ہے ۔ “ (لقمان 34µ)
اسی طرح کا ایک پیغام مندرجہ ذیل آیت میں دیاگیاہے :
”اللہ ہی جانتا ہے جو کچھ ہرمادہ پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے ،اورارحام کی کمی بیشی بھی،اوراس کے ہاں ہرچیز کی مقدار(مقرر) ہے ۔“( الرعد 8)
الٹراسونوگرافی سے جنس کا تعین :
موجودہ سائنس ترقی کرچکی ہے اورہم الٹراسونوگرافی کی مدد سے حاملہ خاتون کے رحم میں بچے کی جنس کا تعین بآسانی کرسکتے ہیں ۔
قرآن اورجنین کی جنس :
یہ درست ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت کے متعدد تراجم اورتشریحات میں یہ کہاگیاہے کہ صرف اللہ تعالی ہی یہ جانتا ہے کہ رحم مادرمیں موجودبچے کی جنس کیاہے ۔ لیکن اگر آپ اس آیت کا عربی متن پڑھیں توآپ دیکھیں گے کہ انگریزی کے لفظ جنس کا کوئی متبادل عربی لفظ استعمال نہیں ہوا ۔ درحقیقت قرآن کریم جو کچھ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ ارحام میں کیا ہے ،اس کا علم صرف اللہ تعالی کو ہے ۔بہت سے مفسرین کو غلط فہمی ہوئی اورانہوںنے اس سے یہ مطلب لیاکہ اللہ ہی رحم مادرمیں بچے کی جنس سے واقف ہے ۔یہ درست نہیں ۔یہ آیت جنین کی جنس کی طرف اشارہ نہیں کرتی بلکہ اس کا اشارہ اس طرف ہے کہ رحم مادر میں موجود بچے کی فطرت کیسی ہوگی ۔ کیا وہ اپنے ماں باپ کے لیے بابرکت اورباسعادت ہوگا یاباعث زحمت ہوگا ؟ کیا وہ معاشرے کے لیے باعث رحمت ہوگا یا باعث عذاب ؟ کیا وہ نیک ہوگا یا بد؟ کیا وہ جنت میں جائے گایا جہنم میں ؟ ان تمام باتوںکا مکمل علم اللہ تعالی ہی کے پاس ہے ۔ دنیا کا کوئی سائنس داںخواہ اس کے پاس کیسے ہی ترقی یافتہ آلات کیوںنہ ہوں رحم مادر میں موجود بچے کے بارے میں کبھی ان باتوں کا صحیح جواب نہیں دے سکے گا ۔
(ابتدائی مراحل میں جب نطفہ اورعلقہ رحم مادرمیں ہوتا ہے توکوئی سائنس داںبھی اس کا تعین نہیں کرسکتا کہ اس کی جنس کیاہے ۔ پھر آلات کے ذریعے سے معلوم کرنا تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی آپریشن کرکے کہے کہ مجھے اس کی جنس معلوم ہوگئی ہے ۔ حالانکہ یہ اسباب کے بغیرمعلوم کرنے کی نفی ہے اورایسے واقعات بھی سننے میں آئے ہیں کہ ڈاکٹر کی رپورٹ کے خلاف نتیجہ نکلا ہے ،یعنی ڈاکٹری رپورٹ حتمی اور یقینی نہیں ۔ عثمان منیب )

کفار کے دلوں پر مہرلگنے کے بعد وہ قصوروار کیوں؟

سوال: اگر اللہ نے کافروں یعنی غیرمسلموں کے دلوں پر مہرلگادی ہے تو پھر انہیں اسلام قبول نہ کرنے کا قصوروار کیسے ٹھہرایا جاسکتا ہے ؟ 

جواب:اللہ تعالی سورہ بقرہ کی آیات نمبر 6اور7میں فرماتاہے :”بیشک جن لوگوںنے کفر کیاان کے لیے یکساں ہے ،خواہ آپ انہیں خبردار کریں یانہ کریں ،بہرحال وہ ایمان لانے والے نہیں ۔اللہ نے ان کے دلوںاوران کے کانوںپر مہرلگادی ہے اوران کی آنکھوںپر پردہ پڑگیاہے اوران کے لیے بہت بڑا عذاب ہے ۔“
یہ آیات عام کفار کی طرف اشارہ نہیں کرتیں جو ایمان نہیں لائے ۔قرآن کریم میں ان کے لیے انَّ الَّذِینَ کَفَرُوا کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ،یعنی وہ لوگ جو حق کو ردکرنے پر تلے ہوئے ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاگیاہے کہ” تم انہیں خبردار کرویا نہ کرو،یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں اللہ نے ان کے دلوں پر مہرلگادی ہے اوران کے کانوں اورآنکھوں پر پردہ ڈال دیاہے ۔“
اوریہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ نے ان کے دلوںپر مہر لگا دی ہے اس لیے وہ نہ سمجھتے ہیں اورنہ ایمان لاتے ہیں بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ کفار بہرصورت حق کو مسترد کرنے پرتلے ہوئے ہیں اورآپ انہیں تنبیہ کریں یا نہ کریں وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے ، لہذا اس کا ذمہ دار اللہ نہیں بلکہ کفار خودہیں ۔
ایک مثال سے وضاحت :
فرض کیجئے کہ ایک تجربہ کار استاد آخری (فائنل ) امتحانات سے قبل یہ پیشین گوئی کرتا ہے کہ فلاں طالب علم امتحان میں فیل ہوجائے گا ،اس لیے کہ وہ بہت شریر ہے،سبق پر توجہ نہیں دیتا اوراپنا ہوم ورک کرکے نہیں لاتا ۔ اب اگروہ امتحان میں ناکام رہتا ہے تواس کا قصوروار کسے ٹھہرایا جائے گا،استاد کو یا طالبعلم کو ؟ استاد کو صرف اس وجہ سے کہ استاد نے پیشین گوئی کردی تھی ‘ طالب علم کی ناکامی کا ذمہ دارقرار نہیں دیاجاسکتا، اسی طرح اللہ تعالی کوبھی پیشگی علم ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے حق کو ٹھکرانے کا تہیہ کررکھا ہے اوراللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے ،لہذا وہ غیرمسلم خود ایمان اوراللہ سے منہ موڑنے کے ذمہ دار ہیں ۔
اللہ تعالی کی طرف گمراہ کرنے یا دلوں پر مہرلگانے کی نسبت اس لیے درست نہیں کہ اللہ تعالی نے انبیاء و رسل بھیج کر اور آسمانوں سے کتابیں نازل فرماکر انسانوں کے لیے راہ حق واضح کردی ۔اب جنہوں نے حق قبول کیا وہ ہدایت یافتہ اورکامیاب ٹھہرے اورجنہوں نے حق سے منہ موڑا اورانبیاء و رسل کو ستایا، اللہ نے انہیں گمراہی میں پڑا رہنے دیا اورحق کی توفیق نہ دی ۔

٭٭٭

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*